<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چھوٹے کسانوں کی قرضوں تک رسائی، حکومت نے بینکوں کیلئے رسک کور اسکیم متعارف کرا دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276063/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی حکومت نے زرعی شعبے کو مضبوط بنانے اور چھوٹے و پسماندہ کسانوں کو قرضوں تک زیادہ رسائی دینے کے لیے بینکوں اور مائیکروفنانس اداروں (ایم ایف بیز) کے لیے ایک رسک کور اسکیم متعارف کرائی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسکیم کا مقصد مالیاتی اداروں کے لیے قرضوں کے خطرات کو کم کرکے ان کسانوں کو مالی معاونت فراہم کرنا ہے جو اب تک غیر سہولت یافتہ یا کم سہولت یافتہ علاقوں میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کے تحت تمام کمرشل بینک، اسلامی بینک، اسپیشلائزڈ بینک اور مائیکروفنانس بینک حصہ لے سکیں گے۔ اسکیم کے مطابق 30 جون 2028 تک فصلوں، ڈیری، لائیو اسٹاک اور ماہی پروری کے لیے دیے جانے والے تین ملین روپے تک کے پیداوار قرضے اس میں شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق پنجاب اور سندھ میں چھوٹے کسان جبکہ خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام کسان قرض لینے کے اہل ہوں گے۔ قرض کی مدت عموماً 12 ماہ ہوگی تاہم گنے کے لیے یہ مدت 18 ماہ رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی قرض یا قسط کی ادائیگی 12 ماہ سے زائد تاخیر کا شکار ہو تو اسے نقصان شمار کیا جائے گا۔ حکومت قرض کی اصل رقم پر نئے اور موجودہ قرض داروں کے لیے 10 فیصد تک کا رسک کور فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک اپنے دعوے اسٹیٹ بینک کے فنانشل انکلوژن سپورٹ ڈپارٹمنٹ (ایف آئی ایس ڈی) کو جمع کرائیں گے۔ تاہم رسک کور کی ادائیگی کے باوجود بینک قرض کی وصولی کا عمل جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی ڈیفالٹر سے ریکوری ہو تو یہ رقم یا تو بینک کے بقایا دعوؤں کے ساتھ ایڈجسٹ ہوگی، یا پھر ایف آئی ایس ڈی کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی تاکہ اسے دیگر بینکوں کے دعوؤں کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ وفاقی حکومت ہر نئے قرض لینے والے پر 10 ہزار روپے بطور آپریشنل اخراجات بینکوں کو ادا کرے گی، بشرطیکہ قرض لینے والوں کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں بڑھی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں اور مائیکروفنانس اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس اسکیم پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی حکومت نے زرعی شعبے کو مضبوط بنانے اور چھوٹے و پسماندہ کسانوں کو قرضوں تک زیادہ رسائی دینے کے لیے بینکوں اور مائیکروفنانس اداروں (ایم ایف بیز) کے لیے ایک رسک کور اسکیم متعارف کرائی ہے۔</strong></p>
<p>اس اسکیم کا مقصد مالیاتی اداروں کے لیے قرضوں کے خطرات کو کم کرکے ان کسانوں کو مالی معاونت فراہم کرنا ہے جو اب تک غیر سہولت یافتہ یا کم سہولت یافتہ علاقوں میں موجود ہیں۔</p>
<p>اس اقدام کے تحت تمام کمرشل بینک، اسلامی بینک، اسپیشلائزڈ بینک اور مائیکروفنانس بینک حصہ لے سکیں گے۔ اسکیم کے مطابق 30 جون 2028 تک فصلوں، ڈیری، لائیو اسٹاک اور ماہی پروری کے لیے دیے جانے والے تین ملین روپے تک کے پیداوار قرضے اس میں شامل ہوں گے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق پنجاب اور سندھ میں چھوٹے کسان جبکہ خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام کسان قرض لینے کے اہل ہوں گے۔ قرض کی مدت عموماً 12 ماہ ہوگی تاہم گنے کے لیے یہ مدت 18 ماہ رکھی گئی ہے۔</p>
<p>اگر کسی قرض یا قسط کی ادائیگی 12 ماہ سے زائد تاخیر کا شکار ہو تو اسے نقصان شمار کیا جائے گا۔ حکومت قرض کی اصل رقم پر نئے اور موجودہ قرض داروں کے لیے 10 فیصد تک کا رسک کور فراہم کرے گی۔</p>
<p>بینک اپنے دعوے اسٹیٹ بینک کے فنانشل انکلوژن سپورٹ ڈپارٹمنٹ (ایف آئی ایس ڈی) کو جمع کرائیں گے۔ تاہم رسک کور کی ادائیگی کے باوجود بینک قرض کی وصولی کا عمل جاری رکھیں گے۔</p>
<p>اگر کسی ڈیفالٹر سے ریکوری ہو تو یہ رقم یا تو بینک کے بقایا دعوؤں کے ساتھ ایڈجسٹ ہوگی، یا پھر ایف آئی ایس ڈی کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی تاکہ اسے دیگر بینکوں کے دعوؤں کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جاسکے۔</p>
<p>مزید یہ کہ وفاقی حکومت ہر نئے قرض لینے والے پر 10 ہزار روپے بطور آپریشنل اخراجات بینکوں کو ادا کرے گی، بشرطیکہ قرض لینے والوں کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں بڑھی ہو۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں اور مائیکروفنانس اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس اسکیم پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276063</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Aug 2025 10:09:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/21100821b1722c4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/21100821b1722c4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
