<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:36:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:36:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور مالی طور پر ناقابلِ عمل، این ایچ اے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276147/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل ہائی وے اتھارٹی  (این ایچ اے) نے اعتراف کیا ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث 4-لین لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور مالی طور پر قابلِ عمل منصوبہ نہیں ہے، اسی لیے اتھارٹی دیگر متبادل راستوں پر غور کر رہی ہے، جس میں کراچی ناردرن بائی پاس کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور ڈویژن کے اجلاس میں ہوا جس کی صدارت قائم مقام چیئرمین رکنِ قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ایچ اے کے عہدیدار نے بتایا کہ منصوبے کی کل لاگت 68.9 ارب روپے ہے، اور 35 فیصد ویابلیٹی گیپ فنڈ  اپ فرنٹ گرانٹ اور آپریشنل لون کے ساتھ یہ منصوبہ نہ تو قابل عمل ہے اور نہ ہی بینک فنانسنگ کے لیے موزوں، اس لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے اہل نہیں ہے۔ تجارتی بنیادوں پر غیر قابل عمل ہونے کے باعث این ایچ اے اب اس منصوبے پر کام نہیں کر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متبادل منصوبوں میں کراچی ناردرن بائی پاس کی ترقی بھی شامل ہے جس میں موجودہ دو لین شاہراہ کو چار سے چھ لین موٹروے معیار کی جدید سڑک میں اپ گریڈ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکنِ قومی اسمبلی جاوید حنیف خان نے کہا کہ لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور منصوبہ قومی اہمیت کا حامل ہے اور معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ منصوبہ برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کے لیے مال برداری کی لاگت میں کمی اور کراچی میں بھاری ٹریفک کے دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے کو منصوبے سیاسی نہیں بلکہ معاشی بنیادوں پر تیار کرنے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور کو پی ایس ڈی پی منصوبوں میں شامل کیا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت مواصلات اور این ایچ اے کراچی ریجن میں فریٹ ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے اور لاجسٹک استعداد بڑھانے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے پاور سیکٹر کے نمائندوں اور وزارتِ منصوبہ بندی اسلام آباد کے سینئر حکام کی عدم موجودگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا، جو اپنے متعلقہ ایجنڈا آئٹمز پر بریفنگ دینے کے لیے موجود نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، کمیٹی نے تقریباً 172 ارب روپے مالیت کے ایک بڑے انفراسٹرکچر کنٹریکٹ کو ایم/ایس ننگشیا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی کو دینے کے معاملے پر بھی غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹھائے گئے خدشات کے پیش نظر اور مکمل شفافیت و احتساب کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِاعظم نے فوری انکوائری کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ اس منصوبے پر مذکورہ تعمیراتی کمپنی سے منسلک تمام کام اس وقت تک معطل رکھا جائے جب تک انکوائری مکمل نہ ہو اور تمام حقائق و اعداد و شمار منظر عام پر نہ آجائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران این جی اوز کی پالیسی کے بریفنگ کے حوالے سے وزارت کے نمائندوں نے بتایا کہ ابتدائی مسودہ وفاقی کابینہ کو غور و خوض کے لیے بھیجا گیا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد حتمی پالیسی پارلیمان میں قانون سازی کے لیے پیش کی جائے گی تاکہ آئینی مراحل مکمل کر کے اسے قانونی حیثیت دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل ہائی وے اتھارٹی  (این ایچ اے) نے اعتراف کیا ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث 4-لین لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور مالی طور پر قابلِ عمل منصوبہ نہیں ہے، اسی لیے اتھارٹی دیگر متبادل راستوں پر غور کر رہی ہے، جس میں کراچی ناردرن بائی پاس کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے۔</strong></p>
<p>یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور ڈویژن کے اجلاس میں ہوا جس کی صدارت قائم مقام چیئرمین رکنِ قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے کی۔</p>
<p>این ایچ اے کے عہدیدار نے بتایا کہ منصوبے کی کل لاگت 68.9 ارب روپے ہے، اور 35 فیصد ویابلیٹی گیپ فنڈ  اپ فرنٹ گرانٹ اور آپریشنل لون کے ساتھ یہ منصوبہ نہ تو قابل عمل ہے اور نہ ہی بینک فنانسنگ کے لیے موزوں، اس لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے اہل نہیں ہے۔ تجارتی بنیادوں پر غیر قابل عمل ہونے کے باعث این ایچ اے اب اس منصوبے پر کام نہیں کر رہی۔</p>
<p>متبادل منصوبوں میں کراچی ناردرن بائی پاس کی ترقی بھی شامل ہے جس میں موجودہ دو لین شاہراہ کو چار سے چھ لین موٹروے معیار کی جدید سڑک میں اپ گریڈ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>رکنِ قومی اسمبلی جاوید حنیف خان نے کہا کہ لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور منصوبہ قومی اہمیت کا حامل ہے اور معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ منصوبہ برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کے لیے مال برداری کی لاگت میں کمی اور کراچی میں بھاری ٹریفک کے دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے کو منصوبے سیاسی نہیں بلکہ معاشی بنیادوں پر تیار کرنے چاہئیں۔</p>
<p>کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور کو پی ایس ڈی پی منصوبوں میں شامل کیا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت مواصلات اور این ایچ اے کراچی ریجن میں فریٹ ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے اور لاجسٹک استعداد بڑھانے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کررہی ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے پاور سیکٹر کے نمائندوں اور وزارتِ منصوبہ بندی اسلام آباد کے سینئر حکام کی عدم موجودگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا، جو اپنے متعلقہ ایجنڈا آئٹمز پر بریفنگ دینے کے لیے موجود نہیں تھے۔</p>
<p>مزید برآں، کمیٹی نے تقریباً 172 ارب روپے مالیت کے ایک بڑے انفراسٹرکچر کنٹریکٹ کو ایم/ایس ننگشیا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی کو دینے کے معاملے پر بھی غور کیا۔</p>
<p>اٹھائے گئے خدشات کے پیش نظر اور مکمل شفافیت و احتساب کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِاعظم نے فوری انکوائری کا حکم دے دیا۔</p>
<p>کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ اس منصوبے پر مذکورہ تعمیراتی کمپنی سے منسلک تمام کام اس وقت تک معطل رکھا جائے جب تک انکوائری مکمل نہ ہو اور تمام حقائق و اعداد و شمار منظر عام پر نہ آجائیں۔</p>
<p>اسی دوران این جی اوز کی پالیسی کے بریفنگ کے حوالے سے وزارت کے نمائندوں نے بتایا کہ ابتدائی مسودہ وفاقی کابینہ کو غور و خوض کے لیے بھیجا گیا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد حتمی پالیسی پارلیمان میں قانون سازی کے لیے پیش کی جائے گی تاکہ آئینی مراحل مکمل کر کے اسے قانونی حیثیت دی جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276147</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Aug 2025 11:45:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/23113857d520773.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="560" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/23113857d520773.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
