<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیرف پالیسی میں ابہام: بھارت نے امریکہ کو ڈاک کی ترسیل عارضی طور پر معطل کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276163/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ عارضی طور پر امریکہ کے لیے ڈاک کی ترسیل معطل کر دے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اُن ٹیرف (محصولات) سے پیدا ہونے والی الجھن کی وجہ سے کیا گیا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عائد کیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کم مالیت والے بعض پارسلز کو حاصل ڈیوٹی فری سہولت ختم کرنے کا فیصلہ نافذ ہونے میں محض ایک ہفتہ باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ مواصلات نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکہ کی جانب سے منظور شدہ ٹرانسپورٹ کیریئرز یا دیگر مجاز اداروں کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ محصولات وصول کریں اور انہیں متعلقہ حکام کو جمع کروائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ”مجاز اداروں“ کی نامزدگی اور ڈیوٹی کی وصولی و منتقلی کے طریقہ کار سے متعلق کئی اہم پہلو تاحال غیر واضح ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، امریکہ جانے والی ہوائی کمپنیوں نے 25 اگست 2025 کے بعد ڈاک کے پارسل وصول کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے، اور اس کی وجہ انہوں نے آپریشنل اور تکنیکی تیاری کی کمی کو قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی بنا پر، بھارت کا محکمہ ڈاک پیر سے امریکہ کے لیے جانے والے ”ہر قسم کے ڈاک پارسلز“ کی بکنگ عارضی طور پر معطل کر دے گا، تاہم خطوط، دستاویزات اور 100 امریکی ڈالر تک مالیت کے تحائف اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے کہا ہے کہ ”یہ مستثنیٰ اقسام بدستور قبول کی جائیں گی اور امریکہ بھیجی جائیں گی، تاہم یہ عمل امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) اور امریکی ڈاک (یو ایس پی ایس) کی جانب سے مزید وضاحتوں سے مشروط ہو گا۔“ وزارت نے مزید کہا ہے کہ ”خدمات کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام یورپ بھر میں ڈاک خدمات اور کورئیر کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے اسی نوعیت کے اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی ڈاک کمپنی La Poste نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ پیر سے امریکہ کے لیے زیادہ تر پارسلز کی ترسیل معطل کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا کہ امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی ) نے 15 اگست کو نئی ضوابط جاری کیے تھے، ”جس سے یورپی ڈاک خدمات کو تیاری کے لیے نہایت محدود وقت ملا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 29 اگست سے امریکہ میں داخل ہونے والے چھوٹے پارسلز پر ٹیکس سے مستثنیٰ رعایت ختم کر دے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ عارضی طور پر امریکہ کے لیے ڈاک کی ترسیل معطل کر دے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اُن ٹیرف (محصولات) سے پیدا ہونے والی الجھن کی وجہ سے کیا گیا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عائد کیے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کم مالیت والے بعض پارسلز کو حاصل ڈیوٹی فری سہولت ختم کرنے کا فیصلہ نافذ ہونے میں محض ایک ہفتہ باقی ہے۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ مواصلات نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکہ کی جانب سے منظور شدہ ٹرانسپورٹ کیریئرز یا دیگر مجاز اداروں کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ محصولات وصول کریں اور انہیں متعلقہ حکام کو جمع کروائیں۔</p>
<p>تاہم وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ”مجاز اداروں“ کی نامزدگی اور ڈیوٹی کی وصولی و منتقلی کے طریقہ کار سے متعلق کئی اہم پہلو تاحال غیر واضح ہیں۔</p>
<p>نتیجتاً، امریکہ جانے والی ہوائی کمپنیوں نے 25 اگست 2025 کے بعد ڈاک کے پارسل وصول کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے، اور اس کی وجہ انہوں نے آپریشنل اور تکنیکی تیاری کی کمی کو قرار دیا ہے۔</p>
<p>اسی بنا پر، بھارت کا محکمہ ڈاک پیر سے امریکہ کے لیے جانے والے ”ہر قسم کے ڈاک پارسلز“ کی بکنگ عارضی طور پر معطل کر دے گا، تاہم خطوط، دستاویزات اور 100 امریکی ڈالر تک مالیت کے تحائف اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔</p>
<p>وزارت نے کہا ہے کہ ”یہ مستثنیٰ اقسام بدستور قبول کی جائیں گی اور امریکہ بھیجی جائیں گی، تاہم یہ عمل امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) اور امریکی ڈاک (یو ایس پی ایس) کی جانب سے مزید وضاحتوں سے مشروط ہو گا۔“ وزارت نے مزید کہا ہے کہ ”خدمات کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔“</p>
<p>یہ اقدام یورپ بھر میں ڈاک خدمات اور کورئیر کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے اسی نوعیت کے اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p>فرانس کی ڈاک کمپنی La Poste نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ پیر سے امریکہ کے لیے زیادہ تر پارسلز کی ترسیل معطل کر رہی ہے۔</p>
<p>کمپنی نے کہا کہ امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی ) نے 15 اگست کو نئی ضوابط جاری کیے تھے، ”جس سے یورپی ڈاک خدمات کو تیاری کے لیے نہایت محدود وقت ملا۔“</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 29 اگست سے امریکہ میں داخل ہونے والے چھوٹے پارسلز پر ٹیکس سے مستثنیٰ رعایت ختم کر دے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276163</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Aug 2025 20:40:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/23202732450bbf0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/23202732450bbf0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
