<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 03:10:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Jul 2026 03:10:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے ڈی بی پاکستان ریلوے کو اپ گریڈ کرنے میں معاونت کرے گا، چین کی مالی معاونت تعطل کا شکار، ذرائع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276137/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) پاکستان کے خستہ حال ریلوے نظام کے ایک حصے کی اپ گریڈنگ کے لیے فنڈ فراہم کرے گا، جو اس سے قبل چین کے ذمے تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بیجنگ سے مالی معاونت کے حصول میں طویل تاخیر نے ایک اہم اسٹریٹجک کان کنی منصوبے پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یہ بات دو باخبر ذرائع نے جمعہ کو رائٹرز کو بتائی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2015 میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آرآئی) کے تحت پاکستان میں 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے کا مرکزی نکتہ 1,800 کلومیٹر طویل ریلوے نظام کی وسیع بحالی رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک دہائی پر محیط مذاکرات کے باوجود، اس منصوبے کے لیے، جو بی آر آئی کے تحت چین کا سب سے بڑا انفرادی منصوبہ ہے، کوئی حتمی مالیاتی پیکج طے نہیں ہو سکا۔ دریں اثنا، پاکستان دیگر چینی منصوبوں پر لیے گئے قرض کی ادائیگی میں مشکلات سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی) اس وقت کراچی سے روہڑی تک 500 کلومیٹر ریلوے لائن کی اپ گریڈنگ کے لیے 2 ارب ڈالر کی مالی معاونت کا انتظام کرنے کے حتمی مراحل میں ہے۔ یہ حصہ پہلے چین کے منصوبے میں شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ اپ گریڈنگ فوری نوعیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ اس کا مقصد کینیڈین کمپنی بیرک مائننگ کارپوریشن کی جانب سے تیار کیے جانے والے ریکی ڈیک منصوبے سے تانبے کی نقل و حمل کو ممکن بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ ”ہم بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ ریکی ڈیک سے پیداوار کیسے منتقل کریں گے؟ موجودہ خستہ حال لائن مزید دباؤ برداشت نہیں کر پائے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی وزارتِ ریلوے اور چین کی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے اس مالیاتی پیکج کی براہِ راست تصدیق نہیں کی، جس کی خبر پہلی بار رائٹرز نے دی ہے۔ تاہم بینک کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان اور علاقائی ترقیاتی بینک کے مابین ریلوے شعبے کی ترقی پر باقاعدہ بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی نے رائٹرز کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ”کسی بھی ممکنہ معاونت کا انحصار مکمل جانچ پڑتال اور اے ڈی بی کی پالیسیوں اور طریقہ کار کے تحت غور و خوض پر ہوگا، اس سے پہلے کہ کسی قسم کی حتمی منظوری دی جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ رواں ماہ کے آخر تک متوقع ہے، جس کے تحت اے ڈی بی ایک کنسورشیم کی قیادت کرے گا جو منصوبے کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا، جب کہ بین الاقوامی انجینئرنگ کنٹریکٹر کو مقابلہ جاتی بولی کے ذریعے کام سونپا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی نے رواں ہفتے ریکی ڈیک مائن کے لیے 410 ملین ڈالر کی مالی معاونت کا اعلان بھی کیا ہے، اور ذرائع کے مطابق، بینک کے صدر آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین اور پاکستان: ’آہنی دوست‘؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق منصوبہ سفارتی طور پر نازک ضرور ہے لیکن اسے چین کی رضامندی سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ ”ہم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جو اس تعلق کو خطرے میں ڈالے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2015 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے آغاز کے بعد چین نے پاکستان میں توانائی اور انفرااسٹرکچر کے بڑے منصوبے شروع کیے، تاہم حالیہ برسوں میں یہ رفتار سست پڑ گئی ہے۔ گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے 2022 میں مکمل ہونے والا آخری بڑا منصوبہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد چین کے تعمیر کردہ بجلی گھروں سے حاصل کردہ بجلی کی ادائیگیوں میں پیچھے رہ گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے بجلی گھروں کے اخراجات پر مرتب کردہ رپورٹ کے بعد، پاکستان گزشتہ ایک سال سے قرضوں کی ادائیگی کا شیڈول ازسرنو طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی وزارتِ خارجہ نے 19 اگست کو وزیر خارجہ وانگ ای کی اسلام آباد آمد سے قبل کہا ہے کہ ”چین اور پاکستان آہنی دوست اور ہر موسم کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف سے وانگ ای کی ملاقات میں دونوں فریقوں نے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور سی پیک کے اگلے مرحلے کی جانب بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی معدنیات سے وابستہ توقعات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کی حکمتِ عملی کا مرکز، ریکی ڈیک کا تانبہ اور سونے کا کان کنی منصوبہ، 2028 میں پیداوار کا آغاز کرے گا، جس سے سالانہ تقریباً 2 لاکھ میٹرک ٹن تانبے کا کنسنٹریٹ حاصل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دنیا کے چند سب سے بڑے غیر استعمال شدہ تانبے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور حالیہ برسوں میں پاکستان میں سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اے ڈی بی کی مالی معاونت سے ہونے والی ریلوے اپ گریڈنگ کراچی سے شمال میں روہڑی تک پٹریوں اور پلوں کو جدید خطوط پر استوار کرے گی تاکہ ڈیزل انجن والی ٹرینیں زیادہ رفتار سے چل سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روہڑی میں یہ ریلوے لائن مغرب میں واقع ریکو ڈیک کے علاقے سے آنے والی ایک شاخ سے ملے گی، جس کے ذریعے تانبے کا کنسنٹریٹ بندرگاہ تک پہنچایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکو ڈیک منصوبے کے ڈائریکٹر ٹِم کِرب نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومت اور کینیڈین کمپنی بیرک مغرب سے روہڑی تک آنے والی ریلوے شاخ کی اپ گریڈنگ کے لیے مشترکہ طور پر مالی معاونت کے حصول پر کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ سیکورٹی چیلنجز سے بھی دوچار ہے کیونکہ یہ بلوچستان کے شورش زدہ مغربی صوبے میں واقع ہے، جہاں عسکریت پسند ریلوے نیٹ ورک کو بارہا نشانہ بناتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) پاکستان کے خستہ حال ریلوے نظام کے ایک حصے کی اپ گریڈنگ کے لیے فنڈ فراہم کرے گا، جو اس سے قبل چین کے ذمے تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بیجنگ سے مالی معاونت کے حصول میں طویل تاخیر نے ایک اہم اسٹریٹجک کان کنی منصوبے پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یہ بات دو باخبر ذرائع نے جمعہ کو رائٹرز کو بتائی ہے۔</strong></p>
<p>2015 میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آرآئی) کے تحت پاکستان میں 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے کا مرکزی نکتہ 1,800 کلومیٹر طویل ریلوے نظام کی وسیع بحالی رہا ہے۔</p>
<p>تاہم ایک دہائی پر محیط مذاکرات کے باوجود، اس منصوبے کے لیے، جو بی آر آئی کے تحت چین کا سب سے بڑا انفرادی منصوبہ ہے، کوئی حتمی مالیاتی پیکج طے نہیں ہو سکا۔ دریں اثنا، پاکستان دیگر چینی منصوبوں پر لیے گئے قرض کی ادائیگی میں مشکلات سے دوچار ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی) اس وقت کراچی سے روہڑی تک 500 کلومیٹر ریلوے لائن کی اپ گریڈنگ کے لیے 2 ارب ڈالر کی مالی معاونت کا انتظام کرنے کے حتمی مراحل میں ہے۔ یہ حصہ پہلے چین کے منصوبے میں شامل تھا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ اپ گریڈنگ فوری نوعیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ اس کا مقصد کینیڈین کمپنی بیرک مائننگ کارپوریشن کی جانب سے تیار کیے جانے والے ریکی ڈیک منصوبے سے تانبے کی نقل و حمل کو ممکن بنانا ہے۔</p>
<p>ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ ”ہم بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ ریکی ڈیک سے پیداوار کیسے منتقل کریں گے؟ موجودہ خستہ حال لائن مزید دباؤ برداشت نہیں کر پائے گی۔“</p>
