<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی حقیقی اقتصادی شرح نمو 2027 تک 3.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، فِچ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275981/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فچ ریٹنگز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 2024 میں 2.5 فیصد سے بڑھ کر 2027 تک 3.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹنگ ایجنسی کے مطابق پاکستان کی معیشت میں بحالی ایک شدید معاشی بحران اور بلند مہنگائی کے دور کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے بتایا کہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی جولائی 2025 میں کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گئی ہے، جو مئی 2023 میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی۔ فچ کے مطابق، 2025 میں مہنگائی کی اوسط تقریباً 5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مئی 2024 سے پالیسی ریٹ میں نصف کمی کے بعد یہ 11 فیصد پر آ گیا ہے، جبکہ زرمبادلہ کی مارکیٹ میں استحکام اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلسز جیسے عوامل معیشت کی بحالی میں معاون ثابت ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے بینک بہتر آپریٹنگ حالات اور کم ہوتے ہوئے میکرو اکنامک دباؤ کے باعث کاروباری حجم بڑھانے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے مزید کہا ہے کہ اس جائزے کو پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل میں بہتری سے تقویت ملی ہے، جیسا کہ اپریل 2025 میں فچ کی جانب سے پاکستان کی طویل المدتی جاری کنندہ ڈیفالٹ ریٹنگ (آئی ڈی آر) کو ’+CCC‘ سے بڑھا کر ’B-‘/Stable کرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ بہتری معاشی بحالی، اصلاحات اور مالیاتی کارکردگی میں بہتری کی بنیاد پر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ ریٹنگز کے مطابق شرح سود میں کمی اور بہتری کی جانب گامزن میکرو اکنامک ماحول کا امتزاج نجی شعبے میں قرضے کی طلب کو فروغ دے سکتا ہے، جس سے قرضوں اور ڈپازٹس کی مستحکم نمو اور بینکوں کی مالی کارکردگی کو سہارا ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے کہا ہے کہ مسلسل مالی اور معاشی اصلاحات سے بینکوں کو نجی شعبے کو زیادہ قرضے فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جو 2024 میں جی ڈی پی کے لحاظ سے ایک چکر وار کم سطح یعنی 9.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا، اور اس سے بینکوں کا عوامی شعبے پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فچ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کا اگرچہ بہتر ہوتا ہوا لیکن اب بھی کمزور آپریٹنگ ماحول اور کم خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بعض خطرات کو جنم دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کے بیان کے مطابق بینکوں کی اندرونی کریڈٹ ویلتھ کا دارومدار مختصر مدت میں پاکستان کی خودمختار ریٹنگ اور اقتصادی اصلاحات کی رفتار پر رہے گا، کیونکہ ان کے پورٹ فولیوز میں حکومتی سیکورٹیز اور ریاستی اداروں کو دیے گئے قرضوں کا بڑا حصہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ نے مزید کہا ہے کہ پاکستانی بینکوں نے گزشتہ چند برسوں کے چیلنجنگ حالات کے باوجود مالی طور پر لچکدار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری شعبے میں غیر فعال قرضوں کا تناسب مارچ 2025 تک کم ہو کر 7.1 فیصد ہو گیا، جو 2023 کے اختتام پر 7.6 فیصد تھا، اور یہ 26 فیصد کی مضبوط قرضہ جاتی نمو کے باعث ممکن ہوا، جو بلند مہنگائی کے باوجود حاصل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹنگ ایجنسی کا مزید کہنا ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ جیسے جیسے قرضوں کی نمو کی رفتار کم ہو گی، بہتری کی موجودہ رفتار بھی سست ہو جائے گی، تاہم اثاثہ جات کے معیار پر دباؤ قابو میں رہنے کا امکان ہے کیونکہ شرح سود میں کمی سے قرض دہندگان کی ادائیگی کی صلاحیت بہتر ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 کی پہلی سہ ماہی میں اوسط منافع برائے ایکویٹی (آر او اے ای) معمول پر آ کر 20 فیصد پر آ گیا ہے، جو 2023 