<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 14:05:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 14:05:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے درمیان روابط بحال کرنے پر بات چیت، چھ معاہدوں پر دستخط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276188/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کے روز ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اعلیٰ سطح ملاقات کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے راستوں کو تلاش کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں متعدد موضوعات پر بات چیت کی گئی، جن میں پرانے روابط کی بحالی، نوجوانوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا، کنیکٹوٹی میں بہتری، اور تجارتی و اقتصادی تعاون میں اضافہ شامل ہیں۔ رہنماؤں نے خطے میں حالیہ پیش رفت اور مستقبل میں علاقائی تعاون کے امکانات پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جس کا ذکر وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیر اعظم نے وزیراعظم شہباز شریف کا نیک خواہشات کا پیغام چیف ایڈوائزر تک پہنچایا اور انہیں ڈھاکہ میں اپنے اجلاسوں اور اس دورے کے کلیدی نتائج سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/241805517b2ace7.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے اپنے قیام کے دوران فراہم کیے گئے بہترین انتظامات اور گرمجوش مہمان نوازی پر بھی شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ملاقات پاکستان اور بنگلہ دیش کے تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان چھ معاہدے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور بنگلہ دیش نے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کی چھ یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/24154537b893b88.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دستخطی تقریب اتوار کو ڈھاکہ میں منعقد ہوئی، جس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار اور بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ امور توحید حسین بھی  موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستخط ہونے والی یادداشتوں میں شامل ہیں: سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا ختم کرنے پر معاہدہ، تجارت پر مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر ایم او یو، فارن سروس اکیڈمیوں کے درمیان ایم او یو، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن اور بنگلہ دیش سنگباد سنستھا کے درمیان ایم او یو، انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد اور بنگلہ دیش انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے درمیان ایم او یو، اور ثقافتی تبادلے کے پروگرام کے لیے معاہدہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1959546106410381720?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1959546106410381720%7Ctwgr%5E9eded787cb59565d9d10d03223a76252dfbb77ec%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40379405"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ معاہدے تجارت و معیشت، سفارتکاروں کی تربیت، علمی تبادلوں، میڈیا تعاون اور ثقافتی تبادلے میں دوطرفہ تعاون کو باقاعدہ اور مزید مضبوط کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اسحاق ڈارکے دورے کے دوسرے دن سامنے آئی ہے، اور 13 سال بعد کوئی پاکستانی وزیر خارجہ بنگلہ دیش کا دورہ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز بنگلہ دیش کا دورہ کیا ہے، جب دونوں برادر ممالک علاقائی طاقت کے توازن میں تبدیلی کے درمیان تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار سب سے سینئر پاکستانی عہدیدار ہیں جو 2012 کے بعد ڈھاکہ گئے ہیں، اور اسلام آباد نے اسے پاکستان-بنگلہ دیش تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور بنگلہ دیش نے گزشتہ سال سمندری تجارت شروع کی، اور فروری میں حکومت سے حکومت تجارت کو بڑھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں وزیر تجارت جام کمال خان نے جمعرات کو ڈھاکہ میں مذاکرات کیے، جہاں انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کمیشن قائم کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے پاکستان میں ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 1971 کے بعد، بنگلہ دیش نے بھارت پر زیادہ انحصار کیا، بھارت کی تقریباً 17 کروڑ کی آبادی والے ملک کے ساتھ طویل سرحد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، بنگلہ دیش کی عبوری حکومت، جس کی قیادت نوبل امن انعام یافتہ یونس کر رہے ہیں، اس بات پر غصے میں ہے کہ بھارت نے حسینہ کو حمایت دی — جہاں وہ موجود ہیں اور انسانی حقوق کے خلاف جرائم کے الزام میں اپنے مقدمے میں شریک ہونے سے انکار کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے تھامس کیان کے مطابق حسینہ واجد کا تختہ الٹنا بھارت کے لیے ایک اسٹریٹجک نقصان تھا، اور بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات اس کا نتیجہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈھاکہ نے اس ماہ بھارت پر الزام لگایا کہ وہ اب غیر قانونی قرار دی گئی عوامی لیگ پارٹی کی حمایت کر رہا ہے، جسے نئی دہلی نے مسترد کر دیا، اور کہا کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کو اپنی سرزمین سے کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران، پاکستان اور بنگلہ دیش نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سمجھوتہ وزیر خارجہ اسحاق  ڈار اور بنگلہ دیش کے فارن ایڈوائزر توحید حسین کے درمیان ڈھاکہ میں ملاقات کے دوران ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1959513175360979372?