<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:04:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:04:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیمز کو یکجا کرنے پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275996/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی موجودہ پرسنل بیگیج اور گفٹ اسکیمز کو یکجا کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، جسے آئندہ پانچ سالہ کمرشل امپورٹ پالیسی میں شامل کیا جائے گا۔ یہ پالیسی یکم اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہوگی۔ اس بات کا انکشاف سیکریٹری کامرس جواد پال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حکومت استعمال شدہ گاڑیوں کی پرسنل بیگیج اور گفٹ اسکیمز کو ضم کرنے پر غور کر رہی ہے، تاہم ”ٹرانسفر آف ریزیڈنس“ اسکیم علیحدہ ہی رکھی جائے گی۔ تجویز ابھی زیر غور ہے اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پالیسی کے مطابق پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیوں پر ابتدائی طور پر 40 فیصد اضافی ڈیوٹی لگائی جائے گی، جو ہر سال 10 فیصد کم ہوتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اراکین کمیٹی اسامہ احمد میلا اور گل اصغر خان نے استعمال شدہ گاڑیوں اور الیکٹرک وہیکلز کی درآمد کے حوالے سے جامع بریفنگ دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کا ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمدکنندگان کے وفد نے، جس کی قیادت حسن دانجی کر رہے تھے، سفارش کی کہ چونکہ امپورٹ ایکسپورٹ وزارت تجارت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کو اس عمل سے الگ رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 40 فیصد مجوزہ ڈیوٹی کم کی جائے تاکہ اسکیم زیادہ مؤثر ہو سکے۔ تاہم سیکریٹری کامرس نے اس تجویز سے لاتعلقی ظاہر کی اور کہا کہ آٹو سیکٹر کی پالیسی وزارت صنعت و پیداوار کے دائرہ کار میں آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے چیئرمین جاوید حنیف خان نے بھی درآمدکنندگان کی تجاویز سے اختلاف کیا اور معاملے کو سفارشات کے ساتھ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے لائسنس کے مسئلے پر بھی تفصیلی غور ہوا۔ ڈی جی ٹریڈ آرگنائزیشنز بلال خان پاشا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کے سی سی آئی کا لائسنس مشروط طور پر 2 فروری 2024 کو تجدید کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چار درخواستیں نئی ضلعی سطح کے چیمبرز کے قیام کے لیے زیر غور ہیں اور متعدد ویمنز چیمبرز کے لائسنس ختم یا غیر فعال ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے متفقہ طور پر کراچی کے ہر ضلع کو اپنا چیمبر آف کامرس قائم کرنے کی اجازت دینے کی حمایت کی تاکہ مقامی کاروباری طبقے کے مسائل بہتر طور پر حل کیے جا سکیں۔ تاہم کے سی سی آئی کو ایک بار پھر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینے پر بھی اتفاق ہوا۔ بعض اراکین نے سفارش کی کہ اگلا اجلاس کراچی میں منعقد کیا جائے تاکہ تمام فریقین کے موقف کو براہ راست سنا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، وزارت تجارت نے کمیٹی کو پاکستان-امریکہ ٹیرف معاہدے پر ان کیمرہ بریفنگ دی جس کے تحت 15 فیصد اضافی ڈیوٹی شامل ہے۔ سیکریٹری کامرس نے بتایا کہ بیشتر امور طے پا گئے ہیں تاہم کچھ معاملات ابھی باقی ہیں۔ کمیٹی کے ارکان نے استفسار کیا کہ اس معاہدے سے پاکستان کی برآمدات کو کس حد تک فائدہ ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ نے بھارتی درآمدات پر 40 فیصد ڈیوٹی عائد کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کمیٹی کو یقین دلایا گیا کہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا اور ان شعبوں کے لیے معاوضہ پیکیج دیا جائے گا جو متاثر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں شریک اراکین قومی اسمبلی میں محمد مبین عارف، اسامہ احمد میلا، شائستہ پرویز، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد عاطف، طاہرہ اورنگزیب، خورشید احمد جونیجو، گل اصغر خان اور فرحان چشتی شامل تھے جبکہ ریموٹ پر ڈاکٹر رمیش کمار، اسد عالم نیازی اور دیگر اراکین شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کاروباری سہولت کاری اور صنعتی پالیسی میرٹ، شفافیت اور عوامی ضرورت کے مطابق تشکیل دی جائے گی اور تمام اہم معاملات کو متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر حل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی موجودہ پرسنل بیگیج اور گفٹ اسکیمز کو یکجا کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، جسے آئندہ پانچ سالہ کمرشل امپورٹ پالیسی میں شامل کیا جائے گا۔ یہ پالیسی یکم اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہوگی۔ اس بات کا انکشاف سیکریٹری کامرس جواد پال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں کیا۔</strong></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ حکومت استعمال شدہ گاڑیوں کی پرسنل بیگیج اور گفٹ اسکیمز کو ضم کرنے پر غور کر رہی ہے، تاہم ”ٹرانسفر آف ریزیڈنس“ اسکیم علیحدہ ہی رکھی جائے گی۔ تجویز ابھی زیر غور ہے اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پالیسی کے مطابق پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیوں پر ابتدائی طور پر 40 فیصد اضافی ڈیوٹی لگائی جائے گی، جو ہر سال 10 فیصد کم ہوتی جائے گی۔</p>
<p>اجلاس میں اراکین کمیٹی اسامہ احمد میلا اور گل اصغر خان نے استعمال شدہ گاڑیوں اور الیکٹرک وہیکلز کی درآمد کے حوالے سے جامع بریفنگ دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کا ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمدکنندگان کے وفد نے، جس کی قیادت حسن دانجی کر رہے تھے، سفارش کی کہ چونکہ امپورٹ ایکسپورٹ وزارت تجارت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کو اس عمل سے الگ رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 40 فیصد مجوزہ ڈیوٹی کم کی جائے تاکہ اسکیم زیادہ مؤثر ہو سکے۔ تاہم سیکریٹری کامرس نے اس تجویز سے لاتعلقی ظاہر کی اور کہا کہ آٹو سیکٹر کی پالیسی وزارت صنعت و پیداوار کے دائرہ کار میں آتی ہے۔</p>
<p>کمیٹی کے چیئرمین جاوید حنیف خان نے بھی درآمدکنندگان کی تجاویز سے اختلاف کیا اور معاملے کو سفارشات کے ساتھ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>اجلاس میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے لائسنس کے مسئلے پر بھی تفصیلی غور ہوا۔ ڈی جی ٹریڈ آرگنائزیشنز بلال خان پاشا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کے سی سی آئی کا لائسنس مشروط طور پر 2 فروری 2024 کو تجدید کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چار درخواستیں نئی ضلعی سطح کے چیمبرز کے قیام کے لیے زیر غور ہیں اور متعدد ویمنز چیمبرز کے لائسنس ختم یا غیر فعال ہو چکے ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے متفقہ طور پر کراچی کے ہر ضلع کو اپنا چیمبر آف کامرس قائم کرنے کی اجازت دینے کی حمایت کی تاکہ مقامی کاروباری طبقے کے مسائل بہتر طور پر حل کیے جا سکیں۔ تاہم کے سی سی آئی کو ایک بار پھر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینے پر بھی اتفاق ہوا۔ بعض اراکین نے سفارش کی کہ اگلا اجلاس کراچی میں منعقد کیا جائے تاکہ تمام فریقین کے موقف کو براہ راست سنا جا سکے۔</p>
<p>مزید برآں، وزارت تجارت نے کمیٹی کو پاکستان-امریکہ ٹیرف معاہدے پر ان کیمرہ بریفنگ دی جس کے تحت 15 فیصد اضافی ڈیوٹی شامل ہے۔ سیکریٹری کامرس نے بتایا کہ بیشتر امور طے پا گئے ہیں تاہم کچھ معاملات ابھی باقی ہیں۔ کمیٹی کے ارکان نے استفسار کیا کہ اس معاہدے سے پاکستان کی برآمدات کو کس حد تک فائدہ ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ نے بھارتی درآمدات پر 40 فیصد ڈیوٹی عائد کی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق کمیٹی کو یقین دلایا گیا کہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا اور ان شعبوں کے لیے معاوضہ پیکیج دیا جائے گا جو متاثر ہوں گے۔</p>
<p>اجلاس میں شریک اراکین قومی اسمبلی میں محمد مبین عارف، اسامہ احمد میلا، شائستہ پرویز، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد عاطف، طاہرہ اورنگزیب، خورشید احمد جونیجو، گل اصغر خان اور فرحان چشتی شامل تھے جبکہ ریموٹ پر ڈاکٹر رمیش کمار، اسد عالم نیازی اور دیگر اراکین شریک ہوئے۔</p>
<p>کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کاروباری سہولت کاری اور صنعتی پالیسی میرٹ، شفافیت اور عوامی ضرورت کے مطابق تشکیل دی جائے گی اور تمام اہم معاملات کو متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر حل کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275996</guid>
      <pubDate>Tue, 19 Aug 2025 10:24:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/19102131fa9b03c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1120" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/19102131fa9b03c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