<p>پاکستان کی وزارتِ ریلوے اور چین کی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے اس مالیاتی پیکج کی براہِ راست تصدیق نہیں کی، جس کی خبر پہلی بار رائٹرز نے دی ہے۔ تاہم بینک کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان اور علاقائی ترقیاتی بینک کے مابین ریلوے شعبے کی ترقی پر باقاعدہ بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>اے ڈی بی نے رائٹرز کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ”کسی بھی ممکنہ معاونت کا انحصار مکمل جانچ پڑتال اور اے ڈی بی کی پالیسیوں اور طریقہ کار کے تحت غور و خوض پر ہوگا، اس سے پہلے کہ کسی قسم کی حتمی منظوری دی جائے۔“</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ رواں ماہ کے آخر تک متوقع ہے، جس کے تحت اے ڈی بی ایک کنسورشیم کی قیادت کرے گا جو منصوبے کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا، جب کہ بین الاقوامی انجینئرنگ کنٹریکٹر کو مقابلہ جاتی بولی کے ذریعے کام سونپا جائے گا۔</p>
<p>اے ڈی بی نے رواں ہفتے ریکی ڈیک مائن کے لیے 410 ملین ڈالر کی مالی معاونت کا اعلان بھی کیا ہے، اور ذرائع کے مطابق، بینک کے صدر آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔</p>
<p><strong>چین اور پاکستان: ’آہنی دوست‘؟</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق منصوبہ سفارتی طور پر نازک ضرور ہے لیکن اسے چین کی رضامندی سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔</p>
<p>ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ ”ہم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جو اس تعلق کو خطرے میں ڈالے۔“</p>
<p>2015 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے آغاز کے بعد چین نے پاکستان میں توانائی اور انفرااسٹرکچر کے بڑے منصوبے شروع کیے، تاہم حالیہ برسوں میں یہ رفتار سست پڑ گئی ہے۔ گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے 2022 میں مکمل ہونے والا آخری بڑا منصوبہ تھا۔</p>
<p>اسلام آباد چین کے تعمیر کردہ بجلی گھروں سے حاصل کردہ بجلی کی ادائیگیوں میں پیچھے رہ گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے بجلی گھروں کے اخراجات پر مرتب کردہ رپورٹ کے بعد، پاکستان گزشتہ ایک سال سے قرضوں کی ادائیگی کا شیڈول ازسرنو طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>چین کی وزارتِ خارجہ نے 19 اگست کو وزیر خارجہ وانگ ای کی اسلام آباد آمد سے قبل کہا ہے کہ ”چین اور پاکستان آہنی دوست اور ہر موسم کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔“</p>
<p>جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف سے وانگ ای کی ملاقات میں دونوں فریقوں نے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور سی پیک کے اگلے مرحلے کی جانب بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p><strong>پاکستان کی معدنیات سے وابستہ توقعات</strong></p>
<p>حکومت کی معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کی حکمتِ عملی کا مرکز، ریکی ڈیک کا تانبہ اور سونے کا کان کنی منصوبہ، 2028 میں پیداوار کا آغاز کرے گا، جس سے سالانہ تقریباً 2 لاکھ میٹرک ٹن تانبے کا کنسنٹریٹ حاصل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>یہ دنیا کے چند سب سے بڑے غیر استعمال شدہ تانبے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور حالیہ برسوں میں پاکستان میں سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اے ڈی بی کی مالی معاونت سے ہونے والی ریلوے اپ گریڈنگ کراچی سے شمال میں روہڑی تک پٹریوں اور پلوں کو جدید خطوط پر استوار کرے گی تاکہ ڈیزل انجن والی ٹرینیں زیادہ رفتار سے چل سکیں۔</p>
<p>روہڑی میں یہ ریلوے لائن مغرب میں واقع ریکو ڈیک کے علاقے سے آنے والی ایک شاخ سے ملے گی، جس کے ذریعے تانبے کا کنسنٹریٹ بندرگاہ تک پہنچایا جائے گا۔</p>
<p>ریکو ڈیک منصوبے کے ڈائریکٹر ٹِم کِرب نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومت اور کینیڈین کمپنی بیرک مغرب سے روہڑی تک آنے والی ریلوے شاخ کی اپ گریڈنگ کے لیے مشترکہ طور پر مالی معاونت کے حصول پر کام کریں گے۔</p>
<p>یہ منصوبہ سیکورٹی چیلنجز سے بھی دوچار ہے کیونکہ یہ بلوچستان کے شورش زدہ مغربی صوبے میں واقع ہے، جہاں عسکریت پسند ریلوے نیٹ ورک کو بارہا نشانہ بناتے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276137</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Aug 2025 21:25:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/22210526d1a5a87.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/22210526d1a5a87.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
