<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 01:54:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 12 Aug 2026 01:54:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل نے ریکوڈک میں سرمایہ کاری بڑھا کر فی کس 715 ملین ڈالر کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275998/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے ریکوڈک کاپر اور گولڈ پراجیکٹ کے فیز ون کے لیے اپنی فنڈنگ کی ذمہ داریوں پر نظرِ ثانی کی ہے۔ دونوں کمپنیوں کا پرو-ریٹا حصہ اب 715 ملین ڈالر ہوگا، جو اصل فنانسنگ لاگت اور مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراجیکٹ لیول فنانسنگ کو مدِنظر رکھتے ہوئے، دونوں کمپنیوں یعنی پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کی متوقع شیئر ہولڈر شراکت تقریباً 391 ملین ڈالر فی کس ہوگی۔ یہ انکشاف دونوں کمپنیوں نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے نوٹس میں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی ایل کے پاس ریکوڈک پراجیکٹ میں 8.33 فیصد حصہ ہے، جو کہ پی پی ایل اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے برابر حصوں کے ساتھ ملا کر کل 25 فیصد بنتا ہے۔ یہ حصہ تینوں ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی ملکیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اداروں کا ریکوڈک مائننگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ (آر ڈی ایم سی) میں مفاد بالواسطہ طور پر پاکستان منرلز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ذریعے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ڈی ایم سی کے 25 فیصد شیئرز حکومت بلوچستان کے پاس ہیں — جن میں 15 فیصد مکمل فنڈنگ کی بنیاد پر بلوچستان منرل ریسورسز لمیٹڈ کے ذریعے اور 10 فیصد فری کیریڈ بنیاد پر براہِ راست حکومت بلوچستان کے پاس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باقی 50 فیصد شیئرز بیریک مائننگ کارپوریشن (سابقہ بیریک گولڈ کارپوریشن) کے پاس ہیں، جو کہ پراجیکٹ کا آپریٹر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر مارچ 2025 میں او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے بورڈز نے فی کس 627 ملین ڈالر کی پرو-ریٹا فنڈنگ کی منظوری دی تھی، جس میں تقریباً 349 ملین ڈالر فی کس شیئر ہولڈر شراکت شامل تھی۔ تاہم، قرض دہندگان کے ساتھ مذاکرات اور ایک آزاد تکنیکی کنسلٹنٹ کی رائے کے بعد تخمینے میں تبدیلی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا کہ
قرض دہندگان کے ساتھ پراجیکٹ فنانسنگ کے حوالے سے مذاکرات کافی حد تک آگے بڑھ چکے ہیں۔ مزید یہ کہ، پراجیکٹ کے فیز ون کی لاگت میں ترمیم کی گئی ہے، جو بنیادی طور پر آزاد تکنیکی کنسلٹنٹ کی سفارش پر پروڈکشن کے آغاز میں چھ ماہ کی تاخیر (اب 2029، پہلے 2028 تھا) اور دیگر لاگت کی پیش بندیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، فنانسنگ لاگت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ پراجیکٹ فنانسنگ کی سطح 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 3.5 ارب ڈالر کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تبدیلیوں کے باوجود، پراجیکٹ کو اقتصادی طور پر قابل عمل قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانسنگ کے انتظامات کے تحت، دونوں کمپنیوں کے بورڈز نے ایس او ای کمپلیشن ایگریمنٹ کی منظوری بھی دی ہے، جس کے تحت ریاستی ادارے آر ڈی ایم سی کے 27.78 فیصد سکیورڈ قرضوں کی ضمانت فراہم کریں گے، یہاں تک کہ مالی تکمیل ہو جائے۔ اسی طرح ٹرانسفر ریسٹرکشن ایگریمنٹ کی بھی منظوری دی گئی ہے، جو پراجیکٹ قرضوں کی مکمل ادائیگی تک اسپانسرز کے لیے کم از کم شیئر ہولڈنگ برقرار رکھنے کی شرط عائد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وعدے شیئر ہولڈرز اور ریگولیٹری اتھارٹیز کی منظوری سے مشروط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک کو عالمی معیار کی کاپر-گولڈ مائن قرار دیا جا رہا ہے، جو پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے ریکوڈک کاپر اور گولڈ پراجیکٹ کے فیز ون کے لیے اپنی فنڈنگ کی ذمہ داریوں پر نظرِ ثانی کی ہے۔ دونوں کمپنیوں کا پرو-ریٹا حصہ اب 715 ملین ڈالر ہوگا، جو اصل فنانسنگ لاگت اور مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>پراجیکٹ لیول فنانسنگ کو مدِنظر رکھتے ہوئے، دونوں کمپنیوں یعنی پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کی متوقع شیئر ہولڈر شراکت تقریباً 391 ملین ڈالر فی کس ہوگی۔ یہ انکشاف دونوں کمپنیوں نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے نوٹس میں کیا۔</p>
<p>او جی ڈی سی ایل کے پاس ریکوڈک پراجیکٹ میں 8.33 فیصد حصہ ہے، جو کہ پی پی ایل اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے برابر حصوں کے ساتھ ملا کر کل 25 فیصد بنتا ہے۔ یہ حصہ تینوں ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی ملکیت ہے۔</p>
<p>ان اداروں کا ریکوڈک مائننگ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ (آر ڈی ایم سی) میں مفاد بالواسطہ طور پر پاکستان منرلز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ذریعے ہے۔</p>
<p>آر ڈی ایم سی کے 25 فیصد شیئرز حکومت بلوچستان کے پاس ہیں — جن میں 15 فیصد مکمل فنڈنگ کی بنیاد پر بلوچستان منرل ریسورسز لمیٹڈ کے ذریعے اور 10 فیصد فری کیریڈ بنیاد پر براہِ راست حکومت بلوچستان کے پاس ہیں۔</p>
<p>باقی 50 فیصد شیئرز بیریک مائننگ کارپوریشن (سابقہ بیریک گولڈ کارپوریشن) کے پاس ہیں، جو کہ پراجیکٹ کا آپریٹر ہے۔</p>
<p>ابتدائی طور پر مارچ 2025 میں او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے بورڈز نے فی کس 627 ملین ڈالر کی پرو-ریٹا فنڈنگ کی منظوری دی تھی، جس میں تقریباً 349 ملین ڈالر فی کس شیئر ہولڈر شراکت شامل تھی۔ تاہم، قرض دہندگان کے ساتھ مذاکرات اور ایک آزاد تکنیکی کنسلٹنٹ کی رائے کے بعد تخمینے میں تبدیلی کی گئی۔</p>
<p>کمپنی نے کہا کہ
قرض دہندگان کے ساتھ پراجیکٹ فنانسنگ کے حوالے سے مذاکرات کافی حد تک آگے بڑھ چکے ہیں۔ مزید یہ کہ، پراجیکٹ کے فیز ون کی لاگت میں ترمیم کی گئی ہے، جو بنیادی طور پر آزاد تکنیکی کنسلٹنٹ کی سفارش پر پروڈکشن کے آغاز میں چھ ماہ کی تاخیر (اب 2029، پہلے 2028 تھا) اور دیگر لاگت کی پیش بندیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، فنانسنگ لاگت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ پراجیکٹ فنانسنگ کی سطح 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 3.5 ارب ڈالر کر دی گئی ہے۔</p>
<p>ان تبدیلیوں کے باوجود، پراجیکٹ کو اقتصادی طور پر قابل عمل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>فنانسنگ کے انتظامات کے تحت، دونوں کمپنیوں کے بورڈز نے ایس او ای کمپلیشن ایگریمنٹ کی منظوری بھی دی ہے، جس کے تحت ریاستی ادارے آر ڈی ایم سی کے 27.78 فیصد سکیورڈ قرضوں کی ضمانت فراہم کریں گے، یہاں تک کہ مالی تکمیل ہو جائے۔ اسی طرح ٹرانسفر ریسٹرکشن ایگریمنٹ کی بھی منظوری دی گئی ہے، جو پراجیکٹ قرضوں کی مکمل ادائیگی تک اسپانسرز کے لیے کم از کم شیئر ہولڈنگ برقرار رکھنے کی شرط عائد کرتا ہے۔</p>
<p>یہ وعدے شیئر ہولڈرز اور ریگولیٹری اتھارٹیز کی منظوری سے مشروط ہیں۔</p>
<p>ریکوڈک کو عالمی معیار کی کاپر-گولڈ مائن قرار دیا جا رہا ہے، جو پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275998</guid>
      <pubDate>Tue, 19 Aug 2025 10:54:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/19105325e6c45d5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/19105325e6c45d5.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
