<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای سی سی نے بارش متاثرین کیلئے 5.8 ارب روپے کا ریلیف پیکج منظور کرلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276027/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے منگل کے روز حالیہ مون سون بارشوں سے متاثرہ افراد کے لیے 5.8 ارب روپے کے ریلیف پیکج کی منظوری دے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے وزارتِ خزانہ کو فوری طور پر 4 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت دی تاکہ متاثرہ عوام کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے حالیہ بارشوں کے متاثرین کے لیے وفاقی امداد کی تجویز کو اصولی طور پر منظور کرتے ہوئے 5.8 ارب روپے کے ریلیف پیکج کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزارتِ بحری امور کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر بھی غور کیا گیا جو جنوبی افریقہ میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہازوں کی حراست سے متعلق تھی۔ یہ مسئلہ مسٹر کونِسٹن کی پاکستان اسٹیل ملز لمیٹڈ کے خلاف دعووں کی بنیاد پر سامنے آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غور و خوض کے بعد ای سی سی نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی کہ وہ 330.526 ملین روپے پی این ایس سی کو ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کے ذریعے فراہم کرے، جیسا کہ 2017 میں ای سی سی کے ایک سابقہ فیصلے میں طے کیا گیا تھا۔ مزید برآں وزارتِ صنعت و پیداوار کو ہدایت دی گئی کہ وہ ثالثی کیس کو عدالت میں جلد از جلد حتمی شکل دے اور تین ماہ کے اندر اس پیش رفت کی رپورٹ ای سی سی کو پیش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے پاور ڈویژن کی یہ تجویز بھی منظور کی کہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ ملک بھر میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔ اسی طرح وزیرِ اعظم کے ”فین ریپلیسمنٹ پروگرام“ کے آغاز کے لیے متعلقہ اداروں بشمول نیئکا، اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کی جانب سے تیار کردہ ڈرافٹ ٹرائپارٹائٹ ایگریمنٹ کی بنیاد پر ٹرم شیٹ کی بھی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروگرام کے آغاز کے لیے ای سی سی نے نیئکا کے حق میں 2 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی۔ نیشنل سکیورٹی ڈویژن کے اسٹریٹجک پالیسی پلاننگ سیل کے لیے بھی 250 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی، تاہم فیصلہ کیا گیا کہ باقی رقم مرحلہ وار جاری کی جائے گی، جس کے لیے اخراجات کا جواز اور سیاق و سباق وزارتِ خزانہ کے ساتھ مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کی جانب سے پیش کی گئی ایک اور تجویز پر، جو راست کیو آر کوڈ کے ذریعے پرسن-ٹو-مرچنٹ ادائیگیوں پر سبسڈی سے متعلق تھی، ای سی سی نے موجودہ مالی سال کے لیے 3.5 ارب روپے کی منظوری دی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ اسکیم تین سال تک جاری رہے گی تاکہ ڈیجیٹل اپنانے کے عمل کو تیز کیا جا سکے اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے مزید فیصلہ کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان فوری طور پر اس اسکیم کو نوٹیفائی کرے اور مالی سال کے اختتام تک ای سی سی کو اس اسکیم کی مؤثریت پر جامع جائزہ رپورٹ پیش کرے۔ اس کے علاوہ وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے پیش کی گئی ”نیو انرجی وہیکل پالیسی 30-2025“ کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹی نے ایک جامع اور مستقبل بین پالیسی تیار کرنے پر وزارت کی تعریف کی جو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ ہے اور ملک کو الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اراکین کو چھوٹے کسانوں اور پسماندہ علاقوں کے لیے تیار کی گئی رسک کوریج اسکیم پر بھی بریفنگ دی گئی، جس کے تحت پنجاب اور سندھ کے چھوٹے کسانوں کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام کسانوں کو بھی کوریج فراہم کی جائے گی کیونکہ موجودہ زرعی قرضوں کی تقسیم میں ان کا حصہ انتہائی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے منگل کے روز حالیہ مون سون بارشوں سے متاثرہ افراد کے لیے 5.8 ارب روپے کے ریلیف پیکج کی منظوری دے دی۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے وزارتِ خزانہ کو فوری طور پر 4 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت دی تاکہ متاثرہ عوام کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>ای سی سی نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے حالیہ بارشوں کے متاثرین کے لیے وفاقی امداد کی تجویز کو اصولی طور پر منظور کرتے ہوئے 5.8 ارب روپے کے ریلیف پیکج کی منظوری دی۔</p>
