<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز شریف نے پہلے بزنس فیسلیٹیشن سینٹر کا افتتاح کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276103/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے وفاقی دارالحکومت میں ملک کے پہلے بزنس فسیلیٹیشن سینٹر (بی ایف سی) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسے کاروباری طبقے کے لیے گیم چینجر اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مرکز ایک ون اسٹاپ حب کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے جہاں کاروباری رجسٹریشن، لائسنسنگ اور ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل ایک ہی جگہ ممکن ہوگی۔ اس کا مقصد اس سرخ فیتے کو ختم کرنا ہے جو طویل عرصے سے مقامی کاروباری طبقے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا تھا۔ وزیر اعظم نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
اگر ہمیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں سرمایہ کاروں کو عالمی معیار کی سہولت فراہم کرنا ہوگی، نہ کہ محض ایک اور سرکاری دفتر قائم  کرنا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس مرکز کو صرف اینٹ اور پتھرکی عمارت تک محدود نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سہولت بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) نے قائم کی ہے تاکہ وہ خدمات جو پہلے مختلف وزارتوں اور محکموں میں بکھری ہوئی تھیں، ایک جگہ فراہم کی جا سکیں۔ ماضی میں یہ بیوروکریٹک پیچیدگیاں کاروبار اور سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے نظام کے تحت سرمایہ کار خصوصی اقتصادی زونز یا دیگر منصوبوں کے قیام کے لیے ایک جامع درخواست جمع کرا سکیں گے۔ پلیٹ فارم خودکار طور پر کاروبار کی نوعیت، برآمدی امکانات، روزگار کے مواقع اور انفراسٹرکچر کی ضروریات کا جائزہ لے گا۔ اس کے علاوہ درخواستوں پر ریئل ٹائم میں نظر رکھی جائے گی اور صارفین کو کسی بھی کمی یا تاخیر کے بارے میں مطلع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے نئے مرکز کا دورہ کیا اور عملے سے ملاقات کی، جنہیں انہوں نے انتہائی باصلاحیت اور قابل قرار دیا۔ انہوں نے سرکاری ملازمین پر زور دیا کہ وہ آنے والے سرمایہ کاروں کا مسکراتے چہرے اور حقیقی تعاون کے ساتھ استقبال کریں اور کسی قسم کی تاخیر کو برداشت نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے اشارہ دیا کہ اگر اسلام آباد میں شروع ہونے والا یہ پائلٹ ماڈل کامیاب ثابت ہوا تو اس کی طرز پر دیگر شہروں میں بھی ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا
یہ ایسا ہونا چاہیے کہ دیگر ممالک پاکستان کی مثال دیں اور کہیں: ہاں، پاکستان نے درست قدم اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتتاحی تقریب میں وزرا قیصر احمد شیخ، عطا اللہ تارڑ، شیزا فاطمہ خواجہ، احد چیمہ اور ڈاکٹر مصدق ملک سمیت اعلیٰ حکومتی حکام شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور پیچیدہ قوانین کے باعث کاروباری اعتماد متاثر ہوا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ یہ نیا مرکز سرمایہ کار دوست ماحول کی طرف ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے وفاقی دارالحکومت میں ملک کے پہلے بزنس فسیلیٹیشن سینٹر (بی ایف سی) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسے کاروباری طبقے کے لیے گیم چینجر اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔</strong></p>
<p>یہ مرکز ایک ون اسٹاپ حب کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے جہاں کاروباری رجسٹریشن، لائسنسنگ اور ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل ایک ہی جگہ ممکن ہوگی۔ اس کا مقصد اس سرخ فیتے کو ختم کرنا ہے جو طویل عرصے سے مقامی کاروباری طبقے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا تھا۔ وزیر اعظم نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
اگر ہمیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں سرمایہ کاروں کو عالمی معیار کی سہولت فراہم کرنا ہوگی، نہ کہ محض ایک اور سرکاری دفتر قائم  کرنا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس مرکز کو صرف اینٹ اور پتھرکی عمارت تک محدود نہ کیا جائے۔</p>
<p>یہ سہولت بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) نے قائم کی ہے تاکہ وہ خدمات جو پہلے مختلف وزارتوں اور محکموں میں بکھری ہوئی تھیں، ایک جگہ فراہم کی جا سکیں۔ ماضی میں یہ بیوروکریٹک پیچیدگیاں کاروبار اور سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی تھیں۔</p>
<p>نئے نظام کے تحت سرمایہ کار خصوصی اقتصادی زونز یا دیگر منصوبوں کے قیام کے لیے ایک جامع درخواست جمع کرا سکیں گے۔ پلیٹ فارم خودکار طور پر کاروبار کی نوعیت، برآمدی امکانات، روزگار کے مواقع اور انفراسٹرکچر کی ضروریات کا جائزہ لے گا۔ اس کے علاوہ درخواستوں پر ریئل ٹائم میں نظر رکھی جائے گی اور صارفین کو کسی بھی کمی یا تاخیر کے بارے میں مطلع کیا جائے گا۔</p>
<p>وزیر اعظم نے نئے مرکز کا دورہ کیا اور عملے سے ملاقات کی، جنہیں انہوں نے انتہائی باصلاحیت اور قابل قرار دیا۔ انہوں نے سرکاری ملازمین پر زور دیا کہ وہ آنے والے سرمایہ کاروں کا مسکراتے چہرے اور حقیقی تعاون کے ساتھ استقبال کریں اور کسی قسم کی تاخیر کو برداشت نہ کیا جائے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے اشارہ دیا کہ اگر اسلام آباد میں شروع ہونے والا یہ پائلٹ ماڈل کامیاب ثابت ہوا تو اس کی طرز پر دیگر شہروں میں بھی ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا
یہ ایسا ہونا چاہیے کہ دیگر ممالک پاکستان کی مثال دیں اور کہیں: ہاں، پاکستان نے درست قدم اٹھایا۔</p>
<p>افتتاحی تقریب میں وزرا قیصر احمد شیخ، عطا اللہ تارڑ، شیزا فاطمہ خواجہ، احد چیمہ اور ڈاکٹر مصدق ملک سمیت اعلیٰ حکومتی حکام شریک تھے۔</p>
<p>پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور پیچیدہ قوانین کے باعث کاروباری اعتماد متاثر ہوا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ یہ نیا مرکز سرمایہ کار دوست ماحول کی طرف ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276103</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Aug 2025 09:22:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/22092043def5b04.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/22092043def5b04.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