میں تقریباً 27 فیصد تھا، کیونکہ خالص سودی مارجن میں کمی آئی جبکہ افراط زر کے باعث آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوا، جس کا ازالہ غیر سودی آمدن میں اضافے سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ کا کہنا ہے کہ مارجن پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے کیونکہ شرح سود میں ایڈجسٹمنٹ جاری ہے، تاہم قرضوں کی نمو اور ٹریژری آمدن بینکنگ شعبے کی آمدنی کو سہارا دیتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکنگ نظام کا کیپیٹل ایڈیکوئسی ریشو مارچ 2025 تک بڑھ کر ایک دہائی کی بلند ترین سطح 21 فیصد تک پہنچ گیا، جو کہ مضبوط داخلی سرمایہ پیدا کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ نے کہا ہے کہ اگر زیادہ خطرے والے نجی شعبے کے قرضوں کا تناسب بڑھا تو یہ شرح کچھ کم ہو سکتی ہے، تاہم یہ اب بھی 11.5 فیصد کے ریگولیٹری کم از کم معیار سے خاصی بلند رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے مزید کہا ہے کہ بینکنگ شعبے کی فنانسنگ اور لیکویڈیٹی پوزیشن، اور کم بیلنس شیٹ لیوریج ایک نسبتاً مضبوط کریڈٹ پوزیشن کی غمازی کرتی ہے، جس نے 2023 اور 2024 میں مالیاتی اتار چڑھاؤ کے باوجود بینکوں کو استحکام فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مضبوطی درج ذیل عوامل سے حاصل ہوئی: قرضوں کے مقابلے میں کم ڈپازٹ تناسب (38 فیصد جون 2025 کے اختتام پر)، کل فنڈنگ کا 65 فیصد حصہ صارفین کی ڈپازٹس پر مشتمل، ڈپازٹ ڈالرائزیشن کی کم شرح، تقریباً 7 فیصد ۔ فچ کا کہنا ہے کہ یہ عوامل درمیانی مدت میں شعبے کی نمو کو سہارا دیتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر بڑے بینک کم شرح سود والے نسبتاً معمول کے آپریٹنگ ماحول میں منتقلی کے لیے اچھی پوزیشن میں ہیں، اگرچہ ساختی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ بینک جو آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنا سکیں اور کریڈٹ کی فراہمی میں احتیاط اور نظم و ضبط برقرار رکھیں، وہ نہ صرف پاکستان کی معاشی استحکام سے بہتر فائدہ اٹھا سکیں گے بلکہ نظام میں ممکنہ غیر متوقع جھٹکوں سے بھی خود کو محفوظ رکھ پائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فچ ریٹنگز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 2024 میں 2.5 فیصد سے بڑھ کر 2027 تک 3.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔</strong></p>
<p>ریٹنگ ایجنسی کے مطابق پاکستان کی معیشت میں بحالی ایک شدید معاشی بحران اور بلند مہنگائی کے دور کے بعد سامنے آئی ہے۔</p>
<p>ایجنسی نے بتایا کہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی جولائی 2025 میں کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گئی ہے، جو مئی 2023 میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی۔ فچ کے مطابق، 2025 میں مہنگائی کی اوسط تقریباً 5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مئی 2024 سے پالیسی ریٹ میں نصف کمی کے بعد یہ 11 فیصد پر آ گیا ہے، جبکہ زرمبادلہ کی مارکیٹ میں استحکام اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلسز جیسے عوامل معیشت کی بحالی میں معاون ثابت ہوں گے۔</p>
<p>فچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے بینک بہتر آپریٹنگ حالات اور کم ہوتے ہوئے میکرو اکنامک دباؤ کے باعث کاروباری حجم بڑھانے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>ایجنسی نے مزید کہا ہے کہ اس جائزے کو پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل میں بہتری سے تقویت ملی ہے، جیسا کہ اپریل 2025 میں فچ کی جانب سے پاکستان کی طویل المدتی جاری کنندہ ڈیفالٹ ریٹنگ (آئی ڈی آر) کو ’+CCC‘ سے بڑھا کر ’B-‘/Stable کرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ بہتری معاشی بحالی، اصلاحات اور مالیاتی کارکردگی میں بہتری کی بنیاد پر کی گئی ہے۔</p>
<p>فچ ریٹنگز کے مطابق شرح سود میں کمی اور بہتری کی جانب گامزن میکرو اکنامک ماحول کا امتزاج نجی شعبے میں قرضے کی طلب کو فروغ دے سکتا ہے، جس سے قرضوں اور ڈپازٹس کی مستحکم نمو اور بینکوں کی مالی کارکردگی کو سہارا ملے گا۔</p>
