<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:18:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:18:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں بارشوں سے تاجروں کو 15 ارب روپے کا نقصان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276058/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں مسلسل طوفانی بارشوں نے شہر کی زندگی مفلوج کر دی ہے جس کے باعث معاشی سرگرمیاں رک گئیں اور تاجروں کو صرف دو دن میں تقریباً 15 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ بارش نے شہر کے خستہ حال انفراسٹرکچر کو عیاں کر دیا، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، گٹر اُبل پڑے اور بازار کیچڑ سے اَٹ گئے جس سے گاہک دکانوں تک نہ پہنچ سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے آئندہ تین روز تک بادل چھائے رہنے، وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کے ساتھ طوفان کی پیش گوئی کی ہے جس سے شہریوں اور کاروباری طبقے کی مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ بارش کے بعد شہر بھر میں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ گلشنِ اقبال اور گلستانِ جوہر سمیت کئی علاقوں میں 26 سے 28 گھنٹے تک بجلی غائب رہی، جس پر شہریوں نے سڑکیں بند کر کے شدید احتجاج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروں کے مطابق بڑے تھوک فروشوں سے لے کر چھوٹے دکانداروں تک سب متاثر ہوئے ہیں۔ پھل، سبزیاں اور دیگر خراب ہونے والی اشیاء ریفریجریشن نہ ہونے کے باعث ضائع ہو گئیں۔ کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کہا کہ نقصان کا یہ ابتدائی تخمینہ ہے، اصل خرچ تو دکانوں کی مرمت اور پانی سے خراب ہونے والے سامان کی بحالی پر آئے گا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری تعطیل کے فیصلے نے مزدوروں کو مارکیٹوں تک آنے سے روک دیا اور کاروبار مزید متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اسی طرح جاری رہی تو کراچی مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ دوسری جانب جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو شہر کے بلدیاتی نظام تباہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 500 ارب روپے کے خصوصی پیکج اور ہر ٹاؤن کے لیے 2 ارب روپے کی گرانٹ کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شہری علاقوں میں سیلاب، نشیبی مقامات پر پانی جمع ہونے اور کمزور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ حالیہ بارش کے اعداد و شمار کے مطابق گلشنِ حدید میں 178 ملی میٹر، کیماڑی میں 173 ملی میٹر، ایئرپورٹ پرانے علاقے میں 163.5 ملی میٹر اور حیدرآباد میں 58 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام صورتحال کراچی کے تجارتی اور رہائشی طبقے کے لیے سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ماہرین کے مطابق اگر بارشوں کا سلسلہ مزید جاری رہا تو نقصانات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں مسلسل طوفانی بارشوں نے شہر کی زندگی مفلوج کر دی ہے جس کے باعث معاشی سرگرمیاں رک گئیں اور تاجروں کو صرف دو دن میں تقریباً 15 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ بارش نے شہر کے خستہ حال انفراسٹرکچر کو عیاں کر دیا، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، گٹر اُبل پڑے اور بازار کیچڑ سے اَٹ گئے جس سے گاہک دکانوں تک نہ پہنچ سکے۔</strong></p>
<p>محکمہ موسمیات نے آئندہ تین روز تک بادل چھائے رہنے، وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کے ساتھ طوفان کی پیش گوئی کی ہے جس سے شہریوں اور کاروباری طبقے کی مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ بارش کے بعد شہر بھر میں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ گلشنِ اقبال اور گلستانِ جوہر سمیت کئی علاقوں میں 26 سے 28 گھنٹے تک بجلی غائب رہی، جس پر شہریوں نے سڑکیں بند کر کے شدید احتجاج کیا۔</p>
<p>تاجروں کے مطابق بڑے تھوک فروشوں سے لے کر چھوٹے دکانداروں تک سب متاثر ہوئے ہیں۔ پھل، سبزیاں اور دیگر خراب ہونے والی اشیاء ریفریجریشن نہ ہونے کے باعث ضائع ہو گئیں۔ کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کہا کہ نقصان کا یہ ابتدائی تخمینہ ہے، اصل خرچ تو دکانوں کی مرمت اور پانی سے خراب ہونے والے سامان کی بحالی پر آئے گا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری تعطیل کے فیصلے نے مزدوروں کو مارکیٹوں تک آنے سے روک دیا اور کاروبار مزید متاثر ہوا۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اسی طرح جاری رہی تو کراچی مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ دوسری جانب جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو شہر کے بلدیاتی نظام تباہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 500 ارب روپے کے خصوصی پیکج اور ہر ٹاؤن کے لیے 2 ارب روپے کی گرانٹ کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شہری علاقوں میں سیلاب، نشیبی مقامات پر پانی جمع ہونے اور کمزور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ حالیہ بارش کے اعداد و شمار کے مطابق گلشنِ حدید میں 178 ملی میٹر، کیماڑی میں 173 ملی میٹر، ایئرپورٹ پرانے علاقے میں 163.5 ملی میٹر اور حیدرآباد میں 58 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>یہ تمام صورتحال کراچی کے تجارتی اور رہائشی طبقے کے لیے سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ماہرین کے مطابق اگر بارشوں کا سلسلہ مزید جاری رہا تو نقصانات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276058</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Aug 2025 09:29:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/210928561e408a1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/210928561e408a1.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
