<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ کے تحت کسان یا فرد کی رپورٹ پر ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتی، لاہور ہائی کورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276175/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شوگر ملز کے خلاف کسی فرد یا کاشتکار کی رپورٹ پر ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی، کیونکہ شوگر فیکٹریز (کنٹرول) ایکٹ کی دفعہ 21 کے تحت یہ جرم صرف اس وقت قابلِ گرفت سمجھا جائے گا جب باقاعدہ رپورٹ کین کمشنر، ایڈیشنل کین کمشنر یا ان کے نامزد نمائندے کی جانب سے دی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ عدالت نے ایک فیکٹری منیجر اظہر فضل کی درخواست پر دیا، جس نے ایڈیشنل سیشن جج/ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس کے اُس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں درخواست گزار اور دیگر کے خلاف ہراسانی اور دھمکیوں کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس حکم کو شوگر فیکٹریز ایکٹ کے تحت ایف آئی آر کے اندراج تک محدود کرتے ہوئے کالعدم قرار دیا اور ریمارکس دیے کہ جسٹس آف پیس اس قانونی پہلو کو نظرانداز کر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ عدالت نے درخواست کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 342 اور 506 کے تحت خارج کرتے ہوئے جسٹس آف پیس کو ہدایت دی کہ مدعی کا بیان ریکارڈ کریں اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدعی کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے شوگر مل کو گنا سپلائی کیا لیکن بار بار مطالبے کے باوجود واجب الادا رقم ادا نہ کی گئی۔ مدعی کے مطابق جب وہ اپنے گواہوں کے ہمراہ جنرل منیجر کے پاس گیا تو ملزم اور دیگر افراد نے اسے تضحیک کا نشانہ بنایا اور اسلحے کے زور پر کمرے میں محبوس کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جسٹس آف پیس کو بھیجی گئی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس وقت تک شوگر مل مالک کی ذمہ داری کا تعین ہی نہیں ہوا تھا، لہٰذا ایسی رپورٹ کو ایکٹ کی دفعہ 21(b) کے تحت باضابطہ رپورٹ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملر کے خلاف کارروائی صرف ایکٹ کے تحت اور اس کی شرائط کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے، لیکن جسٹس آف پیس نے اس نکتے کو نظرانداز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شوگر ملز کے خلاف کسی فرد یا کاشتکار کی رپورٹ پر ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی، کیونکہ شوگر فیکٹریز (کنٹرول) ایکٹ کی دفعہ 21 کے تحت یہ جرم صرف اس وقت قابلِ گرفت سمجھا جائے گا جب باقاعدہ رپورٹ کین کمشنر، ایڈیشنل کین کمشنر یا ان کے نامزد نمائندے کی جانب سے دی جائے۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ عدالت نے ایک فیکٹری منیجر اظہر فضل کی درخواست پر دیا، جس نے ایڈیشنل سیشن جج/ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس کے اُس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں درخواست گزار اور دیگر کے خلاف ہراسانی اور دھمکیوں کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس حکم کو شوگر فیکٹریز ایکٹ کے تحت ایف آئی آر کے اندراج تک محدود کرتے ہوئے کالعدم قرار دیا اور ریمارکس دیے کہ جسٹس آف پیس اس قانونی پہلو کو نظرانداز کر گئے۔</p>
<p>البتہ عدالت نے درخواست کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 342 اور 506 کے تحت خارج کرتے ہوئے جسٹس آف پیس کو ہدایت دی کہ مدعی کا بیان ریکارڈ کریں اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائیں۔</p>
<p>مدعی کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے شوگر مل کو گنا سپلائی کیا لیکن بار بار مطالبے کے باوجود واجب الادا رقم ادا نہ کی گئی۔ مدعی کے مطابق جب وہ اپنے گواہوں کے ہمراہ جنرل منیجر کے پاس گیا تو ملزم اور دیگر افراد نے اسے تضحیک کا نشانہ بنایا اور اسلحے کے زور پر کمرے میں محبوس کر دیا۔</p>
<p>عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جسٹس آف پیس کو بھیجی گئی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس وقت تک شوگر مل مالک کی ذمہ داری کا تعین ہی نہیں ہوا تھا، لہٰذا ایسی رپورٹ کو ایکٹ کی دفعہ 21(b) کے تحت باضابطہ رپورٹ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملر کے خلاف کارروائی صرف ایکٹ کے تحت اور اس کی شرائط کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے، لیکن جسٹس آف پیس نے اس نکتے کو نظرانداز کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276175</guid>
      <pubDate>Sun, 24 Aug 2025 10:16:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/241013257e419bb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/241013257e419bb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
