<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران اور یورپی ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات اور پابندیوں پر بات چیت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276122/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اپنے فرانسیسی، برطانوی اور جرمن ہم منصبوں کے ساتھ جمعہ کے روز ایک مشترکہ ٹیلی فونک گفتگو کریں گے تاکہ جوہری مذاکرات اور پابندیوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق اس رابطے میں یورپی ممالک ایران کو جوہری مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے اقدامات پر زور دیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں یورپی طاقتوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع نہ کیے تو وہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے پابندیوں کے نفاذ کے لیے اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کرسکتے ہیں۔ امریکا اور یورپی اتحادیوں کا مؤقف ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو ہتھیار بنانے کے ممکنہ مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، تاہم تہران اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایران نے جون میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد مذاکرات معطل کر دیے تھے۔ اس کے بعد سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کار ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی بارہا کہہ چکے ہیں کہ معائنہ نہایت ضروری ہے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں شفافیت قائم رکھی جا سکے۔ یورپی ممالک اور ایران کے درمیان یہ رابطہ خطے میں کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اپنے فرانسیسی، برطانوی اور جرمن ہم منصبوں کے ساتھ جمعہ کے روز ایک مشترکہ ٹیلی فونک گفتگو کریں گے تاکہ جوہری مذاکرات اور پابندیوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق اس رابطے میں یورپی ممالک ایران کو جوہری مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے اقدامات پر زور دیں گے۔</strong></p>
<p>تینوں یورپی طاقتوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع نہ کیے تو وہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے پابندیوں کے نفاذ کے لیے اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کرسکتے ہیں۔ امریکا اور یورپی اتحادیوں کا مؤقف ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو ہتھیار بنانے کے ممکنہ مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، تاہم تہران اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ایران نے جون میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد مذاکرات معطل کر دیے تھے۔ اس کے بعد سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کار ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔</p>
<p>آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی بارہا کہہ چکے ہیں کہ معائنہ نہایت ضروری ہے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں شفافیت قائم رکھی جا سکے۔ یورپی ممالک اور ایران کے درمیان یہ رابطہ خطے میں کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276122</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Aug 2025 12:29:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/2212274649df2a4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/2212274649df2a4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
