<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:33:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:33:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی معیشت کی بحالی کے ساتھ پی ایس ایکس کی بلند پرواز، آگے کیا متوقع ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276228/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے حالیہ دو برسوں کے دوران غیرمعمولی ریلی برقرار رکھتے ہوئے ایکویٹی سرمایہ کاری پر 3.75 گنا منافع فراہم کیا ہے، جو ملکی مالیاتی منڈی کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جون 2023 میں تقریباً 40,000 پوائنٹس کی سطح سے بڑھ کر گزشتہ ہفتے تاریخی بلندی یعنی 151,261.67 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح تک پہنچا، جو مقامی معیشت میں مثبت پیش رفتوں کا واضح عکس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے بعد انڈیکس جمعہ 22 اگست کو 149,493 پوائنٹس پر بندا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر قیمت بمقابلہ آمدنی (پرائس ٹو ارننگ/ پی ای) تناسب کی بات کی جائے تو پی ایس ایکس اس وقت 7 سے 7.5 گنا کی حد میں ٹریڈ کر رہا ہے، جو وسط 2023 میں صرف 3 گنا تھا۔ تاریخی طور پر پی ایس ایکس کا اوسط پی/ای تناسب تقریباً 8 رہا ہے، چنانچہ حالیہ اضافے کے بعد مارکیٹ اپنی طویل مدتی اوسط کے قریب پہنچ چکی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت منڈی اپنی ”حقیقی قدر“ (فیئر ویلیو) کے آس پاس ٹریڈ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس بھارتی اسٹاک مارکیٹ کے بینچ مارک بی ایس ای سینسیکس کا پی/ ای تناسب اس وقت 22.8 کے قریب ہے، جو پی ایس ایکس کے مقابلے میں خاصا بلند سطح پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف کی معاونت اور روپے کا استحکام&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف کاروباری شخصیت اور تجربہ کار اسٹاک بروکر عارف حبیب نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا آغاز جون 2023 میں اُس وقت ہوا جب عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے تین ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج فراہم کیا، جس نے ملکی معیشت کو ممکنہ ڈیفالٹ سے بچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق جولائی 2024 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ 7 ارب ڈالر مالیت کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام پر اسٹاف سطح کا معاہدہ کیا۔ یہ 37 ماہ پر محیط پروگرام اقتصادی اصلاحات اور استحکام کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس نے ملک کی غیرمستحکم معیشت کو سہارا دے کر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس کی شاندار تیزی جاری رہی اور اگست 2025 میں یہ 150,000 پوائنٹس کی بے مثال حد کے قریب پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے دونوں پروگراموں کے درمیانی عرصے میں، ستمبر 2023 میں حکومت نے مقامی کرنسی کو مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے غیر قانونی کرنسی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں اور متعدد انتظامی اقدامات اختیار کیے گئے، جس کے بعد روپے کی قدر میں بہتری آئی۔ یاد رہے کہ اس وقت ڈالر کے مقابلے میں روپیہ اپنی تاریخی کم ترین سطح 307 روپے فی ڈالر تک گر چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب نے مزید بتایا کہ روپے کی بحالی کی جانب پیش رفت نے مارکیٹ کے جذبات کو سہارا دیا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جاری تیزی کو مزید بلندی کی جانب لے جانے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک انڈیکس کو حکومت کے دیگر مثبت فیصلوں سے بھی تقویت ملی، جن میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (اے ٹی ٹی) کے غلط استعمال کا خاتمہ اور مئی 2023 میں مہنگائی کا 38 فیصد کی دہائیوں پر محیط بلند ترین سطح پر پہنچ کر نیچے آنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب مہنگائی میں کمی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے تو مارکیٹ میں مرکزی بینک کی پالیسی ریٹ میں ممکنہ کمی کی توقعات نے جنم لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی پس منظر میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے تقریباً ایک سال بعد اپنی پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کرتے ہوئے اسے جون 2024 کی بلند ترین سطح 22 فیصد سے کم کر کے مئی 2025 میں 11 فیصد پر لے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری شخصیت نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت ڈیفالٹ کے خدشے پر قابو پانا، روپے کا استحکام، مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں واضح کمی، ان تمام عوامل نے پی ایس ایکس میں تاریخی تیزی کی مضبوط بنیاد فراہم کی، جس کے تحت انڈیکس دو سال کے اندر 40,000 پوائنٹس سے بڑھ کر 150,000 پوائنٹس سے بھی آگے نکل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران  بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں بشمول فچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مارکیٹ میں لیکویڈیٹی (نقدی کی دستیابی) کا بہتر ہونا، یہ سب عوامل بھی انڈیکس کو بلند ترین سطح عبور کرانے میں معاون ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل نے گزشتہ ہفتے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کا تقابل 2001 سے 2008 کے درمیان جاری رہنے والی مسلسل اوپر جاتی ہوئی مارکیٹ سے کیا جا سکتا ہے، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 1,000 پوائنٹس سے بڑھ کر 15,000 پوائنٹس کی سطح تک جا پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس بار جون 2023 میں 40,000 پوائنٹس سے شروع ہونے والی تیزی اگست 2025 تک 150,000 پوائنٹس کی سطح تک پہنچی ہے، یعنی محض دو سال میں انڈیکس 3.75 گنا اضافہ ظاہر کر چکا ہے، جس کی بنیاد مضبوط معاشی اشاریوں، اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکٹورل کارکردگی: توانائی اور بینکنگ سرِفہرست&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب  عارف حبیب نے کہا ہے کہ روپے کی تیز گراوٹ نے معیشت کے بعض شعبوں، خاص طور پر تیل و گیس اور توانائی کے شعبے، کو فائدہ پہنچایا۔ یہ رجحان سرمایہ کاروں کی توجہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی جانب کھینچنے کا باعث بنا اور بینچ مارک انڈیکس کی تاریخی پیش قدمی کو مزید مہمیز دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح جون 2023 میں پالیسی ریٹ کے 22 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچنے سے بینکوں کے منافع میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب نے وضاحت کی کہ بینکنگ سیکٹر کی آمدنی میں اس غیرمعمولی بہتری نے سرمایہ کاروں کو نئی پوزیشنز لینے پر آمادہ کیا، جس سے مارکیٹ میں مزید تیزی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ غیر معمولی معاشی پیش رفتیں کئی بڑے شعبوں بشمول کھاد (فریٹیلائزر) کو مثبت طور پر متاثر کر رہی ہیں، جس سے متعلقہ سیکٹر کے اسٹاکس کی مضبوط کارکردگی سامنے آئی ہے اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے انڈیکس کی مسلسل بڑھوتری جاری ہے۔ چونکہ یہ شعبے اور اسٹاکس انڈیکس میں نمایاں وزن رکھتے ہیں، اس لیے بڑے وزن رکھنے والے حصص انڈیکس کو مسلسل اوپر لے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایس ای 100 ریلی میں چار اہم شعبے نمایاں رہے جن میں بینکنگ سیکٹر (36.3 فیصد)، کھاد (16.7 فیصد)، تیل و گیس کے تلاش اور پیداوار کے ادارے (11.8 فیصد) اور سیمنٹ (9.9 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ میکرو اکنامک استحکام اور اسٹاکس کی منافع خیزی میں اضافے نے پی ایس ایکس میں بڑھتی ہوئی رجحان کو برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب نے کہا کہ جون 2024 سے مئی 2025 تک شرح سود کے نصف ہونے یعنی 22 فیصد سے 11 فیصد تک کم ہونے کے بعد اسٹاکس کی قیمتوں کو دوگنا ہونا چاہیے تھا۔ شرح سود میں اس قابل ذکر کمی نے کے ایس ای-100 انڈیکس کو 100,000 پوائنٹس سے 150,000 پوائنٹس تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں  پاکستان کی تاریخی اسٹریٹجک اور سفارتی کامیابیاں بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کا باعث بنیں۔ خاص طور پر، مئی 2025 میں بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کا مضبوط ردعمل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کامیاب سفارتی تعلقات، جن کے نتیجے میں پاکستانی برآمدات پر عائد ٹیکسوں کو 19 فیصد تک کم کیا گیا، جو بھارتی مصنوعات پر عائد زیادہ ٹیکسوں سے خاصا کم تھا، نے معیشت کی ترقی کے لیے نئی بنیادیں قائم کیں۔ یہ تمام عوامل مل کر اسٹاک مارکیٹ کی حالیہ تیزی اور بینچ مارک انڈیکس کی مسلسل بڑھوتری میں معاون ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی قیمتوں/ٹیرف میں کمی، سرکلر قرضے پر کنٹرول کے اقدامات، بجٹ خسارے میں خاطر خواہ کمی اور 2025-26 کے لیے مجموعی طور پر مثبت بجٹ نے معیشت کی نمو کو سہارا دیا اور اس سے پی ایس ایکس میں مستفید ہونے والے اسٹاکس میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفتیں سرمایہ کاروں کو امریکی ڈالر اور دیگر عالمی کرنسیوں سے اپنا سرمایہ اسٹاک مارکیٹ کی جانب منتقل کرنے کی ترغیب بھی دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، بہت سے سرمایہ کار جنہوں نے پہلے فکسڈ انکم اثاثوں میں سرمایہ کاری رکھی تھی، اب بہتر مارکیٹ حالات کے باعث زیادہ منافع کی تلاش میں اپنے سرمایے کو پی ایس ایکس کے ایکویٹیز کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پی ایس ایکس کا آئندہ منظرنامہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب کا اندازہ ہے کہ موجودہ وقت میں کے ایس ای 100 انڈیکس اپنی ”حقیقی قدر“ کے قریب یعنی تقریباً 150,000 پوائنٹس پر پہنچ چکا ہے اور اس انڈیکس میں مزید اضافہ محدود دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ ”انڈیکس کی مستقبل کی حرکت معیشت میں نئے حالات پر منحصر ہوگی۔ اگر موجودہ صورتحال میں کوئی نئے محرکات نہ آئیں تو انڈیکس میں اتار چڑھاؤ اور استحکام کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مارکیٹ موجودہ سطح سے بڑھ سکتی ہے اگر کچھ اہم پیش رفت ہوں، جیسے کہ شرح سود میں مزید کمی، جو موجودہ 11 فیصد سے کم ہو کر 9 فیصد تک آ جائے، بجلی کی قیمت فی یونٹ 33 روپے سے کم ہو کر 26 روپے تک آ جائے اور حکومت ٹیکس کی شرحوں میں کمی کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے حالیہ دو برسوں کے دوران غیرمعمولی ریلی برقرار رکھتے ہوئے ایکویٹی سرمایہ کاری پر 3.75 گنا منافع فراہم کیا ہے، جو ملکی مالیاتی منڈی کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔</strong></p>
<p>بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جون 2023 میں تقریباً 40,000 پوائنٹس کی سطح سے بڑھ کر گزشتہ ہفتے تاریخی بلندی یعنی 151,261.67 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح تک پہنچا، جو مقامی معیشت میں مثبت پیش رفتوں کا واضح عکس ہے۔</p>
<p>قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے بعد انڈیکس جمعہ 22 اگست کو 149,493 پوائنٹس پر بندا ہوا۔</p>
<p>اگر قیمت بمقابلہ آمدنی (پرائس ٹو ارننگ/ پی ای) تناسب کی بات کی جائے تو پی ایس ایکس اس وقت 7 سے 7.5 گنا کی حد میں ٹریڈ کر رہا ہے، جو وسط 2023 میں صرف 3 گنا تھا۔ تاریخی طور پر پی ایس ایکس کا اوسط پی/ای تناسب تقریباً 8 رہا ہے، چنانچہ حالیہ اضافے کے بعد مارکیٹ اپنی طویل مدتی اوسط کے قریب پہنچ چکی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت منڈی اپنی ”حقیقی قدر“ (فیئر ویلیو) کے آس پاس ٹریڈ کر رہی ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس بھارتی اسٹاک مارکیٹ کے بینچ مارک بی ایس ای سینسیکس کا پی/ ای تناسب اس وقت 22.8 کے قریب ہے، جو پی ایس ایکس کے مقابلے میں خاصا بلند سطح پر ہے۔</p>
<p><strong>آئی ایم ایف کی معاونت اور روپے کا استحکام</strong></p>
<p>معروف کاروباری شخصیت اور تجربہ کار اسٹاک بروکر عارف حبیب نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا آغاز جون 2023 میں اُس وقت ہوا جب عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے تین ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج فراہم کیا، جس نے ملکی معیشت کو ممکنہ ڈیفالٹ سے بچایا۔</p>
