<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے ڈی بی کا ریکوڈک منصوبے کے لیے 410 ملین ڈالر فنانسنگ پیکیج کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276096/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) پاکستان کے ریکوڈک کاپر مائن کی ترقی کے لیے 410 ملین ڈالر کا مالیاتی پیکیج فراہم کرے گا، جو دنیا کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ تانبے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ یہ منصوبہ کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے زیرِ انتظام چلایا جائے گا۔ یہ انکشاف جمعرات کو رائٹرز کو دو باخبر ذرائع نے کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کو توقع ہے کہ یہ منصوبہ ملک کے معدنی شعبے، خاص طور پر ریئر ارتھ (نایاب معدنیات) کے ذخائر کو بروئے کار لانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ کی دلچسپی حاصل کر چکا ہے اور امریکی کمپنیوں کو مستقبل میں مراعات دینے کی پیشکش بھی کی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قرضے اور مالیاتی ضمانتیں ریکوڈک منصوبے کی ترقی میں معاون ہوں گی، جہاں 2028 سے تانبہ اور سونا نکالنے کا آغاز متوقع ہے۔ منصوبے کی عمر ( مدت پیداوار) کے دوران تقریباً 70 ارب ڈالر کا منافع بخش کیش فلو (خالص آمدنی) پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کو دستیاب معلومات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جانب سے ریکوڈک منصوبے کے لیے فراہم کیے جانے والے 410 ملین ڈالر کے مالیاتی پیکیج میں بیرک گولڈ کو دو قرضوں کی مد میں 300 ملین ڈالر شامل ہیں جبکہ پاکستانی حکومت کے لیے 110 ملین ڈالر کی فنانسنگ گارنٹی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ 6.6 ارب ڈالر کا منصوبہ بلوچستان میں واقع ہے، جس میں بیرک گولڈ کا 50 فیصد حصہ ہے، جب کہ بقیہ 50 فیصد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کا مقصد مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کرنا ہے۔ اس سے قبل عالمی بینک کے نجی سرمایہ کاری ونگ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی جانب سے 700 ملین ڈالر کی فنانسنگ کا معاہدہ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹم کریب نے اپریل میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ دیگر ممکنہ مالیاتی اداروں سے بھی بات چیت جاری ہے، جن میں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ کینیڈا، جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن(جے بی آئی سی) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور توقع ہے کہ رواں سہ ماہی (کیو3 2025) میں ان اداروں کے ساتھ ابتدائی معاہدے (ٹرم شیٹس) پر دستخط ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی، وزارتِ پیٹرولیم اور بیرک گولڈ نے اس خبر پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک کاپر مائن، جو کئی سال قانونی تنازعات کی وجہ سے التوا کا شکار رہا اور 2022 میں تصفیہ کے بعد دوبارہ فعال ہوا، اب ترقی کی جانب گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے پہلے مرحلے میں سالانہ 2 لاکھ  میٹرک ٹن تانبے کی پیداوار متوقع ہے جب کہ توسیعی مرحلے کے بعد یہ مقدار بڑھ کر 4 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ تک پہنچ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی بیرک گولڈ کا کہنا ہے کہ موجودہ تخمینے کے مطابق کان کی متوقع عمر 37 سال ہے، تاہم مزید ایکسپلوریشن اور ٹیکنیکل اپگریڈز کے ذریعے اس منصوبے کی مدتِ پیداوار کو اس سے بھی زیادہ عرصے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) پاکستان کے ریکوڈک کاپر مائن کی ترقی کے لیے 410 ملین ڈالر کا مالیاتی پیکیج فراہم کرے گا، جو دنیا کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ تانبے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ یہ منصوبہ کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے زیرِ انتظام چلایا جائے گا۔ یہ انکشاف جمعرات کو رائٹرز کو دو باخبر ذرائع نے کیا ہے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد کو توقع ہے کہ یہ منصوبہ ملک کے معدنی شعبے، خاص طور پر ریئر ارتھ (نایاب معدنیات) کے ذخائر کو بروئے کار لانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ کی دلچسپی حاصل کر چکا ہے اور امریکی کمپنیوں کو مستقبل میں مراعات دینے کی پیشکش بھی کی جا چکی ہے۔</p>
<p>یہ قرضے اور مالیاتی ضمانتیں ریکوڈک منصوبے کی ترقی میں معاون ہوں گی، جہاں 2028 سے تانبہ اور سونا نکالنے کا آغاز متوقع ہے۔ منصوبے کی عمر ( مدت پیداوار) کے دوران تقریباً 70 ارب ڈالر کا منافع بخش کیش فلو (خالص آمدنی) پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔</p>
<p>رائٹرز کو دستیاب معلومات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جانب سے ریکوڈک منصوبے کے لیے فراہم کیے جانے والے 410 ملین ڈالر کے مالیاتی پیکیج میں بیرک گولڈ کو دو قرضوں کی مد میں 300 ملین ڈالر شامل ہیں جبکہ پاکستانی حکومت کے لیے 110 ملین ڈالر کی فنانسنگ گارنٹی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>یہ 6.6 ارب ڈالر کا منصوبہ بلوچستان میں واقع ہے، جس میں بیرک گولڈ کا 50 فیصد حصہ ہے، جب کہ بقیہ 50 فیصد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔</p>
<p>منصوبے کا مقصد مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کرنا ہے۔ اس سے قبل عالمی بینک کے نجی سرمایہ کاری ونگ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی جانب سے 700 ملین ڈالر کی فنانسنگ کا معاہدہ ہو چکا ہے۔</p>
<p>پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹم کریب نے اپریل میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ دیگر ممکنہ مالیاتی اداروں سے بھی بات چیت جاری ہے، جن میں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ کینیڈا، جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن(جے بی آئی سی) شامل ہیں۔</p>
<p>اور توقع ہے کہ رواں سہ ماہی (کیو3 2025) میں ان اداروں کے ساتھ ابتدائی معاہدے (ٹرم شیٹس) پر دستخط ہو جائیں گے۔</p>
<p>اے ڈی بی، وزارتِ پیٹرولیم اور بیرک گولڈ نے اس خبر پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔</p>
<p>ریکوڈک کاپر مائن، جو کئی سال قانونی تنازعات کی وجہ سے التوا کا شکار رہا اور 2022 میں تصفیہ کے بعد دوبارہ فعال ہوا، اب ترقی کی جانب گامزن ہے۔</p>
<p>منصوبے کے پہلے مرحلے میں سالانہ 2 لاکھ  میٹرک ٹن تانبے کی پیداوار متوقع ہے جب کہ توسیعی مرحلے کے بعد یہ مقدار بڑھ کر 4 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p>کمپنی بیرک گولڈ کا کہنا ہے کہ موجودہ تخمینے کے مطابق کان کی متوقع عمر 37 سال ہے، تاہم مزید ایکسپلوریشن اور ٹیکنیکل اپگریڈز کے ذریعے اس منصوبے کی مدتِ پیداوار کو اس سے بھی زیادہ عرصے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276096</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Aug 2025 21:13:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/212050147b14359.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/212050147b14359.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
