<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان-چین بی ٹو بی کانفرنس میں 5 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کا ہدف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276240/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیجنگ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان نے 5 ارب ڈالر تک کی نئی سرمایہ کاری کو ہدف بنایا ہے، جو 4 ستمبر کو بیجنگ میں ہونے والی پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس ( بی ٹو بی) انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران متوقع ہے۔ یہ کانفرنس شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سمٹ 2025 کے موقع پر منعقد ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کانفرنس اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد روایتی حکومتی سطح سے آگے بڑھ کر براہِ راست کاروباری شراکت داریوں کے ذریعے چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ مقصد مختلف کلیدی شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے سفیر برائے چین، خلیل ہاشمی نے بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ پاکستان علامتی اقدامات کے بجائے عملی نتائج پر توجہ دے رہا ہے۔ ان کے بقول: ہم صرف ہاتھ ملانے نہیں بلکہ معاہدے گن رہے ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق 70 سے 75 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) اور 40 کے قریب مشترکہ منصوبوں پر دستخط ہوں گے۔ اگر رفتار برقرار رہی تو سرمایہ کاری 5 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے، اور 100 سے زیادہ ایم او یوز بھی ممکن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیل ہاشمی کے مطابق اسلام آباد کی اقتصادی سفارت کاری کا یہ ایک اہم قدم ہے، جسے سفارتخانہ بیجنگ، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور وفاقی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ گزشتہ برس 1.2 ارب ڈالر مالیت کے ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں سے 20 فیصد سے زائد عملی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف رسمی تقاریب نہیں بلکہ حقیقی کاروباری نتائج کا عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری پاکستان-چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس میں ٹیکسٹائل، لیدر، زراعت، ماہی پروری، پلاسٹک اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) جیسے شعبے مرکزی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ اب تک سفارتخانے کی کوششوں سے 850  بی ٹو بی ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن سے 45 ایم او یوز وجود میں آئے جن کی مالیت 600 ملین ڈالر ہے، جب کہ 60 مزید ایم او یوز پر بات چیت آخری مراحل میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری بھی بڑھائی گئی ہے، جس میں بڑے ہوائی اڈوں پر خصوصی لاؤنج، صوبائی دارالحکومتوں میں ون ونڈو فسیلیٹیشن سینٹرز اور ویزا نظام میں نرمی شامل ہے۔ خلیل ہاشمی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو سرمایہ کار دوست بنانے کے لیے شینزین ماڈل اپنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ثقافتی سفارت کاری کو بھی حکمت عملی میں شامل کیا گیا ہے، جیسے بیجنگ میں آم میلے اور شنگھائی میں فیشن شوز، تاکہ پاکستان کی سافٹ پاور کو تجارتی مواقع کے ساتھ جوڑا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی خدشات کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا: ادراک دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف اس سال 200 چینی کمپنیاں پاکستان کا دورہ کرچکی ہیں، جو ہمارے اعتماد سازی اقدامات کا ثبوت ہے۔”*&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیل ہاشمی نے کہا کہ ستمبر کی یہ کانفرنس پاکستان کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ محتاط اندازے بھی اہم ہیں لیکن زیادہ پرعزم تخمینے پاکستان کو چینی سرمایہ کاری کے بڑے امیدوار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں: ہم صرف کانفرنسز نہیں کروا رہے بلکہ پُل بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بیجنگ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان نے 5 ارب ڈالر تک کی نئی سرمایہ کاری کو ہدف بنایا ہے، جو 4 ستمبر کو بیجنگ میں ہونے والی پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس ( بی ٹو بی) انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران متوقع ہے۔ یہ کانفرنس شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سمٹ 2025 کے موقع پر منعقد ہوگی۔</strong></p>
<p>یہ کانفرنس اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد روایتی حکومتی سطح سے آگے بڑھ کر براہِ راست کاروباری شراکت داریوں کے ذریعے چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ مقصد مختلف کلیدی شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے سفیر برائے چین، خلیل ہاشمی نے بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ پاکستان علامتی اقدامات کے بجائے عملی نتائج پر توجہ دے رہا ہے۔ ان کے بقول: ہم صرف ہاتھ ملانے نہیں بلکہ معاہدے گن رہے ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق 70 سے 75 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) اور 40 کے قریب مشترکہ منصوبوں پر دستخط ہوں گے۔ اگر رفتار برقرار رہی تو سرمایہ کاری 5 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے، اور 100 سے زیادہ ایم او یوز بھی ممکن ہیں۔</p>
<p>خلیل ہاشمی کے مطابق اسلام آباد کی اقتصادی سفارت کاری کا یہ ایک اہم قدم ہے، جسے سفارتخانہ بیجنگ، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور وفاقی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ گزشتہ برس 1.2 ارب ڈالر مالیت کے ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں سے 20 فیصد سے زائد عملی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف رسمی تقاریب نہیں بلکہ حقیقی کاروباری نتائج کا عمل ہے۔</p>
<p>دوسری پاکستان-چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس میں ٹیکسٹائل، لیدر، زراعت، ماہی پروری، پلاسٹک اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) جیسے شعبے مرکزی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ اب تک سفارتخانے کی کوششوں سے 850  بی ٹو بی ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن سے 45 ایم او یوز وجود میں آئے جن کی مالیت 600 ملین ڈالر ہے، جب کہ 60 مزید ایم او یوز پر بات چیت آخری مراحل میں ہے۔</p>
<p>چینی سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری بھی بڑھائی گئی ہے، جس میں بڑے ہوائی اڈوں پر خصوصی لاؤنج، صوبائی دارالحکومتوں میں ون ونڈو فسیلیٹیشن سینٹرز اور ویزا نظام میں نرمی شامل ہے۔ خلیل ہاشمی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو سرمایہ کار دوست بنانے کے لیے شینزین ماڈل اپنایا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ثقافتی سفارت کاری کو بھی حکمت عملی میں شامل کیا گیا ہے، جیسے بیجنگ میں آم میلے اور شنگھائی میں فیشن شوز، تاکہ پاکستان کی سافٹ پاور کو تجارتی مواقع کے ساتھ جوڑا جا سکے۔</p>
<p>سیکیورٹی خدشات کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا: ادراک دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف اس سال 200 چینی کمپنیاں پاکستان کا دورہ کرچکی ہیں، جو ہمارے اعتماد سازی اقدامات کا ثبوت ہے۔”*</p>
<p>خلیل ہاشمی نے کہا کہ ستمبر کی یہ کانفرنس پاکستان کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ محتاط اندازے بھی اہم ہیں لیکن زیادہ پرعزم تخمینے پاکستان کو چینی سرمایہ کاری کے بڑے امیدوار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں: ہم صرف کانفرنسز نہیں کروا رہے بلکہ پُل بنا رہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276240</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Aug 2025 09:38:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نزہت نذر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/260937359eb4cc9.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/260937359eb4cc9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