<p>ان کے مطابق جولائی 2024 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ 7 ارب ڈالر مالیت کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام پر اسٹاف سطح کا معاہدہ کیا۔ یہ 37 ماہ پر محیط پروگرام اقتصادی اصلاحات اور استحکام کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس نے ملک کی غیرمستحکم معیشت کو سہارا دے کر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس کی شاندار تیزی جاری رہی اور اگست 2025 میں یہ 150,000 پوائنٹس کی بے مثال حد کے قریب پہنچ گیا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے دونوں پروگراموں کے درمیانی عرصے میں، ستمبر 2023 میں حکومت نے مقامی کرنسی کو مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے غیر قانونی کرنسی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں اور متعدد انتظامی اقدامات اختیار کیے گئے، جس کے بعد روپے کی قدر میں بہتری آئی۔ یاد رہے کہ اس وقت ڈالر کے مقابلے میں روپیہ اپنی تاریخی کم ترین سطح 307 روپے فی ڈالر تک گر چکا تھا۔</p>
<p>عارف حبیب نے مزید بتایا کہ روپے کی بحالی کی جانب پیش رفت نے مارکیٹ کے جذبات کو سہارا دیا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جاری تیزی کو مزید بلندی کی جانب لے جانے میں مدد دی۔</p>
<p>بینچ مارک انڈیکس کو حکومت کے دیگر مثبت فیصلوں سے بھی تقویت ملی، جن میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (اے ٹی ٹی) کے غلط استعمال کا خاتمہ اور مئی 2023 میں مہنگائی کا 38 فیصد کی دہائیوں پر محیط بلند ترین سطح پر پہنچ کر نیچے آنا شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب مہنگائی میں کمی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے تو مارکیٹ میں مرکزی بینک کی پالیسی ریٹ میں ممکنہ کمی کی توقعات نے جنم لیا۔</p>
<p>اسی پس منظر میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے تقریباً ایک سال بعد اپنی پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کرتے ہوئے اسے جون 2024 کی بلند ترین سطح 22 فیصد سے کم کر کے مئی 2025 میں 11 فیصد پر لے آیا۔</p>
<p>کاروباری شخصیت نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت ڈیفالٹ کے خدشے پر قابو پانا، روپے کا استحکام، مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں واضح کمی، ان تمام عوامل نے پی ایس ایکس میں تاریخی تیزی کی مضبوط بنیاد فراہم کی، جس کے تحت انڈیکس دو سال کے اندر 40,000 پوائنٹس سے بڑھ کر 150,000 پوائنٹس سے بھی آگے نکل گیا۔</p>
<p>اسی دوران  بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں بشمول فچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مارکیٹ میں لیکویڈیٹی (نقدی کی دستیابی) کا بہتر ہونا، یہ سب عوامل بھی انڈیکس کو بلند ترین سطح عبور کرانے میں معاون ثابت ہوئے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل نے گزشتہ ہفتے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کا تقابل 2001 سے 2008 کے درمیان جاری رہنے والی مسلسل اوپر جاتی ہوئی مارکیٹ سے کیا جا سکتا ہے، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 1,000 پوائنٹس سے بڑھ کر 15,000 پوائنٹس کی سطح تک جا پہنچا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس بار جون 2023 میں 40,000 پوائنٹس سے شروع ہونے والی تیزی اگست 2025 تک 150,000 پوائنٹس کی سطح تک پہنچی ہے، یعنی محض دو سال میں انڈیکس 3.75 گنا اضافہ ظاہر کر چکا ہے، جس کی بنیاد مضبوط معاشی اشاریوں، اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر ہے۔</p>
<p><strong>سیکٹورل کارکردگی: توانائی اور بینکنگ سرِفہرست</strong></p>
<p>دوسری جانب  عارف حبیب نے کہا ہے کہ روپے کی تیز گراوٹ نے معیشت کے بعض شعبوں، خاص طور پر تیل و گیس اور توانائی کے شعبے، کو فائدہ پہنچایا۔ یہ رجحان سرمایہ کاروں کی توجہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی جانب کھینچنے کا باعث بنا اور بینچ مارک انڈیکس کی تاریخی پیش قدمی کو مزید مہمیز دی۔</p>
