<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 09:59:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 12 Aug 2026 09:59:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان، چین اور افغانستان کا انسدادِ دہشت گردی کے لیے مشترکہ عزم، سی پیک توسیع پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276048/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چھٹا سہ فریقی وزرائے خارجہ مکالمہ بدھ کے روز کابل میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای اور افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی نے شرکت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں فریقین نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور تجارت، ٹرانزٹ، علاقائی ترقی، صحت، تعلیم، ثقافت اور منشیات کے کنٹرول جیسے شعبوں میں
تعاون کو وسعت دینے کے عہد کی تجدید کی۔ فریقین نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو افغانستان تک توسیع دینے پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1958152836174520470"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر اسحاق ڈار اور مولوی امیر خان متقی کے درمیان دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا اور سفارتی نمائندگی کے درجۂ ترقی، چارج ڈی افیئرز سے سفیر کی سطح تک،کا خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں کابل اور بیجنگ میں ہونے والے پچھلے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور تجارت و ٹرانزٹ کے شعبوں میں حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں کا اعتراف کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسحاق ڈار نے سیکورٹی کے میدان میں تعاون کی سست رفتاری پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستان میں بڑھتے ہوئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ
کابل حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) /مجید بریگیڈ کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولوی امیر خان متقی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے افغان حکام کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا
اور سہ فریقی مکالمے کی کامیاب میزبانی پر انہیں مبارکباد پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، نائب وزیرِاعظم کابل پہنچے تو ان کے ہمراہ افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ، سفیر محمد صادق اور وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ اجلاس، جو 21 مئی کو منعقد ہوا تھا، میں تینوں فریقین نے سہ فریقی تعاون کو علاقائی سلامتی اور اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر تسلیم کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنماؤں نے سفارتی روابط کو بڑھانے، رابطوں کو مضبوط بنانے،اور تجارت، بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق کیا تاکہ خطے میں مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت تعاون کو مزید گہرا کرنے اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک) کو افغانستان تک توسیع دینے پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چھٹا سہ فریقی وزرائے خارجہ مکالمہ بدھ کے روز کابل میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای اور افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی نے شرکت کی۔</strong></p>
<p>تینوں فریقین نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور تجارت، ٹرانزٹ، علاقائی ترقی، صحت، تعلیم، ثقافت اور منشیات کے کنٹرول جیسے شعبوں میں
تعاون کو وسعت دینے کے عہد کی تجدید کی۔ فریقین نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو افغانستان تک توسیع دینے پر بھی اتفاق کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1958152836174520470"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس موقع پر اسحاق ڈار اور مولوی امیر خان متقی کے درمیان دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا اور سفارتی نمائندگی کے درجۂ ترقی، چارج ڈی افیئرز سے سفیر کی سطح تک،کا خیرمقدم کیا۔</p>
<p>ملاقات میں کابل اور بیجنگ میں ہونے والے پچھلے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور تجارت و ٹرانزٹ کے شعبوں میں حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں کا اعتراف کیا گیا۔</p>
<p>تاہم اسحاق ڈار نے سیکورٹی کے میدان میں تعاون کی سست رفتاری پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستان میں بڑھتے ہوئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ
کابل حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) /مجید بریگیڈ کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔</p>
<p>مولوی امیر خان متقی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے افغان حکام کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا
اور سہ فریقی مکالمے کی کامیاب میزبانی پر انہیں مبارکباد پیش کی۔</p>
<p>قبل ازیں، نائب وزیرِاعظم کابل پہنچے تو ان کے ہمراہ افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ، سفیر محمد صادق اور وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔</p>
<p>گزشتہ اجلاس، جو 21 مئی کو منعقد ہوا تھا، میں تینوں فریقین نے سہ فریقی تعاون کو علاقائی سلامتی اور اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر تسلیم کیا تھا۔</p>
<p>رہنماؤں نے سفارتی روابط کو بڑھانے، رابطوں کو مضبوط بنانے،اور تجارت، بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق کیا تاکہ خطے میں مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت تعاون کو مزید گہرا کرنے اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک) کو افغانستان تک توسیع دینے پر بھی اتفاق کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276048</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Aug 2025 19:46:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/201928245a2bdc1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1334" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/201928245a2bdc1.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