<p>اجلاس میں وزارتِ بحری امور کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر بھی غور کیا گیا جو جنوبی افریقہ میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہازوں کی حراست سے متعلق تھی۔ یہ مسئلہ مسٹر کونِسٹن کی پاکستان اسٹیل ملز لمیٹڈ کے خلاف دعووں کی بنیاد پر سامنے آیا تھا۔</p>
<p>غور و خوض کے بعد ای سی سی نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی کہ وہ 330.526 ملین روپے پی این ایس سی کو ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کے ذریعے فراہم کرے، جیسا کہ 2017 میں ای سی سی کے ایک سابقہ فیصلے میں طے کیا گیا تھا۔ مزید برآں وزارتِ صنعت و پیداوار کو ہدایت دی گئی کہ وہ ثالثی کیس کو عدالت میں جلد از جلد حتمی شکل دے اور تین ماہ کے اندر اس پیش رفت کی رپورٹ ای سی سی کو پیش کرے۔</p>
<p>ای سی سی نے پاور ڈویژن کی یہ تجویز بھی منظور کی کہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ ملک بھر میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔ اسی طرح وزیرِ اعظم کے ”فین ریپلیسمنٹ پروگرام“ کے آغاز کے لیے متعلقہ اداروں بشمول نیئکا، اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کی جانب سے تیار کردہ ڈرافٹ ٹرائپارٹائٹ ایگریمنٹ کی بنیاد پر ٹرم شیٹ کی بھی منظوری دی گئی۔</p>
<p>پروگرام کے آغاز کے لیے ای سی سی نے نیئکا کے حق میں 2 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی۔ نیشنل سکیورٹی ڈویژن کے اسٹریٹجک پالیسی پلاننگ سیل کے لیے بھی 250 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی، تاہم فیصلہ کیا گیا کہ باقی رقم مرحلہ وار جاری کی جائے گی، جس کے لیے اخراجات کا جواز اور سیاق و سباق وزارتِ خزانہ کے ساتھ مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کی جانب سے پیش کی گئی ایک اور تجویز پر، جو راست کیو آر کوڈ کے ذریعے پرسن-ٹو-مرچنٹ ادائیگیوں پر سبسڈی سے متعلق تھی، ای سی سی نے موجودہ مالی سال کے لیے 3.5 ارب روپے کی منظوری دی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ اسکیم تین سال تک جاری رہے گی تاکہ ڈیجیٹل اپنانے کے عمل کو تیز کیا جا سکے اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>ای سی سی نے مزید فیصلہ کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان فوری طور پر اس اسکیم کو نوٹیفائی کرے اور مالی سال کے اختتام تک ای سی سی کو اس اسکیم کی مؤثریت پر جامع جائزہ رپورٹ پیش کرے۔ اس کے علاوہ وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے پیش کی گئی ”نیو انرجی وہیکل پالیسی 30-2025“ کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹی نے ایک جامع اور مستقبل بین پالیسی تیار کرنے پر وزارت کی تعریف کی جو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ ہے اور ملک کو الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔</p>
<p>اجلاس میں اراکین کو چھوٹے کسانوں اور پسماندہ علاقوں کے لیے تیار کی گئی رسک کوریج اسکیم پر بھی بریفنگ دی گئی، جس کے تحت پنجاب اور سندھ کے چھوٹے کسانوں کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام کسانوں کو بھی کوریج فراہم کی جائے گی کیونکہ موجودہ زرعی قرضوں کی تقسیم میں ان کا حصہ انتہائی کم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276027</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Aug 2025 12:02:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/201158073f40f94.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/201158073f40f94.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
