<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا حکومت آٹو انڈسٹری کو دیوار سے لگا رہی ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276239/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت  مقامی آٹو انڈسٹری کو نئی پالیسیوں اور اقدامات کے ذریعے دباؤ میں ڈال رہی ہے، جن میں درآمدی ڈیوٹی میں بتدریج کمی اور پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں حالیہ اجلاس میں آٹو انڈسٹری کے لیے 1958 کے معاہدے کے تحت اضافی اقوامِ متحدہ کے ضوابط (یو این آرز) کے نفاذ پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں صنعت کو 86 نئے ضوابط پیش کیے گئے اور پاپام (پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز)  اور پاما (پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)  سے انہیں معیار کے طور پر اپنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت ای ڈی بی (انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ) کے سی ای او کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے کے بی علی نے کی، جبکہ وزارتِ صنعت و پیداوار کے ایڈیشنل سیکرٹری عاصف سعید خان لغمانی بھی شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک شریک کار نے کہا کہ حکومتی سطح پر اقوامِ متحدہ کے ضوابط کے بارے میں کئی غلط فہمیاں ہیں اور انہیں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کو منظم کرنے، معیار بہتر بنانے اور پاکستان کی آٹوموبائل برآمدات بڑھانے کا فوری حل سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی آٹو سیکٹر پالیسی کے اصل مقاصد کو سمجھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ای ڈی بی کے دستاویزات کے مطابق پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ پاکستان کے معیارات دنیا کی سب سے ترقی یافتہ آٹو انڈسٹریز کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہوں۔ مثال کے طور پر: جاپان نے تقریباً 60 ضوابط اپنائے ہیں، ملائیشیا نے 2012 تک 19، تھائی لینڈ نے بھی تقریباً 19 جبکہ پاکستان، جس کی سالانہ پیداوار صرف دو لاکھ گاڑیاں ہے، 103 ضوابط اپنانے جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;31 جولائی 2025 کو انڈسٹری کے ساتھ طے پانے والے اتفاقِ رائے سے ای ڈی بی نے اچانک یوٹرن لے لیا اور اسے اعلیٰ سطح پر مسترد کر دیا گیا۔ انڈسٹری کے ایک نمائندے نے الزام لگایا کہ حکام کسی خفیہ ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں اور پیدا ہونے والے ابہام کا الزام آئی ایم ایف پر لگا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، مقصد پاکستان میں پیداواری لاگت کو اتنا بڑھانا ہے کہ مینوفیکچرنگ کے بجائے صرف تجارت منافع بخش رہے، جس کے نتیجے میں تکنیکی نوکریاں ختم ہو جائیں گی اور ملک صرف تجارتی معیشت بن کر رہ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹری کے ایک سینئر رکن نے کہا کہ صنعت پہلے ہی اپنی صلاحیت کے 50 فیصد سے بھی کم پر کام کر رہی ہے اور مارکیٹ کا تقریباً 25 فیصد استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متاثر ہو چکا ہے۔ اب کمرشل درآمد کی نئی پالیسی اس شعبے کو مزید کمزور کر دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فی کس گاڑی رکھنے کی شرح ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے، جبکہ باضابطہ شعبہ سب سے زیادہ ٹیکس اور پیداواری لاگت کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ ایک نمایاں وینڈر نے کہا کہ گاڑی کی  تقریباً 60 فیصد قیمت صرف حکومتی ٹیکسز پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ اضافہ نیو انرجی وہیکل (این ای وی) لیوی ہے: 1300 سی سی تک کی گاڑیوں پر 1 فیصد، 1300 سے 1800 سی سی پر 2 فیصد اور 1800 سی سی سے زائد پر 3 فیصد۔ اس کے علاوہ 850 سی سی تک کی گاڑیوں پر جی ایس ٹی 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹری کے ایک بڑے پارٹس بنانے والے نے کہا کہ پیغام واضح ہے: حکومت کو آٹو انڈسٹری کی اب ضرورت نہیں۔ اگر یہی سلسلہ رہا تو مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیاں عام خریدار کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔ اس طرح پاکستان ایک بڑی انڈسٹری بند کرنے کے راستے پر گامزن ہے، جس کے ساتھ 25 لاکھ سے زائد نوکریاں ختم ہونے کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت  مقامی آٹو انڈسٹری کو نئی پالیسیوں اور اقدامات کے ذریعے دباؤ میں ڈال رہی ہے، جن میں درآمدی ڈیوٹی میں بتدریج کمی اور پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت شامل ہے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں حالیہ اجلاس میں آٹو انڈسٹری کے لیے 1958 کے معاہدے کے تحت اضافی اقوامِ متحدہ کے ضوابط (یو این آرز) کے نفاذ پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں صنعت کو 86 نئے ضوابط پیش کیے گئے اور پاپام (پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز)  اور پاما (پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)  سے انہیں معیار کے طور پر اپنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت ای ڈی بی (انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ) کے سی ای او کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے کے بی علی نے کی، جبکہ وزارتِ صنعت و پیداوار کے ایڈیشنل سیکرٹری عاصف سعید خان لغمانی بھی شریک ہوئے۔</p>
<p>ایک شریک کار نے کہا کہ حکومتی سطح پر اقوامِ متحدہ کے ضوابط کے بارے میں کئی غلط فہمیاں ہیں اور انہیں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کو منظم کرنے، معیار بہتر بنانے اور پاکستان کی آٹوموبائل برآمدات بڑھانے کا فوری حل سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>مقامی آٹو سیکٹر پالیسی کے اصل مقاصد کو سمجھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ای ڈی بی کے دستاویزات کے مطابق پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ پاکستان کے معیارات دنیا کی سب سے ترقی یافتہ آٹو انڈسٹریز کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہوں۔ مثال کے طور پر: جاپان نے تقریباً 60 ضوابط اپنائے ہیں، ملائیشیا نے 2012 تک 19، تھائی لینڈ نے بھی تقریباً 19 جبکہ پاکستان، جس کی سالانہ پیداوار صرف دو لاکھ گاڑیاں ہے، 103 ضوابط اپنانے جا رہا ہے۔</p>
<p>31 جولائی 2025 کو انڈسٹری کے ساتھ طے پانے والے اتفاقِ رائے سے ای ڈی بی نے اچانک یوٹرن لے لیا اور اسے اعلیٰ سطح پر مسترد کر دیا گیا۔ انڈسٹری کے ایک نمائندے نے الزام لگایا کہ حکام کسی خفیہ ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں اور پیدا ہونے والے ابہام کا الزام آئی ایم ایف پر لگا رہے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق، مقصد پاکستان میں پیداواری لاگت کو اتنا بڑھانا ہے کہ مینوفیکچرنگ کے بجائے صرف تجارت منافع بخش رہے، جس کے نتیجے میں تکنیکی نوکریاں ختم ہو جائیں گی اور ملک صرف تجارتی معیشت بن کر رہ جائے گا۔</p>
<p>انڈسٹری کے ایک سینئر رکن نے کہا کہ صنعت پہلے ہی اپنی صلاحیت کے 50 فیصد سے بھی کم پر کام کر رہی ہے اور مارکیٹ کا تقریباً 25 فیصد استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متاثر ہو چکا ہے۔ اب کمرشل درآمد کی نئی پالیسی اس شعبے کو مزید کمزور کر دے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فی کس گاڑی رکھنے کی شرح ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے، جبکہ باضابطہ شعبہ سب سے زیادہ ٹیکس اور پیداواری لاگت کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ ایک نمایاں وینڈر نے کہا کہ گاڑی کی  تقریباً 60 فیصد قیمت صرف حکومتی ٹیکسز پر مشتمل ہے۔</p>
<p>حالیہ اضافہ نیو انرجی وہیکل (این ای وی) لیوی ہے: 1300 سی سی تک کی گاڑیوں پر 1 فیصد، 1300 سے 1800 سی سی پر 2 فیصد اور 1800 سی سی سے زائد پر 3 فیصد۔ اس کے علاوہ 850 سی سی تک کی گاڑیوں پر جی ایس ٹی 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>انڈسٹری کے ایک بڑے پارٹس بنانے والے نے کہا کہ پیغام واضح ہے: حکومت کو آٹو انڈسٹری کی اب ضرورت نہیں۔ اگر یہی سلسلہ رہا تو مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیاں عام خریدار کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔ اس طرح پاکستان ایک بڑی انڈسٹری بند کرنے کے راستے پر گامزن ہے، جس کے ساتھ 25 لاکھ سے زائد نوکریاں ختم ہونے کا خطرہ ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276239</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Aug 2025 09:29:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/260927545f2d11a.webp" type="image/webp" medium="image" height="1120" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/260927545f2d11a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
