<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈین آئل اور بھارت پٹرولیم نے ستمبر کیلئے روسی تیل کی خریداری دوبارہ شروع کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276032/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی سرکاری آئل ریفائنریز، انڈین آئل اور بھارت پٹرولیم نے روسی تیل خرید لیا ہے جو ستمبر اور اکتوبر میں فراہم کیا جائے گا۔ دونوں کمپنیوں کے حکام نے بدھ کے روز بتایا یہ خریداری رعایتوں میں اضافے کے بعد دوبارہ شروع کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفائنریز نے جولائی میں خریداری اس وقت روک دی تھی جب رعایتیں کم ہو گئیں اور واشنگٹن نے بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 27 اگست سے بھارتی مصنوعات پر اضافی 25فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے تاکہ نئی دہلی کو روسی تیل کی مسلسل خریداری پر سزا دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق روسی یورالز خام تیل پر رعایت تقریباً 3 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی ہے جس سے یہ بھارتی ریفائنریز کے لیے پرکشش ہو گیا ہے، جبکہ چین نے بھی اپنی خریداری میں اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورالز کے علاوہ، انڈین آئل کارپوریشن  نے روسی خام تیل کی دیگر اقسام بھی خریدی ہیں جن میں ورانڈے اور سائبیرین لائٹ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی کمپنیاں اپنے خام تیل کی درآمدات پر تبصرہ نہیں کرتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز، انڈین آئل کارپوریشن، جو ملک کی سب سے بڑی ریفائنری ہے، نے تجزیہ کاروں کو بتایا کہ وہ معاشی حساب کتاب کے مطابق روسی تیل خریدتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی سرکاری آئل ریفائنریز، انڈین آئل اور بھارت پٹرولیم نے روسی تیل خرید لیا ہے جو ستمبر اور اکتوبر میں فراہم کیا جائے گا۔ دونوں کمپنیوں کے حکام نے بدھ کے روز بتایا یہ خریداری رعایتوں میں اضافے کے بعد دوبارہ شروع کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>ریفائنریز نے جولائی میں خریداری اس وقت روک دی تھی جب رعایتیں کم ہو گئیں اور واشنگٹن نے بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 27 اگست سے بھارتی مصنوعات پر اضافی 25فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے تاکہ نئی دہلی کو روسی تیل کی مسلسل خریداری پر سزا دی جا سکے۔</p>
<p>حکام کے مطابق روسی یورالز خام تیل پر رعایت تقریباً 3 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی ہے جس سے یہ بھارتی ریفائنریز کے لیے پرکشش ہو گیا ہے، جبکہ چین نے بھی اپنی خریداری میں اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p>یورالز کے علاوہ، انڈین آئل کارپوریشن  نے روسی خام تیل کی دیگر اقسام بھی خریدی ہیں جن میں ورانڈے اور سائبیرین لائٹ شامل ہیں۔</p>
<p>بھارتی کمپنیاں اپنے خام تیل کی درآمدات پر تبصرہ نہیں کرتیں۔</p>
<p>پیر کے روز، انڈین آئل کارپوریشن، جو ملک کی سب سے بڑی ریفائنری ہے، نے تجزیہ کاروں کو بتایا کہ وہ معاشی حساب کتاب کے مطابق روسی تیل خریدتی رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276032</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Aug 2025 12:32:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/20122940dbe31f9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="634" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/20122940dbe31f9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
