<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 01:54:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Jul 2026 01:54:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا اور یورپی ممالک کا یوکرین کیلئے سیکیورٹی آپشنز پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276124/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی اور یورپی ممالک کے فوجی سربراہان نے یوکرین کو سلامتی کی ضمانتیں فراہم کرنے کے لیے مختلف آپشنز اپنے قومی سلامتی مشیروں کے سامنے پیش کیے ہیں۔ یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس وعدے کے بعد سامنے آئی ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کی صورت میں امریکہ یوکرین کے تحفظ میں کردار ادا کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون کے مطابق یہ تجاویز اتحادی ممالک کے مشیروں کی ”مناسب غور“ کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ واشنگٹن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، فن لینڈ اور یوکرین کے فوجی سربراہان نے تین روزہ اجلاس کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی مشیر مارکو روبیو نے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں ان تجاویز پر بات کی۔ ابتدائی اتفاق رائے کے مطابق کسی بھی سلامتی فورس کا زیادہ تر بوجھ یورپی ممالک اٹھائیں گے جبکہ امریکہ کمانڈ و کنٹرول یا فضائی معاونت فراہم کرسکتا ہے۔ اس میں مزید فضائی دفاعی نظام دینا یا نو فلائی زون نافذ کرنا شامل ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس اور برطانیہ نے فوجی تعیناتی کی حمایت کی ہے جبکہ جرمن قیادت نے بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ فوجی ماہرین کے مطابق طویل المدتی امن فورس کے لیے دسیوں ہزار یورپی فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ تاہم ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ وہ امریکی زمینی افواج کو یوکرین نہیں بھیجیں گے، البتہ دیگر عسکری کردار ممکن ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی اور یورپی ممالک کے فوجی سربراہان نے یوکرین کو سلامتی کی ضمانتیں فراہم کرنے کے لیے مختلف آپشنز اپنے قومی سلامتی مشیروں کے سامنے پیش کیے ہیں۔ یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس وعدے کے بعد سامنے آئی ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کی صورت میں امریکہ یوکرین کے تحفظ میں کردار ادا کرے گا۔</strong></p>
<p>پینٹاگون کے مطابق یہ تجاویز اتحادی ممالک کے مشیروں کی ”مناسب غور“ کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ واشنگٹن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، فن لینڈ اور یوکرین کے فوجی سربراہان نے تین روزہ اجلاس کیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی مشیر مارکو روبیو نے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں ان تجاویز پر بات کی۔ ابتدائی اتفاق رائے کے مطابق کسی بھی سلامتی فورس کا زیادہ تر بوجھ یورپی ممالک اٹھائیں گے جبکہ امریکہ کمانڈ و کنٹرول یا فضائی معاونت فراہم کرسکتا ہے۔ اس میں مزید فضائی دفاعی نظام دینا یا نو فلائی زون نافذ کرنا شامل ہوسکتا ہے۔</p>
<p>فرانس اور برطانیہ نے فوجی تعیناتی کی حمایت کی ہے جبکہ جرمن قیادت نے بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ فوجی ماہرین کے مطابق طویل المدتی امن فورس کے لیے دسیوں ہزار یورپی فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ تاہم ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ وہ امریکی زمینی افواج کو یوکرین نہیں بھیجیں گے، البتہ دیگر عسکری کردار ممکن ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276124</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Aug 2025 12:37:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/22123618545214b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/22123618545214b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
