<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمرشل، ریونیو اور فسکل کیسز، طویل عدالتی کارروائی اور اسٹے آرڈرز کے مسئلے کے حل کیلئے کمیٹی قائم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275992/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی عدالتی (پالیسی ساز) کمیٹی  نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت اپنے 54ویں اجلاس میں عدالتی نظام میں تاخیر اور انجکٹیو آرڈرز کے مسئلے کے حل کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی کی سربراہی سپریم کورٹ کے جسٹس شفیع صدیقی کریں گے، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آغا فیصل، پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ارشد علی، اٹارنی جنرل پاکستان اور چیئرمین ایف بی آر بھی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو ہدایت دی گئی کہ وہ تجارتی، ریونیو اور مالیاتی نوعیت کے مقدمات میں طویل عدالتی عمل اور حکم امتناعی سے متعلق سفارشات مرتب کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، غیر ملکی ثالثی ایوارڈز کے نفاذ سے متعلق اٹارنی جنرل کی تجاویز کا بھی جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی جبکہ اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان خصوصی دعوت پر شریک ہوئے۔ فورم نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی زیر حراست شخص کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کے لیے ایک جامع میکنزم بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے مختلف مقدمات کے لیے یکساں مدت مقرر کی جنہیں ججز کی کارکردگی کے اشاریوں کا حصہ بھی بنایا جائے گا۔ ان میں زمین کے مقدمات کے فیصلے 24 ماہ، وراثت کے مقدمات 12 ماہ، کرایہ داری کیس اور فیملی کیسز چھ ماہ، بینکنگ اور سول عدالت کے ڈگریوں پر عمل درآمد 12 ماہ، قتل کے مقدمات 24 ماہ اور مزدور مقدمات چھ ماہ میں نمٹانے کی سفارش شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، کمیٹی نے ہائی کورٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے اقدامات کی تعریف کی اور ماڈل سول کورٹس کے قیام کا فیصلہ کیا تاکہ پرانے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں جیل اصلاحات پر بھی غور کیا گیا اور طے پایا کہ صوبائی ذیلی کمیٹیوں کی رپورٹس اور پریزن ریفارم ایکشن پلان ہائی کورٹس کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے تاکہ ایک جامع قومی جیل پالیسی مرتب کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اسپیشل کورٹس اور ٹریبونلز میں تعینات عدالتی افسران کی واپسی میں تاخیر کے مسئلے کو حل کیا جائے گا اور اندرونی آڈٹ کے لیے آڈٹ افسران کی تعیناتی میں سہولت فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ عدالتی نظام کو عوام دوست بنانے کے لیے ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں معلومات اور شکایات کے حل کے لیے صارف دوست فورم قائم کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شکایات سے متعلق ایس او پیز میں مرحلہ وار ٹائم لائنز شامل کی جائیں تاکہ کسی جج کی عزت نفس متاثر نہ ہو اور تمام شکایات 14 دن میں نمٹائی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے عدالتی نظام کو زیادہ موثر اور عوامی توقعات کے مطابق بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی عدالتی (پالیسی ساز) کمیٹی  نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت اپنے 54ویں اجلاس میں عدالتی نظام میں تاخیر اور انجکٹیو آرڈرز کے مسئلے کے حل کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی کی سربراہی سپریم کورٹ کے جسٹس شفیع صدیقی کریں گے، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آغا فیصل، پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ارشد علی، اٹارنی جنرل پاکستان اور چیئرمین ایف بی آر بھی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔</strong></p>
<p>کمیٹی کو ہدایت دی گئی کہ وہ تجارتی، ریونیو اور مالیاتی نوعیت کے مقدمات میں طویل عدالتی عمل اور حکم امتناعی سے متعلق سفارشات مرتب کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، غیر ملکی ثالثی ایوارڈز کے نفاذ سے متعلق اٹارنی جنرل کی تجاویز کا بھی جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے۔</p>
<p>اجلاس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی جبکہ اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان خصوصی دعوت پر شریک ہوئے۔ فورم نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی زیر حراست شخص کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کے لیے ایک جامع میکنزم بنایا جائے۔</p>
<p>کمیٹی نے مختلف مقدمات کے لیے یکساں مدت مقرر کی جنہیں ججز کی کارکردگی کے اشاریوں کا حصہ بھی بنایا جائے گا۔ ان میں زمین کے مقدمات کے فیصلے 24 ماہ، وراثت کے مقدمات 12 ماہ، کرایہ داری کیس اور فیملی کیسز چھ ماہ، بینکنگ اور سول عدالت کے ڈگریوں پر عمل درآمد 12 ماہ، قتل کے مقدمات 24 ماہ اور مزدور مقدمات چھ ماہ میں نمٹانے کی سفارش شامل ہے۔</p>
<p>مزید برآں، کمیٹی نے ہائی کورٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے اقدامات کی تعریف کی اور ماڈل سول کورٹس کے قیام کا فیصلہ کیا تاکہ پرانے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جا سکے۔</p>
<p>اجلاس میں جیل اصلاحات پر بھی غور کیا گیا اور طے پایا کہ صوبائی ذیلی کمیٹیوں کی رپورٹس اور پریزن ریفارم ایکشن پلان ہائی کورٹس کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے تاکہ ایک جامع قومی جیل پالیسی مرتب کی جا سکے۔</p>
<p>کمیٹی نے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اسپیشل کورٹس اور ٹریبونلز میں تعینات عدالتی افسران کی واپسی میں تاخیر کے مسئلے کو حل کیا جائے گا اور اندرونی آڈٹ کے لیے آڈٹ افسران کی تعیناتی میں سہولت فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ عدالتی نظام کو عوام دوست بنانے کے لیے ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں معلومات اور شکایات کے حل کے لیے صارف دوست فورم قائم کیے جائیں۔</p>
<p>یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شکایات سے متعلق ایس او پیز میں مرحلہ وار ٹائم لائنز شامل کی جائیں تاکہ کسی جج کی عزت نفس متاثر نہ ہو اور تمام شکایات 14 دن میں نمٹائی جائیں۔</p>
<p>کمیٹی نے عدالتی نظام کو زیادہ موثر اور عوامی توقعات کے مطابق بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275992</guid>
      <pubDate>Tue, 19 Aug 2025 09:51:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیرنس جے سگامونی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/190950147faf207.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/190950147faf207.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
