<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرونی سرمایہ کاری پر منافع کی منتقلی میں 75 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276143/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں مالی سال (26-2025) کے پہلے ماہ (جولائی) کے دوران  غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع اور ڈیوڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی میں 75 فیصد اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق جولائی 2025 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 24 کروڑ 40 لاکھ ڈالر واپس بھیجے جو جولائی 2024 میں 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا نمایاں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ منافع اور ڈیوڈنڈ کی ترسیلات میں نمایاں اضافے سے ملک میں بہتر معاشی حالات اور زیادہ منافع بخشی ظاہر ہوتی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا مجموعی بزنس کانفیڈنس بہتر ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے حالیہ سروے کے مطابق ملک کی معیشت پر بزنس کانفیڈنس میں نمایاں بہتری آئی ہے اور تین سال بعد پہلی بار یہ اعتماد مثبت سطح میں داخل ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی کے بزنس کانفیڈنس انڈیکس (بی سی آئی) ویو 27 سروے، جو مارچ اور اپریل 2025 میں کیا گیا کے مطابق مجموعی بزنس کانفیڈنس میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے جو اکتوبر-نومبر 2024 میں کیے گئے پچھلے سروے میں منفی 5 فیصد سے بڑھ کر 16 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ مثبت 11 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے میں بھی بتایا گیا ہے کہ ملک کی سمت کے حوالے سے نجی کاروباری اداروں کا اعتماد تقریباً 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہ بہتری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مہنگائی، بلند یوٹیلیٹی اخراجات اور بجلی کی لوڈشیڈنگ بدستور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 24-2023 کے دوران حکومت نے بیرونی واجبات کو قابو میں رکھنے اور زرمبادلہ  ذخائر برقرار رکھنے کے لیے منافع کی ترسیل پر کچھ پابندیاں عائد کی تھیں۔ تاہم گزشتہ مالی سال 25-2024 میں یہ پابندیاں ختم کر دی گئیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل منافع اور ڈیوڈنڈ بیرونِ ملک منتقل کرنے کی اجازت دے دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک  جمیل احمد نے حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران بتایا کہ جون 2025 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے پاس کسی بھی غیر ملکی سرمایہ کار کے منافع یا ڈیوڈنڈ کی ادائیگی زیرِ التوا نہیں رہی۔ پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام اور مناسب زرمبادلہ ذخائر کی بدولت جون 2025 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 14 ارب ڈالر کی سطح عبور کرگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی 2025 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  پر منافع اور ڈیوڈنڈ کی ترسیلات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ  سے سرمائے کے اخراج میں کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے پہلے ماہ  تقریباً مکمل سرمایہ اخراج، یعنی 24 کروڑ 38 لاکھ ڈالر، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  سے منافع اور ڈیوڈنڈ کی ترسیلات کی مد میں ہوا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا۔ اس سے 82 فیصد یا 11 کروڑ ڈالر کا اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ  سے سرمایہ اخراج جولائی 2025 میں صرف 2 لاکھ ڈالر رہا جو جولائی 2024 میں 53 لاکھ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں مالی سال (26-2025) کے پہلے ماہ (جولائی) کے دوران  غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع اور ڈیوڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی میں 75 فیصد اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق جولائی 2025 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 24 کروڑ 40 لاکھ ڈالر واپس بھیجے جو جولائی 2024 میں 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا نمایاں اضافہ ہے۔</p>
<p>ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ منافع اور ڈیوڈنڈ کی ترسیلات میں نمایاں اضافے سے ملک میں بہتر معاشی حالات اور زیادہ منافع بخشی ظاہر ہوتی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا مجموعی بزنس کانفیڈنس بہتر ہوا ہے۔</p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے حالیہ سروے کے مطابق ملک کی معیشت پر بزنس کانفیڈنس میں نمایاں بہتری آئی ہے اور تین سال بعد پہلی بار یہ اعتماد مثبت سطح میں داخل ہوا ہے۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی کے بزنس کانفیڈنس انڈیکس (بی سی آئی) ویو 27 سروے، جو مارچ اور اپریل 2025 میں کیا گیا کے مطابق مجموعی بزنس کانفیڈنس میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے جو اکتوبر-نومبر 2024 میں کیے گئے پچھلے سروے میں منفی 5 فیصد سے بڑھ کر 16 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ مثبت 11 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے میں بھی بتایا گیا ہے کہ ملک کی سمت کے حوالے سے نجی کاروباری اداروں کا اعتماد تقریباً 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہ بہتری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مہنگائی، بلند یوٹیلیٹی اخراجات اور بجلی کی لوڈشیڈنگ بدستور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔</p>
<p>مالی سال 24-2023 کے دوران حکومت نے بیرونی واجبات کو قابو میں رکھنے اور زرمبادلہ  ذخائر برقرار رکھنے کے لیے منافع کی ترسیل پر کچھ پابندیاں عائد کی تھیں۔ تاہم گزشتہ مالی سال 25-2024 میں یہ پابندیاں ختم کر دی گئیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل منافع اور ڈیوڈنڈ بیرونِ ملک منتقل کرنے کی اجازت دے دی گئی۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک  جمیل احمد نے حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران بتایا کہ جون 2025 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے پاس کسی بھی غیر ملکی سرمایہ کار کے منافع یا ڈیوڈنڈ کی ادائیگی زیرِ التوا نہیں رہی۔ پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام اور مناسب زرمبادلہ ذخائر کی بدولت جون 2025 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 14 ارب ڈالر کی سطح عبور کرگئے ہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی 2025 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  پر منافع اور ڈیوڈنڈ کی ترسیلات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ  سے سرمائے کے اخراج میں کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>رواں مالی سال کے پہلے ماہ  تقریباً مکمل سرمایہ اخراج، یعنی 24 کروڑ 38 لاکھ ڈالر، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  سے منافع اور ڈیوڈنڈ کی ترسیلات کی مد میں ہوا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا۔ اس سے 82 فیصد یا 11 کروڑ ڈالر کا اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ  سے سرمایہ اخراج جولائی 2025 میں صرف 2 لاکھ ڈالر رہا جو جولائی 2024 میں 53 لاکھ ڈالر تھا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276143</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Aug 2025 11:05:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/23110339acc3b94.png" type="image/png" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/23110339acc3b94.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
