<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوام متحدہ کا غزہ میں پہلی بار قحط کا اعلان، 5 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276160/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ نے پہلی بار مشرقِ وسطیٰ میں غزہ میں قحط کا باقاعدہ اعلان کیا جس کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ہنگامی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیکچر نے کہا کہ یہ قحط ہے: غزہ کا قحط۔ انہوں نے اس کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ اسرائیل جنگ سے متاثرہ فلسطینی علاقے میں امدادی سامان کی ترسیل میں منظم رکاوٹ ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے اس اعلان کو حماس کی جھوٹ پر مبنی اور ذاتی مفادات رکھنے والی تنظیموں کے ذریعے پھیلایا گیا قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ غزہ میں کوئی قحط نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قحط کا اندازہ انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسفیکیشن کے ذریعے لگایا گیا جس کے مطابق قحط اس وقت ہوتا ہے جب 20 فیصد گھرانوں میں خوراک کی شدید کمی ہو، پانچ سال سے کم عمر کے 30 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوں، اور ہر 10 ہزار افراد میں سے دو یا زیادہ لوگ روزانہ بھوک یا غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث ہلاک ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی سی کے مطابق 15 اگست 2025 تک غزہ گورنریٹ میں قحط (آئی پی سی فیز 5) کی تصدیق ہوئی جہاں تقریباً ایک ملین افراد رہائش پذیر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 22 ماہ طویل مسلسل تنازع کے بعد، غزہ کی پٹی میں پانچ لاکھ سے زائد افراد بھوک، غربت اور موت کے خطرناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی سی نے پیش گوئی کی کہ ستمبر کے آخر تک قحط دیئر البلح اور خان یونس تک پھیل جائے گا، جس سے غزہ کی کل آبادی کا تقریباً 75 فیصد، یعنی 6 لاکھ 41 ہزار افراد متاثر ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ مکمل طور پر انسانی ساختہ قحط ہے جو جولائی میں تنازع کی شدت، مارچ کے وسط سے وسیع پیمانے پر نقل مکانی اور خوراک تک محدود رسائی کی وجہ سے پیدا ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ نے پہلی بار مشرقِ وسطیٰ میں غزہ میں قحط کا باقاعدہ اعلان کیا جس کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ کے ہنگامی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیکچر نے کہا کہ یہ قحط ہے: غزہ کا قحط۔ انہوں نے اس کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ اسرائیل جنگ سے متاثرہ فلسطینی علاقے میں امدادی سامان کی ترسیل میں منظم رکاوٹ ڈال رہا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے اس اعلان کو حماس کی جھوٹ پر مبنی اور ذاتی مفادات رکھنے والی تنظیموں کے ذریعے پھیلایا گیا قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ غزہ میں کوئی قحط نہیں ہے۔</p>
<p>قحط کا اندازہ انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسفیکیشن کے ذریعے لگایا گیا جس کے مطابق قحط اس وقت ہوتا ہے جب 20 فیصد گھرانوں میں خوراک کی شدید کمی ہو، پانچ سال سے کم عمر کے 30 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوں، اور ہر 10 ہزار افراد میں سے دو یا زیادہ لوگ روزانہ بھوک یا غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث ہلاک ہوں۔</p>
<p>آئی پی سی کے مطابق 15 اگست 2025 تک غزہ گورنریٹ میں قحط (آئی پی سی فیز 5) کی تصدیق ہوئی جہاں تقریباً ایک ملین افراد رہائش پذیر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 22 ماہ طویل مسلسل تنازع کے بعد، غزہ کی پٹی میں پانچ لاکھ سے زائد افراد بھوک، غربت اور موت کے خطرناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔“</p>
<p>آئی پی سی نے پیش گوئی کی کہ ستمبر کے آخر تک قحط دیئر البلح اور خان یونس تک پھیل جائے گا، جس سے غزہ کی کل آبادی کا تقریباً 75 فیصد، یعنی 6 لاکھ 41 ہزار افراد متاثر ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ مکمل طور پر انسانی ساختہ قحط ہے جو جولائی میں تنازع کی شدت، مارچ کے وسط سے وسیع پیمانے پر نقل مکانی اور خوراک تک محدود رسائی کی وجہ سے پیدا ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276160</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Aug 2025 16:13:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/2316122470faae0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/2316122470faae0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