<p>اسی طرح جون 2023 میں پالیسی ریٹ کے 22 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچنے سے بینکوں کے منافع میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>عارف حبیب نے وضاحت کی کہ بینکنگ سیکٹر کی آمدنی میں اس غیرمعمولی بہتری نے سرمایہ کاروں کو نئی پوزیشنز لینے پر آمادہ کیا، جس سے مارکیٹ میں مزید تیزی آئی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ غیر معمولی معاشی پیش رفتیں کئی بڑے شعبوں بشمول کھاد (فریٹیلائزر) کو مثبت طور پر متاثر کر رہی ہیں، جس سے متعلقہ سیکٹر کے اسٹاکس کی مضبوط کارکردگی سامنے آئی ہے اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے انڈیکس کی مسلسل بڑھوتری جاری ہے۔ چونکہ یہ شعبے اور اسٹاکس انڈیکس میں نمایاں وزن رکھتے ہیں، اس لیے بڑے وزن رکھنے والے حصص انڈیکس کو مسلسل اوپر لے جا رہے ہیں۔</p>
<p>کے ایس ای 100 ریلی میں چار اہم شعبے نمایاں رہے جن میں بینکنگ سیکٹر (36.3 فیصد)، کھاد (16.7 فیصد)، تیل و گیس کے تلاش اور پیداوار کے ادارے (11.8 فیصد) اور سیمنٹ (9.9 فیصد) شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ میکرو اکنامک استحکام اور اسٹاکس کی منافع خیزی میں اضافے نے پی ایس ایکس میں بڑھتی ہوئی رجحان کو برقرار رکھا۔</p>
<p>عارف حبیب نے کہا کہ جون 2024 سے مئی 2025 تک شرح سود کے نصف ہونے یعنی 22 فیصد سے 11 فیصد تک کم ہونے کے بعد اسٹاکس کی قیمتوں کو دوگنا ہونا چاہیے تھا۔ شرح سود میں اس قابل ذکر کمی نے کے ایس ای-100 انڈیکس کو 100,000 پوائنٹس سے 150,000 پوائنٹس تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔</p>
<p>مزید برآں  پاکستان کی تاریخی اسٹریٹجک اور سفارتی کامیابیاں بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کا باعث بنیں۔ خاص طور پر، مئی 2025 میں بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کا مضبوط ردعمل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کامیاب سفارتی تعلقات، جن کے نتیجے میں پاکستانی برآمدات پر عائد ٹیکسوں کو 19 فیصد تک کم کیا گیا، جو بھارتی مصنوعات پر عائد زیادہ ٹیکسوں سے خاصا کم تھا، نے معیشت کی ترقی کے لیے نئی بنیادیں قائم کیں۔ یہ تمام عوامل مل کر اسٹاک مارکیٹ کی حالیہ تیزی اور بینچ مارک انڈیکس کی مسلسل بڑھوتری میں معاون ثابت ہوئے۔</p>
<p>بجلی کی قیمتوں/ٹیرف میں کمی، سرکلر قرضے پر کنٹرول کے اقدامات، بجٹ خسارے میں خاطر خواہ کمی اور 2025-26 کے لیے مجموعی طور پر مثبت بجٹ نے معیشت کی نمو کو سہارا دیا اور اس سے پی ایس ایکس میں مستفید ہونے والے اسٹاکس میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ ملا۔</p>
<p>یہ پیش رفتیں سرمایہ کاروں کو امریکی ڈالر اور دیگر عالمی کرنسیوں سے اپنا سرمایہ اسٹاک مارکیٹ کی جانب منتقل کرنے کی ترغیب بھی دیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ، بہت سے سرمایہ کار جنہوں نے پہلے فکسڈ انکم اثاثوں میں سرمایہ کاری رکھی تھی، اب بہتر مارکیٹ حالات کے باعث زیادہ منافع کی تلاش میں اپنے سرمایے کو پی ایس ایکس کے ایکویٹیز کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔</p>
<p><strong>پی ایس ایکس کا آئندہ منظرنامہ</strong></p>
<p>عارف حبیب کا اندازہ ہے کہ موجودہ وقت میں کے ایس ای 100 انڈیکس اپنی ”حقیقی قدر“ کے قریب یعنی تقریباً 150,000 پوائنٹس پر پہنچ چکا ہے اور اس انڈیکس میں مزید اضافہ محدود دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ ”انڈیکس کی مستقبل کی حرکت معیشت میں نئے حالات پر منحصر ہوگی۔ اگر موجودہ صورتحال میں کوئی نئے محرکات نہ آئیں تو انڈیکس میں اتار چڑھاؤ اور استحکام کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مارکیٹ موجودہ سطح سے بڑھ سکتی ہے اگر کچھ اہم پیش رفت ہوں، جیسے کہ شرح سود میں مزید کمی، جو موجودہ 11 فیصد سے کم ہو کر 9 فیصد تک آ جائے، بجلی کی قیمت فی یونٹ 33 روپے سے کم ہو کر 26 روپے تک آ جائے اور حکومت ٹیکس کی شرحوں میں کمی کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276228</guid>
      <pubDate>Mon, 25 Aug 2025 16:02:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/2610472275e0223.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/2610472275e0223.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
