<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 12:15:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 12:15:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جرمنی کا افغان پناہ گزینوں کی انٹری بحال کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276267/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمنی نے کئی ماہ سے رکے ہوئے اپنے اس پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت طالبان کے دورِ حکومت میں خطرے سے دوچار افغان شہریوں کو پناہ دی جانی تھی۔ جرمن اخبار ویلٹ کے مطابق تقریباً 2,000 افغان شہری، جو اس اسکیم کے تحت منظوری پا چکے تھے، پاکستان میں پھنسے ہوئے تھے کیونکہ برلن نے اس پروگرام کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیموں اور متاثرہ افغان خاندانوں نے اس فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کیا تھا، جہاں بعض فیصلوں نے جرمن حکومت پر دباؤ بڑھا دیا۔ معاملہ اس وقت اور زیادہ سنجیدہ ہوگیا جب پاکستان نے یکم ستمبر کی ڈیڈ لائن سے قبل افغان مہاجرین کی ملک بدری کی کارروائیاں تیز کر دیں، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو جرمنی کے ری لوکیشن پروگرام میں رجسٹرڈ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو اب اطلاع دی جا چکی ہے اور توقع ہے کہ پہلے افغان خاندان آئندہ چند دنوں میں جرمنی روانہ ہو جائیں گے۔ حکومت ان افراد کو دبئی یا استنبول میں مختصر قیام کے بعد عام کمرشل پروازوں کے ذریعے منتقل کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ تصدیقی عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور عملے کو پاکستان میں کیسز کی پراسیسنگ کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔ تاہم وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ نے مزید تبصرے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جرمنی نے کئی ماہ سے رکے ہوئے اپنے اس پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت طالبان کے دورِ حکومت میں خطرے سے دوچار افغان شہریوں کو پناہ دی جانی تھی۔ جرمن اخبار ویلٹ کے مطابق تقریباً 2,000 افغان شہری، جو اس اسکیم کے تحت منظوری پا چکے تھے، پاکستان میں پھنسے ہوئے تھے کیونکہ برلن نے اس پروگرام کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔</strong></p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیموں اور متاثرہ افغان خاندانوں نے اس فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کیا تھا، جہاں بعض فیصلوں نے جرمن حکومت پر دباؤ بڑھا دیا۔ معاملہ اس وقت اور زیادہ سنجیدہ ہوگیا جب پاکستان نے یکم ستمبر کی ڈیڈ لائن سے قبل افغان مہاجرین کی ملک بدری کی کارروائیاں تیز کر دیں، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو جرمنی کے ری لوکیشن پروگرام میں رجسٹرڈ تھے۔</p>
<p>اخبار کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو اب اطلاع دی جا چکی ہے اور توقع ہے کہ پہلے افغان خاندان آئندہ چند دنوں میں جرمنی روانہ ہو جائیں گے۔ حکومت ان افراد کو دبئی یا استنبول میں مختصر قیام کے بعد عام کمرشل پروازوں کے ذریعے منتقل کرے گی۔</p>
<p>جرمن وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ تصدیقی عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور عملے کو پاکستان میں کیسز کی پراسیسنگ کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔ تاہم وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ نے مزید تبصرے سے گریز کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276267</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Aug 2025 15:09:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/261509055892613.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/261509055892613.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
