<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں اسرائیل کی اسپتال پر بمباری، صحافیوں سمیت 15 افراد شہید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276231/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں واقع نصر اسپتال پر پیر کے روز اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد شہید ہو گئے، جن میں چار صحافی بھی شامل ہیں۔ یہ اطلاع فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق رائٹرز کے لیے کام کرنے والے کیمرہ مین حسام المصری پہلے فضائی حملے میں شہید ہوئے جبکہ اسی ادارے کے ایک اور کنٹریکٹر فوٹوگرافر حاتم خالد دوسرے حملے میں زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پہلا حملہ نصر اسپتال پر ہوا جس کے بعد جب ریسکیو ورکرز، صحافی اور دیگر شہری موقع پر پہنچے تو دوسرا حملہ کیا گیا جس میں مزید جانی نقصان ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی براہِ راست ویڈیو فیڈ جو نصر اسپتال سے حسام المصری چلا رہے تھے، پہلے حملے کے لمحے ہی اچانک بند ہو گئی، جس کی تصدیق رائٹرز کے فوٹیج سے ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے پر رائٹرز نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ناصر اسپتال پر اسرائیلی حملے میں ہمارے کنٹریکٹر حسام المصری کی شہادت اور حاتم خالد کے زخمی ہونے کی خبر سن کر ہمیں شدید افسوس ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ہم فوری طور پر مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور غزہ و اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہمارے زخمی کنٹریکٹر حاتم خالد کو فوری طبی امداد کی فراہمی میں مدد کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج اور وزیر اعظم کے دفتر نے نصر اسپتال پر کیے گئے حملوں پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کے محکمہ صحت نے واقعے میں شہید ہونے والے دیگر تین صحافیوں کی شناخت مریم ابو دقہ، محمد سلامہ اور معاذ ابو طہ کے طور پر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق مریم ابو دغہ غزہ جنگ کے آغاز سے اے پی سمیت مختلف اداروں کے لیے بطور فری لانس رپورٹر کام کر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ نے تصدیق کی کہ محمد سلامہ ان کے لیے رپورٹنگ کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ایک ریسکیو ورکر بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی صحافیوں کی تنظیم (فلسطینین جرنلسٹس سنڈیکیٹ) نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزاد صحافت کے خلاف کھلی جنگ قرار دیا اور کہا ہے کہ اس کا مقصد صحافیوں کو خوفزدہ کرنا اور انہیں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے روکنا ہے تاکہ وہ دنیا کے سامنے اسرائیلی مظالم کو بے نقاب نہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک 240 سے زائد فلسطینی صحافی اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں واقع نصر اسپتال پر پیر کے روز اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد شہید ہو گئے، جن میں چار صحافی بھی شامل ہیں۔ یہ اطلاع فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے دی ہے۔</strong></p>
<p>حکام کے مطابق رائٹرز کے لیے کام کرنے والے کیمرہ مین حسام المصری پہلے فضائی حملے میں شہید ہوئے جبکہ اسی ادارے کے ایک اور کنٹریکٹر فوٹوگرافر حاتم خالد دوسرے حملے میں زخمی ہو گئے۔</p>
<p>عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پہلا حملہ نصر اسپتال پر ہوا جس کے بعد جب ریسکیو ورکرز، صحافی اور دیگر شہری موقع پر پہنچے تو دوسرا حملہ کیا گیا جس میں مزید جانی نقصان ہوا۔</p>
<p>رائٹرز کی براہِ راست ویڈیو فیڈ جو نصر اسپتال سے حسام المصری چلا رہے تھے، پہلے حملے کے لمحے ہی اچانک بند ہو گئی، جس کی تصدیق رائٹرز کے فوٹیج سے ہوئی۔</p>
<p>اس واقعے پر رائٹرز نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ناصر اسپتال پر اسرائیلی حملے میں ہمارے کنٹریکٹر حسام المصری کی شہادت اور حاتم خالد کے زخمی ہونے کی خبر سن کر ہمیں شدید افسوس ہوا ہے۔</p>
<p>رائٹرز کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ہم فوری طور پر مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور غزہ و اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہمارے زخمی کنٹریکٹر حاتم خالد کو فوری طبی امداد کی فراہمی میں مدد کریں۔</p>
<p>اسرائیلی فوج اور وزیر اعظم کے دفتر نے نصر اسپتال پر کیے گئے حملوں پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>غزہ کے محکمہ صحت نے واقعے میں شہید ہونے والے دیگر تین صحافیوں کی شناخت مریم ابو دقہ، محمد سلامہ اور معاذ ابو طہ کے طور پر کی ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق مریم ابو دغہ غزہ جنگ کے آغاز سے اے پی سمیت مختلف اداروں کے لیے بطور فری لانس رپورٹر کام کر رہی تھیں۔</p>
<p>الجزیرہ نے تصدیق کی کہ محمد سلامہ ان کے لیے رپورٹنگ کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ایک ریسکیو ورکر بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہے۔</p>
<p>فلسطینی صحافیوں کی تنظیم (فلسطینین جرنلسٹس سنڈیکیٹ) نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزاد صحافت کے خلاف کھلی جنگ قرار دیا اور کہا ہے کہ اس کا مقصد صحافیوں کو خوفزدہ کرنا اور انہیں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے روکنا ہے تاکہ وہ دنیا کے سامنے اسرائیلی مظالم کو بے نقاب نہ کر سکیں۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک 240 سے زائد فلسطینی صحافی اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276231</guid>
      <pubDate>Mon, 25 Aug 2025 22:10:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/25182917da58157.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/25182917da58157.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
