<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت اور روس کا تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق، ماسکو میں وزرائے خارجہ کی ملاقات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276095/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت اور روس کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کے روز ماسکو میں ملاقات کے دوران باہمی تجارتی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں جانب سے اس بات کے بہت کم اشارے ملے کہ بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد بھاری ٹیرف سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس سے تیل کی بڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث امریکی حکام نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر رکھا ہے، جو واشنگٹن کی جانب سے کسی ملک پر عائد کردہ بلند ترین محصولات میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی ممالک روسی خام تیل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری ماسکو کی یوکرین میں جاری جنگ کو مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ تاہم نئی دہلی کا کہنا ہے کہ تیل کی یہ خریداری خالصتاً تجارتی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔ بھارت نے امریکا اور یورپی یونین پر دہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ وہ خود بھی روس کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کے ساتھ ماسکو میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہائیڈرو کاربن کے شعبے میں، خصوصاً بھارتی مارکیٹ کو روسی تیل کی فراہمی کے حوالے سے تعاون کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں توانائی کے وسائل کی تلاش اور نکالنے سے متعلق مشترکہ منصوبے شروع کرنے میں باہمی دلچسپی ہے، جن میں روس کے مشرق بعید اور آرکٹک شیلف جیسے خطے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس موقع پر کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بھارت اور روس کے تعلقات دنیا کی بڑی طاقتوں میں سب سے زیادہ مستحکم رہے ہیں۔ انہوں نے سوویت یونین کے دور سے چلی آنے والی قریبی دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے تاریخی رشتے کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بھارت اور روس نے دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس میں بھارت کی روس کو برآمدات میں اضافہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جے شنکر نے کہا کہ تجارتی توسیع کے لیے غیر ٹیرفی رکاوٹوں اور ریگولیٹری مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ فارماسیوٹیکلز، زراعت اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں میں بھارت کی برآمدات میں اضافہ موجودہ تجارتی عدم توازن کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روس نے یورپ کو تیل کی فراہمی محدود کر کے اپنی برآمدات کا رخ چین اور بھارت کی جانب موڑ دیا ہے، جو اس وقت روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ روس کے لیے خام تیل کی فروخت ریاستی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی میں روسی سفارتخانے کے حکام نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ماسکو، امریکی دباؤ کے باوجود، بھارت کو تیل کی فراہمی جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ روس کو توقع ہے کہ جلد ہی بھارت، چین اور روس کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت اور روس کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کے روز ماسکو میں ملاقات کے دوران باہمی تجارتی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں جانب سے اس بات کے بہت کم اشارے ملے کہ بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد بھاری ٹیرف سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہوں گے۔</strong></p>
<p>روس سے تیل کی بڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث امریکی حکام نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر رکھا ہے، جو واشنگٹن کی جانب سے کسی ملک پر عائد کردہ بلند ترین محصولات میں شمار ہوتا ہے۔</p>
<p>مغربی ممالک روسی خام تیل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری ماسکو کی یوکرین میں جاری جنگ کو مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ تاہم نئی دہلی کا کہنا ہے کہ تیل کی یہ خریداری خالصتاً تجارتی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔ بھارت نے امریکا اور یورپی یونین پر دہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ وہ خود بھی روس کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کے ساتھ ماسکو میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہائیڈرو کاربن کے شعبے میں، خصوصاً بھارتی مارکیٹ کو روسی تیل کی فراہمی کے حوالے سے تعاون کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں توانائی کے وسائل کی تلاش اور نکالنے سے متعلق مشترکہ منصوبے شروع کرنے میں باہمی دلچسپی ہے، جن میں روس کے مشرق بعید اور آرکٹک شیلف جیسے خطے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس موقع پر کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بھارت اور روس کے تعلقات دنیا کی بڑی طاقتوں میں سب سے زیادہ مستحکم رہے ہیں۔ انہوں نے سوویت یونین کے دور سے چلی آنے والی قریبی دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے تاریخی رشتے کو اجاگر کیا۔</p>
<p>بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بھارت اور روس نے دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس میں بھارت کی روس کو برآمدات میں اضافہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جے شنکر نے کہا کہ تجارتی توسیع کے لیے غیر ٹیرفی رکاوٹوں اور ریگولیٹری مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ فارماسیوٹیکلز، زراعت اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں میں بھارت کی برآمدات میں اضافہ موجودہ تجارتی عدم توازن کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p>یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روس نے یورپ کو تیل کی فراہمی محدود کر کے اپنی برآمدات کا رخ چین اور بھارت کی جانب موڑ دیا ہے، جو اس وقت روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ روس کے لیے خام تیل کی فروخت ریاستی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔</p>
<p>نئی دہلی میں روسی سفارتخانے کے حکام نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ماسکو، امریکی دباؤ کے باوجود، بھارت کو تیل کی فراہمی جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ روس کو توقع ہے کہ جلد ہی بھارت، چین اور روس کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276095</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Aug 2025 20:40:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/212015250e7b52d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/212015250e7b52d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