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1959513175360979372%7Ctwgr%5E7cd5063628a543986606af642630fd80b49d9a51%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40379405"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، جس میں اعلیٰ سطح تبادلے، تجارتی و اقتصادی تعاون، عوامی رابطے اور انسانی ہمدردی کے مسائل شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، انہوں نے سارک کو فعال بنانے اور فلسطین اور روہنگیا بحرانوں کے حل جیسے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے فارن ایڈوائزر نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن سے ملاقات کی اور وزیراعظم شہباز شریف اور اپنی  جانب سے ان کی صحت کی نیک خواہشات پہنچائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ امیر جماعت اسلامی دل کی سرجری سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1959563339807281486?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1959563339807281486%7Ctwgr%5E7cd5063628a543986606af642630fd80b49d9a51%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40379405"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور کا اعلان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر اسلام آباد نے ”پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور“ کے قیام کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ کے مطابق اس منصوبے کے تحت اگلے پانچ سالوں میں بنگلہ دیشی طلباء کو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے لیے 500  اسکالر شپس دی جائینگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اسکالر شپس میں سے ایک چوتھائی میڈیسن کے شعبے میں دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، اسی مدت کے دوران 100 بنگلہ دیشی سول سرونٹس کے لیے تربیتی پروگرامز بھی منعقد کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام کے تحت بنگلہ دیشی طلبا کے لیے مختص کی گئی اسکالر شپس کی تعداد پانچ سے بڑھا کر پچیس کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کے روز ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کی۔</strong></p>
<p>اس اعلیٰ سطح ملاقات کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے راستوں کو تلاش کرنا تھا۔</p>
<p>ملاقات میں متعدد موضوعات پر بات چیت کی گئی، جن میں پرانے روابط کی بحالی، نوجوانوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا، کنیکٹوٹی میں بہتری، اور تجارتی و اقتصادی تعاون میں اضافہ شامل ہیں۔ رہنماؤں نے خطے میں حالیہ پیش رفت اور مستقبل میں علاقائی تعاون کے امکانات پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جس کا ذکر وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کیا۔</p>
<p>نائب وزیر اعظم نے وزیراعظم شہباز شریف کا نیک خواہشات کا پیغام چیف ایڈوائزر تک پہنچایا اور انہیں ڈھاکہ میں اپنے اجلاسوں اور اس دورے کے کلیدی نتائج سے آگاہ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/241805517b2ace7.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسحاق ڈار نے اپنے قیام کے دوران فراہم کیے گئے بہترین انتظامات اور گرمجوش مہمان نوازی پر بھی شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>یہ ملاقات پاکستان اور بنگلہ دیش کے تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p><strong>پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان چھ معاہدے</strong></p>
<p>پاکستان اور بنگلہ دیش نے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کی چھ یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/24154537b893b88.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ دستخطی تقریب اتوار کو ڈھاکہ میں منعقد ہوئی، جس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار اور بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ امور توحید حسین بھی  موجود تھے۔</p>
<p>دستخط ہونے والی یادداشتوں میں شامل ہیں: سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا ختم کرنے پر معاہدہ، تجارت پر مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر ایم او یو، فارن سروس اکیڈمیوں کے درمیان ایم او یو، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن اور بنگلہ دیش سنگباد سنستھا کے درمیان ایم او یو، انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد اور بنگلہ دیش انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے درمیان ایم او یو، اور ثقافتی تبادلے کے پروگرام کے لیے معاہدہ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1959546106410381720?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1959546106410381720%7Ctwgr%5E9eded787cb59565d9d10d03223a76252dfbb77ec%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40379405"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ معاہدے تجارت و معیشت، سفارتکاروں کی تربیت، علمی تبادلوں، میڈیا تعاون اور ثقافتی تبادلے میں دوطرفہ تعاون کو باقاعدہ اور مزید مضبوط کریں گے۔</p>
