<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار ختم کیے جائیں، پاکستان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276082/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دہشت گردی کے مسئلے کو دوہرے معیار اور سیاسی ایجنڈے کے بغیر حل کرنے پر زور دیا ہے اور بھارتی مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظالم کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ قبضے کو انسدادِ دہشت گردی کے لبادے میں نہیں چھپایا جا سکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/1958217083008754099?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1958217083008754099%7Ctwgr%5E6846041710c815aa6487ce3db27645edc1602082%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40378980"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلامتی کونسل میں دہشت گردانہ اقدامات سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کے موضوع پر بحث سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہمیں واضح فرق کرنا ہوگا کہ دہشت گردی اور عوام کی جائز جدوجہد برائے خود ارادیت اور غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت میں کیا فرق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ صفِ اول میں رہا ہے اور داعش کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ ان دہشت گرد گروہوں نے افغانستان اور خطے میں باہمی تعاون قائم کیا ہے اور پاکستان پر حملوں کے لیے وسائل، معلومات اور سہولتیں بانٹ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/1958371923437727816"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر عاصم افتخار احمد نے ریاستی دہشت گردی کے مسئلے پر بھی زور دیا اور کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین اس کی واضح مثالیں ہیں جہاں قابض افواج انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، آبادیاتی تبدیلیاں اور جھوٹے انسدادِ دہشت گردی بیانیے استعمال کر کے غیر قانونی قبضے کو طول دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی صورتحال نازک ہے اور وہاں سے اٹھنے والا دہشت گردی کا خطرہ پاکستان اور خطے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تقریباً چھ ہزار ٹی ٹی پی جنگجو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور ان کا تعاون بی ایل اے کے ساتھ بھی ثابت ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے بھارت پر بھی بالواسطہ تنقید کی کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کو مالی معاونت اور سہولت فراہم کرتا ہے اور پاکستان کے اندر عام شہریوں کو نشانہ بناتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب ریاستی دہشت گردی انسدادِ دہشت گردی کے نام پر کی جائے تو سب سے پہلا نقصان عالمی امن کو ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ آن لائن اور ڈیجیٹل دنیا میں بھی پھیل چکی ہے، لہٰذا دنیا کو یکجا ہو کر جامع حکمت عملی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دہشت گردی کے مسئلے کو دوہرے معیار اور سیاسی ایجنڈے کے بغیر حل کرنے پر زور دیا ہے اور بھارتی مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظالم کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ قبضے کو انسدادِ دہشت گردی کے لبادے میں نہیں چھپایا جا سکتا۔</strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/1958217083008754099?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1958217083008754099%7Ctwgr%5E6846041710c815aa6487ce3db27645edc1602082%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40378980"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>سلامتی کونسل میں دہشت گردانہ اقدامات سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کے موضوع پر بحث سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہمیں واضح فرق کرنا ہوگا کہ دہشت گردی اور عوام کی جائز جدوجہد برائے خود ارادیت اور غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت میں کیا فرق ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ صفِ اول میں رہا ہے اور داعش کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ ان دہشت گرد گروہوں نے افغانستان اور خطے میں باہمی تعاون قائم کیا ہے اور پاکستان پر حملوں کے لیے وسائل، معلومات اور سہولتیں بانٹ رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/1958371923437727816"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>سفیر عاصم افتخار احمد نے ریاستی دہشت گردی کے مسئلے پر بھی زور دیا اور کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین اس کی واضح مثالیں ہیں جہاں قابض افواج انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، آبادیاتی تبدیلیاں اور جھوٹے انسدادِ دہشت گردی بیانیے استعمال کر کے غیر قانونی قبضے کو طول دے رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی صورتحال نازک ہے اور وہاں سے اٹھنے والا دہشت گردی کا خطرہ پاکستان اور خطے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تقریباً چھ ہزار ٹی ٹی پی جنگجو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور ان کا تعاون بی ایل اے کے ساتھ بھی ثابت ہو چکا ہے۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے بھارت پر بھی بالواسطہ تنقید کی کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کو مالی معاونت اور سہولت فراہم کرتا ہے اور پاکستان کے اندر عام شہریوں کو نشانہ بناتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب ریاستی دہشت گردی انسدادِ دہشت گردی کے نام پر کی جائے تو سب سے پہلا نقصان عالمی امن کو ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ آن لائن اور ڈیجیٹل دنیا میں بھی پھیل چکی ہے، لہٰذا دنیا کو یکجا ہو کر جامع حکمت عملی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276082</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Aug 2025 14:52:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/2114494403b8698.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/2114494403b8698.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
