<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 23:53:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 23:53:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اپٹما نے ایس این جی پی ایل سے آر ایل این جی بقایا جات ختم کرنے کا مطالبہ کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276060/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے رکن ملز کے گیس بلوں سے آر ایل این جی کے کثیر سالہ بقایا جات فوری طور پر واپس لے اور کسی بھی زبردستی کی وصولی کارروائی جیسے گیس منقطع کرنا، سرچارج عائد کرنا، کریڈٹ ہسٹری میں منفی اندراج یا قانونی چارہ جوئی سے گریز کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی ٹی ایم اے کے سیکرٹری جنرل شاہد ستار نے ایس این جی پی ایل کو ایک خط میں کہا کہ جولائی 2025 میں ملوں کو اچانک جون 2015 سے جون 2022 تک کے مبینہ آر ایل این جی ایڈجسٹمنٹس کے بل بھیجے گئے ہیں جن کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔ یہ بل بغیر پیشگی اطلاع، حسابی تفصیلات، لاگ بکس یا وضاحت کے بھیجے گئے اور ادائیگی کی آخری تاریخ پہلے 12 اگست اور پھر احتجاج کے بعد 22 اگست مقرر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آر ایل این جی ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ صرف آئندہ ادوار میں شفاف طریقہ کار سے کی جا سکتی ہے، مگر ایس این جی پی ایل نے قانون اور اوگرا آرڈیننس 2002 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی سالوں کا بیک وقت حساب لگا دیا ہے۔ اس اقدام سے پہلے صنعتی صارفین کو تفصیلی ورک شیٹس یا حسابی طریقہ کار فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی سماعت کا موقع دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی ٹی ایم اے نے مؤقف اختیار کیا کہ اس قسم کی یکمشت وصولی نہ صرف آئینی حقِ سماعت (آرٹیکل 10-اے) کی خلاف ورزی ہے بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے 2020 کے فیصلے کے بھی منافی ہے جس میں ملٹی ائیر ایڈجسٹمنٹ پر پابندی عائد کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد ستار نے خبردار کیا کہ شفافیت کے بغیر ایسے بھاری بقایا جات کی وصولی پہلے ہی مالی مشکلات کے شکار ٹیکسٹائل سیکٹر کو تباہ کر دے گی اور درجنوں ملز کے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت صرف اسی صورت معاملہ قبول کرے گی جب ماہ بہ ماہ کھپت، عارضی نرخ، اصل نرخ اور فرق کی تفصیل شفاف انداز میں مہیا کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے رکن ملز کے گیس بلوں سے آر ایل این جی کے کثیر سالہ بقایا جات فوری طور پر واپس لے اور کسی بھی زبردستی کی وصولی کارروائی جیسے گیس منقطع کرنا، سرچارج عائد کرنا، کریڈٹ ہسٹری میں منفی اندراج یا قانونی چارہ جوئی سے گریز کرے۔</strong></p>
<p>اے پی ٹی ایم اے کے سیکرٹری جنرل شاہد ستار نے ایس این جی پی ایل کو ایک خط میں کہا کہ جولائی 2025 میں ملوں کو اچانک جون 2015 سے جون 2022 تک کے مبینہ آر ایل این جی ایڈجسٹمنٹس کے بل بھیجے گئے ہیں جن کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔ یہ بل بغیر پیشگی اطلاع، حسابی تفصیلات، لاگ بکس یا وضاحت کے بھیجے گئے اور ادائیگی کی آخری تاریخ پہلے 12 اگست اور پھر احتجاج کے بعد 22 اگست مقرر کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آر ایل این جی ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ صرف آئندہ ادوار میں شفاف طریقہ کار سے کی جا سکتی ہے، مگر ایس این جی پی ایل نے قانون اور اوگرا آرڈیننس 2002 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی سالوں کا بیک وقت حساب لگا دیا ہے۔ اس اقدام سے پہلے صنعتی صارفین کو تفصیلی ورک شیٹس یا حسابی طریقہ کار فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی سماعت کا موقع دیا گیا۔</p>
<p>اے پی ٹی ایم اے نے مؤقف اختیار کیا کہ اس قسم کی یکمشت وصولی نہ صرف آئینی حقِ سماعت (آرٹیکل 10-اے) کی خلاف ورزی ہے بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے 2020 کے فیصلے کے بھی منافی ہے جس میں ملٹی ائیر ایڈجسٹمنٹ پر پابندی عائد کی گئی تھی۔</p>
<p>شاہد ستار نے خبردار کیا کہ شفافیت کے بغیر ایسے بھاری بقایا جات کی وصولی پہلے ہی مالی مشکلات کے شکار ٹیکسٹائل سیکٹر کو تباہ کر دے گی اور درجنوں ملز کے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت صرف اسی صورت معاملہ قبول کرے گی جب ماہ بہ ماہ کھپت، عارضی نرخ، اصل نرخ اور فرق کی تفصیل شفاف انداز میں مہیا کی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276060</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Aug 2025 09:46:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/21094611e6a1360.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/21094611e6a1360.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