<p>یہ پیش رفت اسحاق ڈارکے دورے کے دوسرے دن سامنے آئی ہے، اور 13 سال بعد کوئی پاکستانی وزیر خارجہ بنگلہ دیش کا دورہ کر رہا ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز بنگلہ دیش کا دورہ کیا ہے، جب دونوں برادر ممالک علاقائی طاقت کے توازن میں تبدیلی کے درمیان تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>اسحاق ڈار سب سے سینئر پاکستانی عہدیدار ہیں جو 2012 کے بعد ڈھاکہ گئے ہیں، اور اسلام آباد نے اسے پاکستان-بنگلہ دیش تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔</p>
<p>پاکستان اور بنگلہ دیش نے گزشتہ سال سمندری تجارت شروع کی، اور فروری میں حکومت سے حکومت تجارت کو بڑھایا گیا۔</p>
<p>قبل ازیں وزیر تجارت جام کمال خان نے جمعرات کو ڈھاکہ میں مذاکرات کیے، جہاں انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کمیشن قائم کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>جمعہ کو دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے پاکستان میں ملاقات کی۔</p>
<p>سال 1971 کے بعد، بنگلہ دیش نے بھارت پر زیادہ انحصار کیا، بھارت کی تقریباً 17 کروڑ کی آبادی والے ملک کے ساتھ طویل سرحد ملتی ہے۔</p>
<p>تاہم، بنگلہ دیش کی عبوری حکومت، جس کی قیادت نوبل امن انعام یافتہ یونس کر رہے ہیں، اس بات پر غصے میں ہے کہ بھارت نے حسینہ کو حمایت دی — جہاں وہ موجود ہیں اور انسانی حقوق کے خلاف جرائم کے الزام میں اپنے مقدمے میں شریک ہونے سے انکار کرتی ہیں۔</p>
<p>انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے تھامس کیان کے مطابق حسینہ واجد کا تختہ الٹنا بھارت کے لیے ایک اسٹریٹجک نقصان تھا، اور بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات اس کا نتیجہ ہیں۔</p>
<p>ڈھاکہ نے اس ماہ بھارت پر الزام لگایا کہ وہ اب غیر قانونی قرار دی گئی عوامی لیگ پارٹی کی حمایت کر رہا ہے، جسے نئی دہلی نے مسترد کر دیا، اور کہا کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کو اپنی سرزمین سے کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔</p>
<p><strong>علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت</strong></p>
<p>اس دوران، پاکستان اور بنگلہ دیش نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>یہ سمجھوتہ وزیر خارجہ اسحاق  ڈار اور بنگلہ دیش کے فارن ایڈوائزر توحید حسین کے درمیان ڈھاکہ میں ملاقات کے دوران ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1959513175360979372?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1959513175360979372%7Ctwgr%5E7cd5063628a543986606af642630fd80b49d9a51%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40379405"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، جس میں اعلیٰ سطح تبادلے، تجارتی و اقتصادی تعاون، عوامی رابطے اور انسانی ہمدردی کے مسائل شامل ہیں۔</p>
<p>مزید برآں، انہوں نے سارک کو فعال بنانے اور فلسطین اور روہنگیا بحرانوں کے حل جیسے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی بات چیت کی۔</p>
<p>بنگلہ دیش کے فارن ایڈوائزر نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن سے ملاقات کی اور وزیراعظم شہباز شریف اور اپنی  جانب سے ان کی صحت کی نیک خواہشات پہنچائیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ امیر جماعت اسلامی دل کی سرجری سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1959563339807281486?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1959563339807281486%7Ctwgr%5E7cd5063628a543986606af642630fd80b49d9a51%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40379405"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p><strong>پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور کا اعلان</strong></p>
<p>نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر اسلام آباد نے ”پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور“ کے قیام کا اعلان کیا۔</p>
<p>وزارت خارجہ کے مطابق اس منصوبے کے تحت اگلے پانچ سالوں میں بنگلہ دیشی طلباء کو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے لیے 500  اسکالر شپس دی جائینگی۔</p>
<p>ان اسکالر شپس میں سے ایک چوتھائی میڈیسن کے شعبے میں دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، اسی مدت کے دوران 100 بنگلہ دیشی سول سرونٹس کے لیے تربیتی پروگرامز بھی منعقد کیے جائیں گے۔</p>
<p>پاکستان نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام کے تحت بنگلہ دیشی طلبا کے لیے مختص کی گئی اسکالر شپس کی تعداد پانچ سے بڑھا کر پچیس کر دی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276188</guid>
      <pubDate>Sun, 24 Aug 2025 20:41:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/24201656178fb4a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/24201656178fb4a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
