<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 10:48:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 10:48:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ نے تاجکستان تک پہلا کمرشل کارگو پہنچا دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276220/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی)، جو پاکستان کی ایک ملٹی موڈل لاجسٹکس تنظیم ہے، اور ڈی پی ورلڈ، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ایک عالمی لاجسٹکس کمپنی، نے کامیابی کے ساتھ یو اے ای سے تاجکستان تک پہلا کمرشل کارگو پہنچا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڈیو پاکستان کے مطابق، این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ نے 38 ٹن آٹوموٹیو اسپیئر پارٹس تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے منتقل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ
حال ہی میں آٹوموٹیو پارٹس دبئی سے کراچی کے راستے دوشنبے، تاجکستان پہنچائے گئے۔ یہ اقدام وسطی ایشیا کے ساتھ علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کامیابی این ایل سی کی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی بدولت ممکن ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دبئی-دوشنبے کوریڈور کے ذریعے یہ سامان صرف 16 دن میں پہنچا دیا گیا، جبکہ دیگر راستوں کے ذریعے ترسیل میں 20 سے 70 دن لگتے ہیں۔
پاکستان کی بڑھتی ہوئی لاجسٹکس صلاحیتیں پورے خطے میں تجارتی بہاؤ کو یقینی بنا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماہ کے اوائل میں، این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کے ایک وفد نے پاکستان مارٹ کے منصوبے کا اعلان بھی کیا تھا — یہ ایک کمرشل ہب ہوگا جو جبل علی، یو اے ای کے قریب قائم کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات کو علاقائی اور عالمی خریداروں کے سامنے پیش کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، ڈی پی ورلڈ نے اس منصوبے کی تعمیر پاکستانی اسٹیک ہولڈرز کے لیے زیرو کاسٹ پر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ مجوزہ پاکستان مارٹ میں کمرشل یونٹس شامل ہوں گے، جنہیں پاکستانی برآمدکنندگان اور تاجروں کے لیے ویئر ہاؤسز، ریٹیل شاپس، شورومز اور ای-کامرس فل فِلمنٹ سینٹرز کے طور پر ڈیزائن کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان مارٹ کو ایک ون-اسٹاپ مارکیٹ پلیس کے طور پر تصور کیا جا رہا ہے، جہاں پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات کو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور عالمی خریداروں کے سامنے پیش کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی)، جو پاکستان کی ایک ملٹی موڈل لاجسٹکس تنظیم ہے، اور ڈی پی ورلڈ، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ایک عالمی لاجسٹکس کمپنی، نے کامیابی کے ساتھ یو اے ای سے تاجکستان تک پہلا کمرشل کارگو پہنچا دیا ہے۔</strong></p>
<p>ریڈیو پاکستان کے مطابق، این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ نے 38 ٹن آٹوموٹیو اسپیئر پارٹس تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے منتقل کیے۔</p>
<p>ریاستی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ
حال ہی میں آٹوموٹیو پارٹس دبئی سے کراچی کے راستے دوشنبے، تاجکستان پہنچائے گئے۔ یہ اقدام وسطی ایشیا کے ساتھ علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>یہ کامیابی این ایل سی کی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی بدولت ممکن ہوئی۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دبئی-دوشنبے کوریڈور کے ذریعے یہ سامان صرف 16 دن میں پہنچا دیا گیا، جبکہ دیگر راستوں کے ذریعے ترسیل میں 20 سے 70 دن لگتے ہیں۔
پاکستان کی بڑھتی ہوئی لاجسٹکس صلاحیتیں پورے خطے میں تجارتی بہاؤ کو یقینی بنا رہی ہیں۔</p>
<p>اس ماہ کے اوائل میں، این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کے ایک وفد نے پاکستان مارٹ کے منصوبے کا اعلان بھی کیا تھا — یہ ایک کمرشل ہب ہوگا جو جبل علی، یو اے ای کے قریب قائم کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات کو علاقائی اور عالمی خریداروں کے سامنے پیش کیا جا سکے۔</p>
<p>بیان کے مطابق، ڈی پی ورلڈ نے اس منصوبے کی تعمیر پاکستانی اسٹیک ہولڈرز کے لیے زیرو کاسٹ پر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ مجوزہ پاکستان مارٹ میں کمرشل یونٹس شامل ہوں گے، جنہیں پاکستانی برآمدکنندگان اور تاجروں کے لیے ویئر ہاؤسز، ریٹیل شاپس، شورومز اور ای-کامرس فل فِلمنٹ سینٹرز کے طور پر ڈیزائن کیا جائے گا۔</p>
<p>پاکستان مارٹ کو ایک ون-اسٹاپ مارکیٹ پلیس کے طور پر تصور کیا جا رہا ہے، جہاں پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات کو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور عالمی خریداروں کے سامنے پیش کیا جا سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276220</guid>
      <pubDate>Mon, 25 Aug 2025 13:57:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/25135632d12714f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/25135632d12714f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
