<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آر ایل این جی کنزمپشن پر کاسٹ ایکچوئلائزیشن چارجز، پشاور ہائی کورٹ نے نفاذ روکنے کا حکم دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276198/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور ہائی کورٹ  نے مارچ 2025 میں ری-گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) پر کاسٹ ایکچوئلائزیشن چارجز عائد کیے جانے کے خلاف دائر رِٹ پٹیشن پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا ہے۔ یہ چارجز اپریل 2015 سے جون 2022 کے دوران کھپت شدہ آر ایل این جی پر لاگو کیے گئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار صنعتوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے ایسے چارجز کو ماضی کی بنیاد پر لاگو کرنا غیر قانونی اور بلا جواز ہے، جنہیں سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے ذریعے صارفین سے بلوں کی شکل میں وصول کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکلاء بیرسٹر ابراہیم خان آفریدی اور لونگین خان ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کھپت کے تقریباً ایک دہائی بعد ایسے چارجز لگانا من مانا اقدام ہے اور اس کی کوئی قانونی توجیہہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس 2002 میں سیکشن 43B کی وہ ترمیم جو 2022 میں متعارف کرائی گئی، اسے ماضی یعنی 2022 سے پہلے کے عرصے پر لاگو کرنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی اور مقننہ کے اصل ارادے کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی سماعت کے بعد جسٹس وقار علی خان اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بینچ نے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو متنازعہ چارجز کی وصولی اور گیس کنکشن منقطع کرنے سے روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے اوگرا، متعلقہ گیس کمپنی اور وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صنعتی حلقوں میں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ماضی کی بنیاد پر بلنگ کے کاروباری منصوبہ بندی اور مسابقت پر اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت آنے والے ہفتوں میں اس معاملے پر دوبارہ سماعت کرے گی۔ اس دوران مذکورہ عرصے کے لیے کاسٹ ایکچوئلائزیشن چارجز کے نفاذ پر عمل درآمد معطل رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور ہائی کورٹ  نے مارچ 2025 میں ری-گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) پر کاسٹ ایکچوئلائزیشن چارجز عائد کیے جانے کے خلاف دائر رِٹ پٹیشن پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا ہے۔ یہ چارجز اپریل 2015 سے جون 2022 کے دوران کھپت شدہ آر ایل این جی پر لاگو کیے گئے تھے۔</strong></p>
<p>درخواست گزار صنعتوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے ایسے چارجز کو ماضی کی بنیاد پر لاگو کرنا غیر قانونی اور بلا جواز ہے، جنہیں سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے ذریعے صارفین سے بلوں کی شکل میں وصول کیا جانا تھا۔</p>
<p>وکلاء بیرسٹر ابراہیم خان آفریدی اور لونگین خان ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کھپت کے تقریباً ایک دہائی بعد ایسے چارجز لگانا من مانا اقدام ہے اور اس کی کوئی قانونی توجیہہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس 2002 میں سیکشن 43B کی وہ ترمیم جو 2022 میں متعارف کرائی گئی، اسے ماضی یعنی 2022 سے پہلے کے عرصے پر لاگو کرنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی اور مقننہ کے اصل ارادے کے منافی ہے۔</p>
<p>ابتدائی سماعت کے بعد جسٹس وقار علی خان اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بینچ نے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو متنازعہ چارجز کی وصولی اور گیس کنکشن منقطع کرنے سے روک دیا۔</p>
<p>عدالت نے اوگرا، متعلقہ گیس کمپنی اور وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صنعتی حلقوں میں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ماضی کی بنیاد پر بلنگ کے کاروباری منصوبہ بندی اور مسابقت پر اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>عدالت آنے والے ہفتوں میں اس معاملے پر دوبارہ سماعت کرے گی۔ اس دوران مذکورہ عرصے کے لیے کاسٹ ایکچوئلائزیشن چارجز کے نفاذ پر عمل درآمد معطل رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276198</guid>
      <pubDate>Mon, 25 Aug 2025 10:06:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/25100409b8e7a0e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/25100409b8e7a0e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
