<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک بنگلہ دیش براہِ راست پروازوں اور شپنگ سروس پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276149/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور بنگلہ دیش کے مشیر برائے تجارت بشیرالدین نے ہفتہ کو چٹاگانگ کا ایک روزہ سرکاری دورہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران چٹاگانگ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (سی سی سی آئی) کے اجلاس اور اہم صنعتی و بندرگاہی سہولیات کے دورے کیے گئے جس میں بنگلہ دیش کی شپ بریکنگ انڈسٹری اور چٹاگانگ بندرگاہ شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے وفود نے ریڈی میڈ گارمنٹس، زراعت، جہازوں کی ری سائیکلنگ، لاجسٹکس اور تجارت کے ڈیجیٹلائزیشن میں تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے براہِ راست شپنگ سروس اور پروازوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری حلقوں سے ملاقات کے دوران تعاون کے ممکنہ مواقع پر بھی غور کیا گیا اور چٹاگانگ چیمبر کے کاروباری افراد نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تجارتی تعلقات پر اپنے خیالات پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے براہِ راست پروازوں، شپنگ کی باقاعدہ روانگی اور تجارت کے ڈیجیٹلائزیشن پر تجاویز بھی پیش کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ریڈی میڈ گارمنٹس اور زرعی شعبے میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ تجارت اور مشیر نے کاروباری حلقوں کو آگاہ کیا کہ تجارتی مذاکرات کے لیے جلد ہی مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت قائم کیا جائے گا تاکہ مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کی وسیع صلاحیت کو تسلیم کیا اور کاروباری حلقوں کو 25 تا 27 نومبر 2025 کو کراچی میں ہونے والی تیسری بین الاقوامی خوراک و زرعی نمائش میں شرکت کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افریقہ اور وسطی ایشیا میں مال برآمد کرنے کے لیے سہ فریقی تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ صحت، چمڑا اور اشیائے ضروریہ جیسے شعبوں پر بھی بات چیت ہوئی اور پاکستان-بنگلہ دیش تجارتی و سرمایہ کاری روڈ میپ کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے کبیر شپ ری سائیکلنگ سہولتوں کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں جہاز سازی، بریکنگ اور ری سائیکلنگ کے شعبوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعاون کی ممکنہ صلاحیت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور بنگلہ دیش کے مشیر برائے تجارت بشیرالدین نے ہفتہ کو چٹاگانگ کا ایک روزہ سرکاری دورہ کیا۔</strong></p>
<p>دورے کے دوران چٹاگانگ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (سی سی سی آئی) کے اجلاس اور اہم صنعتی و بندرگاہی سہولیات کے دورے کیے گئے جس میں بنگلہ دیش کی شپ بریکنگ انڈسٹری اور چٹاگانگ بندرگاہ شامل تھی۔</p>
<p>دونوں ممالک کے وفود نے ریڈی میڈ گارمنٹس، زراعت، جہازوں کی ری سائیکلنگ، لاجسٹکس اور تجارت کے ڈیجیٹلائزیشن میں تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے براہِ راست شپنگ سروس اور پروازوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>کاروباری حلقوں سے ملاقات کے دوران تعاون کے ممکنہ مواقع پر بھی غور کیا گیا اور چٹاگانگ چیمبر کے کاروباری افراد نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تجارتی تعلقات پر اپنے خیالات پیش کیے۔</p>
<p>انہوں نے براہِ راست پروازوں، شپنگ کی باقاعدہ روانگی اور تجارت کے ڈیجیٹلائزیشن پر تجاویز بھی پیش کیں۔</p>
<p>بیان کے مطابق ریڈی میڈ گارمنٹس اور زرعی شعبے میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>وزیرِ تجارت اور مشیر نے کاروباری حلقوں کو آگاہ کیا کہ تجارتی مذاکرات کے لیے جلد ہی مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت قائم کیا جائے گا تاکہ مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کیا جاسکے۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کی وسیع صلاحیت کو تسلیم کیا اور کاروباری حلقوں کو 25 تا 27 نومبر 2025 کو کراچی میں ہونے والی تیسری بین الاقوامی خوراک و زرعی نمائش میں شرکت کی دعوت دی۔</p>
<p>انہوں نے افریقہ اور وسطی ایشیا میں مال برآمد کرنے کے لیے سہ فریقی تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ صحت، چمڑا اور اشیائے ضروریہ جیسے شعبوں پر بھی بات چیت ہوئی اور پاکستان-بنگلہ دیش تجارتی و سرمایہ کاری روڈ میپ کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>جام کمال خان نے کبیر شپ ری سائیکلنگ سہولتوں کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں جہاز سازی، بریکنگ اور ری سائیکلنگ کے شعبوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعاون کی ممکنہ صلاحیت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276149</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Aug 2025 12:42:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/231232328f1294e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1066" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/231232328f1294e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
