<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے جنگ بندی منصوبے پر حماس رضامند، ثالث اسرائیلی جواب کے منتظر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276042/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے نیا جنگ بندی منصوبہ سامنے آیا ہے جس پر حماس نے رضامندی ظاہر کر دی ہے، تاہم ثالث اب اسرائیلی جواب کے منتظر ہیں۔ قطر اور مصر کی مشترکہ کوششوں سے تیار کردہ اس تجویز کو امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ مصری حکام کے مطابق منصوبہ اسرائیل کو بھیج دیا گیا ہے اور اب فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ حماس کا ردِعمل نہایت مثبت ہے اور یہ تجویز تقریباً وہی ہے جس پر پہلے اسرائیل اتفاق کر چکا تھا۔ ان کے مطابق اگرچہ کسی بڑے بریک تھرو کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصری میڈیا کے مطابق نئے منصوبے میں ابتدائی ساٹھ روزہ جنگ بندی، جزوی یرغمالیوں کی رہائی، کچھ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی فراہمی شامل ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے فی الحال کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔ وہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل صرف اسی معاہدے کو قبول کرے گا جس میں تمام یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کیا جائے اور جنگ اسرائیل کی شرائط پر ختم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے رہنما محمود مرداوی نے کہا کہ معاہدے کے امکانات کے دروازے کھول دیے گئے ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا نیتن یاہو دوبارہ اسے بند کرتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسرائیلی کابینہ نے حال ہی میں غزہ شہر اور قریبی پناہ گزین کیمپوں پر حملے کی منظوری دی ہے، جس سے انسانی بحران کے مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِقومی سلامتی اتمار بن گویر نے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیتن یاہو نے حماس کے سامنے جھکاؤ دکھایا تو یہ ایک ”المیہ“ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق منگل کو اسرائیلی حملوں میں 31 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ مجموعی شہادتوں کی تعداد 62 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ اقوامِ متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے نیا جنگ بندی منصوبہ سامنے آیا ہے جس پر حماس نے رضامندی ظاہر کر دی ہے، تاہم ثالث اب اسرائیلی جواب کے منتظر ہیں۔ قطر اور مصر کی مشترکہ کوششوں سے تیار کردہ اس تجویز کو امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ مصری حکام کے مطابق منصوبہ اسرائیل کو بھیج دیا گیا ہے اور اب فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے۔</strong></p>
<p>قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ حماس کا ردِعمل نہایت مثبت ہے اور یہ تجویز تقریباً وہی ہے جس پر پہلے اسرائیل اتفاق کر چکا تھا۔ ان کے مطابق اگرچہ کسی بڑے بریک تھرو کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔</p>
<p>مصری میڈیا کے مطابق نئے منصوبے میں ابتدائی ساٹھ روزہ جنگ بندی، جزوی یرغمالیوں کی رہائی، کچھ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی فراہمی شامل ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے فی الحال کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔ وہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل صرف اسی معاہدے کو قبول کرے گا جس میں تمام یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کیا جائے اور جنگ اسرائیل کی شرائط پر ختم ہو۔</p>
<p>حماس کے رہنما محمود مرداوی نے کہا کہ معاہدے کے امکانات کے دروازے کھول دیے گئے ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا نیتن یاہو دوبارہ اسے بند کرتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>ادھر اسرائیلی کابینہ نے حال ہی میں غزہ شہر اور قریبی پناہ گزین کیمپوں پر حملے کی منظوری دی ہے، جس سے انسانی بحران کے مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِقومی سلامتی اتمار بن گویر نے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیتن یاہو نے حماس کے سامنے جھکاؤ دکھایا تو یہ ایک ”المیہ“ ہوگا۔</p>
<p>غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق منگل کو اسرائیلی حملوں میں 31 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ مجموعی شہادتوں کی تعداد 62 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ اقوامِ متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276042</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Aug 2025 14:13:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/2014115618947a2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/2014115618947a2.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
