<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک بھر میں ناکارہ پنکھوں کی تبدیلی کیلئے 3.5 ارب ڈالر کی فنانسنگ درکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276244/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نییکا) کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی فنانسنگ درکار ہے تاکہ ملک بھر میں 88 ملین غیر مؤثر پنکھوں (50 ملین دیہی اور 38 ملین شہری گھروں میں) کو مختلف فنانسنگ انتظامات کے تحت تبدیل کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے حال ہی میں وزیراعظم پنکھا تبدیلی پروگرام کی منظوری دی ہے، جس کے لیے وزارتِ خزانہ مرحلہ وار انداز میں 2 ارب روپے کے ٹیکنیکل سپلائی گرانٹ (ٹی ایس جی) فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروگرام کے تحت آئندہ 10 سال میں پاکستان بھر کے اندازاً 147 ملین پنکھوں میں سے 88 ملین کو تبدیل کیا جائے گا، جس سے بجلی کے بوجھ میں 5,000 میگاواٹ تک کمی متوقع ہے، خاص طور پر گرمیوں میں قومی گرڈ پر دباؤ کم ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کو پنکھے اقساط پر خریدنے کی سہولت آن-بل فنانسنگ ماڈل کے تحت دی جائے گی، جس میں قسطیں براہ راست بجلی کے بل میں شامل ہوں گی۔ شراکت دار بینک یہ فنانسنگ کیبور پلس 2 فیصد پر فراہم کریں گے، جس کی مدت 18 ماہ تک ہوگی۔ پنکھے کی قیمت 10,000 سے 30,000 روپے تک ہوگی۔ بینکوں کو ترغیب دینے کے لیے حکومت نے 1.5 ارب روپے رسک گارنٹی مختص کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فنانسنگ ماڈل اسلامی اصول مساومہ پر مبنی ہے، جس پر تمام بینک متفق ہیں۔ وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک نے مالیاتی اداروں کو شامل کرنے اور صارفین کے لیے آسان اہلیت کے معیار طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو بنیادی طور پر بروقت بلوں کی ادائیگی پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروگرام مکمل طور پر رضاکارانہ ہے۔ صارفین نییکا آن لائن پورٹل (ویب اور موبائل ایپ) کے ذریعے درخواست دے سکیں گے۔ پنکھا ساز کمپنیوں کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ بروقت فائیو اسٹار انرجی ایفیشنٹ پنکھے نصب کریں، فروخت کے بعد سروس فراہم کریں اور پرانے پنکھوں کو صحیح طریقے سے ہٹائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم نکات یہ ہیں:
1 )بجلی کے صارفین جن کے نام پر میٹر اور بل ہیں، اہل ہوں گے۔
2) پورا عمل ڈیجیٹل ہوگا، جس میں درخواست، منظوری، پنکھے کی ترسیل اور اقساط شامل ہوں گی۔
3) اقساط بجلی کے بل میں شامل ہوں گی اور بینک اس رقم کو کاٹ کر ڈسکوز کے کھاتوں میں منتقل کریں گے۔
4) قرض پر شرح سود کیبور پلس 2 فیصد  ہوگی، حکومت 10 فیصد فرسٹ لاس گارنٹی فراہم کرے گی۔
5) نییکا اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پنکھے کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ نہ ہو۔
6) اسٹیٹ بینک اور پاور ڈویژن بینکوں، ڈسکوز اور مینوفیکچررز کو آن بورڈ کریں گے۔
7)ڈسکوز اور پی آئی ٹی سی صارفین کی تفصیلات فراہم کریں گے تاکہ اہلیت کی جانچ ہو سکے اور بعد میں اقساط بجلی کے بلوں میں ظاہر کی جائیں گی؛ اور
8 ) حکومت 10 فیصد فرسٹ لاس گارنٹیز فراہم کرے گی تاکہ فنانسنگ ریٹ کو کیبور پلس 2 پر برقرار رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تخمینہ ہے کہ مالی سال 2025 میں اس اسکیم کے تحت 15 ارب روپے کی تقسیم پر 1.5 ارب روپے خرچ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی گرمیوں میں کل بجلی کی طلب 30,154 میگاواٹ جبکہ سردیوں میں صرف 12,500 میگاواٹ رہتی ہے، جس میں سے تقریباً 17,610 میگاواٹ بوجھ پنکھوں اور ایئرکنڈیشنرز کے استعمال سے آتا ہے۔ ان میں سے صرف پنکھوں کا استعمال ہی 11,799 میگاواٹ (67 فیصد) بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نییکا) کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی فنانسنگ درکار ہے تاکہ ملک بھر میں 88 ملین غیر مؤثر پنکھوں (50 ملین دیہی اور 38 ملین شہری گھروں میں) کو مختلف فنانسنگ انتظامات کے تحت تبدیل کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>حکومت نے حال ہی میں وزیراعظم پنکھا تبدیلی پروگرام کی منظوری دی ہے، جس کے لیے وزارتِ خزانہ مرحلہ وار انداز میں 2 ارب روپے کے ٹیکنیکل سپلائی گرانٹ (ٹی ایس جی) فراہم کرے گی۔</p>
<p>پروگرام کے تحت آئندہ 10 سال میں پاکستان بھر کے اندازاً 147 ملین پنکھوں میں سے 88 ملین کو تبدیل کیا جائے گا، جس سے بجلی کے بوجھ میں 5,000 میگاواٹ تک کمی متوقع ہے، خاص طور پر گرمیوں میں قومی گرڈ پر دباؤ کم ہو گا۔</p>
<p>صارفین کو پنکھے اقساط پر خریدنے کی سہولت آن-بل فنانسنگ ماڈل کے تحت دی جائے گی، جس میں قسطیں براہ راست بجلی کے بل میں شامل ہوں گی۔ شراکت دار بینک یہ فنانسنگ کیبور پلس 2 فیصد پر فراہم کریں گے، جس کی مدت 18 ماہ تک ہوگی۔ پنکھے کی قیمت 10,000 سے 30,000 روپے تک ہوگی۔ بینکوں کو ترغیب دینے کے لیے حکومت نے 1.5 ارب روپے رسک گارنٹی مختص کی ہے۔</p>
<p>یہ فنانسنگ ماڈل اسلامی اصول مساومہ پر مبنی ہے، جس پر تمام بینک متفق ہیں۔ وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک نے مالیاتی اداروں کو شامل کرنے اور صارفین کے لیے آسان اہلیت کے معیار طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو بنیادی طور پر بروقت بلوں کی ادائیگی پر مبنی ہے۔</p>
<p>پروگرام مکمل طور پر رضاکارانہ ہے۔ صارفین نییکا آن لائن پورٹل (ویب اور موبائل ایپ) کے ذریعے درخواست دے سکیں گے۔ پنکھا ساز کمپنیوں کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ بروقت فائیو اسٹار انرجی ایفیشنٹ پنکھے نصب کریں، فروخت کے بعد سروس فراہم کریں اور پرانے پنکھوں کو صحیح طریقے سے ہٹائیں۔</p>
<p>اہم نکات یہ ہیں:
1 )بجلی کے صارفین جن کے نام پر میٹر اور بل ہیں، اہل ہوں گے۔
2) پورا عمل ڈیجیٹل ہوگا، جس میں درخواست، منظوری، پنکھے کی ترسیل اور اقساط شامل ہوں گی۔
3) اقساط بجلی کے بل میں شامل ہوں گی اور بینک اس رقم کو کاٹ کر ڈسکوز کے کھاتوں میں منتقل کریں گے۔
4) قرض پر شرح سود کیبور پلس 2 فیصد  ہوگی، حکومت 10 فیصد فرسٹ لاس گارنٹی فراہم کرے گی۔
5) نییکا اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پنکھے کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ نہ ہو۔
6) اسٹیٹ بینک اور پاور ڈویژن بینکوں، ڈسکوز اور مینوفیکچررز کو آن بورڈ کریں گے۔
7)ڈسکوز اور پی آئی ٹی سی صارفین کی تفصیلات فراہم کریں گے تاکہ اہلیت کی جانچ ہو سکے اور بعد میں اقساط بجلی کے بلوں میں ظاہر کی جائیں گی؛ اور
8 ) حکومت 10 فیصد فرسٹ لاس گارنٹیز فراہم کرے گی تاکہ فنانسنگ ریٹ کو کیبور پلس 2 پر برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p>تخمینہ ہے کہ مالی سال 2025 میں اس اسکیم کے تحت 15 ارب روپے کی تقسیم پر 1.5 ارب روپے خرچ ہوں گے۔</p>
<p>پاکستان کی گرمیوں میں کل بجلی کی طلب 30,154 میگاواٹ جبکہ سردیوں میں صرف 12,500 میگاواٹ رہتی ہے، جس میں سے تقریباً 17,610 میگاواٹ بوجھ پنکھوں اور ایئرکنڈیشنرز کے استعمال سے آتا ہے۔ ان میں سے صرف پنکھوں کا استعمال ہی 11,799 میگاواٹ (67 فیصد) بنتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276244</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Aug 2025 10:16:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/261014440d1a285.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/261014440d1a285.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