<p>ایجنسی نے کہا ہے کہ مسلسل مالی اور معاشی اصلاحات سے بینکوں کو نجی شعبے کو زیادہ قرضے فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جو 2024 میں جی ڈی پی کے لحاظ سے ایک چکر وار کم سطح یعنی 9.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا، اور اس سے بینکوں کا عوامی شعبے پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم فچ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کا اگرچہ بہتر ہوتا ہوا لیکن اب بھی کمزور آپریٹنگ ماحول اور کم خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بعض خطرات کو جنم دیتے ہیں۔</p>
<p>ایجنسی کے بیان کے مطابق بینکوں کی اندرونی کریڈٹ ویلتھ کا دارومدار مختصر مدت میں پاکستان کی خودمختار ریٹنگ اور اقتصادی اصلاحات کی رفتار پر رہے گا، کیونکہ ان کے پورٹ فولیوز میں حکومتی سیکورٹیز اور ریاستی اداروں کو دیے گئے قرضوں کا بڑا حصہ شامل ہے۔</p>
<p>فچ نے مزید کہا ہے کہ پاکستانی بینکوں نے گزشتہ چند برسوں کے چیلنجنگ حالات کے باوجود مالی طور پر لچکدار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔</p>
<p>بینکاری شعبے میں غیر فعال قرضوں کا تناسب مارچ 2025 تک کم ہو کر 7.1 فیصد ہو گیا، جو 2023 کے اختتام پر 7.6 فیصد تھا، اور یہ 26 فیصد کی مضبوط قرضہ جاتی نمو کے باعث ممکن ہوا، جو بلند مہنگائی کے باوجود حاصل کی گئی۔</p>
<p>ریٹنگ ایجنسی کا مزید کہنا ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ جیسے جیسے قرضوں کی نمو کی رفتار کم ہو گی، بہتری کی موجودہ رفتار بھی سست ہو جائے گی، تاہم اثاثہ جات کے معیار پر دباؤ قابو میں رہنے کا امکان ہے کیونکہ شرح سود میں کمی سے قرض دہندگان کی ادائیگی کی صلاحیت بہتر ہو جائے گی۔</p>
<p>2025 کی پہلی سہ ماہی میں اوسط منافع برائے ایکویٹی (آر او اے ای) معمول پر آ کر 20 فیصد پر آ گیا ہے، جو 2023 میں تقریباً 27 فیصد تھا، کیونکہ خالص سودی مارجن میں کمی آئی جبکہ افراط زر کے باعث آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوا، جس کا ازالہ غیر سودی آمدن میں اضافے سے ہوا۔</p>
<p>فچ کا کہنا ہے کہ مارجن پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے کیونکہ شرح سود میں ایڈجسٹمنٹ جاری ہے، تاہم قرضوں کی نمو اور ٹریژری آمدن بینکنگ شعبے کی آمدنی کو سہارا دیتی رہے گی۔</p>
<p>بینکنگ نظام کا کیپیٹل ایڈیکوئسی ریشو مارچ 2025 تک بڑھ کر ایک دہائی کی بلند ترین سطح 21 فیصد تک پہنچ گیا، جو کہ مضبوط داخلی سرمایہ پیدا کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>فچ نے کہا ہے کہ اگر زیادہ خطرے والے نجی شعبے کے قرضوں کا تناسب بڑھا تو یہ شرح کچھ کم ہو سکتی ہے، تاہم یہ اب بھی 11.5 فیصد کے ریگولیٹری کم از کم معیار سے خاصی بلند رہے گی۔</p>
<p>ایجنسی نے مزید کہا ہے کہ بینکنگ شعبے کی فنانسنگ اور لیکویڈیٹی پوزیشن، اور کم بیلنس شیٹ لیوریج ایک نسبتاً مضبوط کریڈٹ پوزیشن کی غمازی کرتی ہے، جس نے 2023 اور 2024 میں مالیاتی اتار چڑھاؤ کے باوجود بینکوں کو استحکام فراہم کیا۔</p>
<p>یہ مضبوطی درج ذیل عوامل سے حاصل ہوئی: قرضوں کے مقابلے میں کم ڈپازٹ تناسب (38 فیصد جون 2025 کے اختتام پر)، کل فنڈنگ کا 65 فیصد حصہ صارفین کی ڈپازٹس پر مشتمل، ڈپازٹ ڈالرائزیشن کی کم شرح، تقریباً 7 فیصد ۔ فچ کا کہنا ہے کہ یہ عوامل درمیانی مدت میں شعبے کی نمو کو سہارا دیتے رہیں گے۔</p>
<p>فچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر بڑے بینک کم شرح سود والے نسبتاً معمول کے آپریٹنگ ماحول میں منتقلی کے لیے اچھی پوزیشن میں ہیں، اگرچہ ساختی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔</p>
<p>ریٹنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ بینک جو آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنا سکیں اور کریڈٹ کی فراہمی میں احتیاط اور نظم و ضبط برقرار رکھیں، وہ نہ صرف پاکستان کی معاشی استحکام سے بہتر فائدہ اٹھا سکیں گے بلکہ نظام میں ممکنہ غیر متوقع جھٹکوں سے بھی خود کو محفوظ رکھ پائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275981</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Aug 2025 19:01:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/1818381889e3070.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/1818381889e3070.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
