<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹلائزیشن: ایف بی آر کی 2 لاکھ روپے نقد حد سے ریٹیلرز اور ای کامرس پر دباؤ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275980/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ریٹیل اور ای کامرس شعبے کی دستاویزی نگرانی سخت کر دی ہے اور نقد ادائیگی کی حد 2 لاکھ روپے مقرر کر دی ہے، جو روایتی مارکیٹوں کے ساتھ ساتھ آن لائن کیش آن ڈیلیوری (سی او ڈی) آرڈرز پر بھی لاگو ہو گی۔ یہ اقدام بظاہر تاجروں اور صارفین دونوں کو نقدی سے ہٹ کر ڈیجیٹل معیشت کی جانب راغب کرنے کی کوشش ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیجیٹل ادائیگیوں پر اثرات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقد ادائیگیوں پر حد عائد کر کے، ایف بی آر ریٹیلرز اور صارفین کو بینک ٹرانسفر، ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈز، موبائل والٹس اور ’راست‘ جیسے ڈیجیٹل ذرائع اپنانے کی ترغیب دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ای کامرس میں کیش آن ڈیلیوری (سی او ڈی) کا غلبہ، جو 80 فیصد سے زائد آرڈرز پر محیط ہے، ایک بڑی وجہ صارفین کا آن لائن ادائیگیوں پر عدم اعتماد ہے۔ نئی حد پلیٹ فارمز کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل چیک آؤٹ کے نظام پر صارفین کا اعتماد مضبوط بنانے کی سمت اقدامات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام ممکنہ طور پر مالیاتی شمولیت میں اضافے کا باعث بنے گا، کیونکہ چھوٹے کاروبار اور ای کامرس پلیٹ فارمز ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام اپنانا شروع کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ صارفین جو بلند مالیت کی خریداری میں کیش آن ڈیلیوری پر انحصار کرتے تھے، اب پری پیمنٹ یا ڈیجیٹل تصفیے کی جانب مائل ہو سکتے ہیں، جس سے نقدی پر انحصار میں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ای کامرس پر اثرات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیش آن ڈیلیوری (سی او ڈی) سروس فراہم کرنے والی لاجسٹکس اور کورئیر کمپنیوں کو 2 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے آرڈرز کو مسترد کرنے یا تقسیم کرنے کے لیے اپنے سسٹمز میں تبدیلی لانا ہو گی، جو ممکنہ طور پر ان کے آپریشنل نظام کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ای کامرس کے 80 فیصد سے زائد آرڈرز اب بھی سی او ڈی کے ذریعے مکمل کیے جاتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ صارفین کا آن لائن ادائیگیوں پر عدم اعتماد ہے۔ نقد ادائیگی پر حد کا اطلاق پلیٹ فارمز کو اس جانب مائل کر سکتا ہے کہ وہ ڈیجیٹل چیک آؤٹ سسٹمز پر صارفین کا اعتماد بحال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کورئیر کمپنیوں کی جانب سے نقدی سنبھالنے میں کمی سے چوری، فراڈ اور رقم کے غلط استعمال جیسے مسائل میں بھی ممکنہ طور پر کمی آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حالیہ اقدام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حمایت یافتہ اصلاحات سے ہم آہنگ ہے، جن کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا اور ٹیکس کی پابندی میں اضافہ کرنا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل ادائیگیاں لین دین کا ایسا ریکارڈ چھوڑتی ہیں جس کی نگرانی اور ٹیکس وصولی ممکن ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی نوعیت کی پابندیاں دیگر ممالک میں بھی نافذ کی جا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر، بھارت نے 2017 میں روزانہ دو لاکھ بھارتی روپے سے زائد کی نقد ادائیگیوں پر پابندی عائد کی، جو ملک میں نوٹ بندی کے ساتھ متعارف ہوئی اور جس سے یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارمز کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش نے بھی کارپوریٹ اخراجات میں نقد ادائیگیوں پر حد مقرر کی ہے تاکہ مالیاتی لین دین کا ڈیجیٹل ریکارڈ قائم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا یہ اقدام ان علاقائی رجحانات کا عکس ہے، اگرچہ یہاں نقدی پر انحصار کے باعث اس کا نفاذ نسبتاً سست روی کا شکار ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس پالیسی پر موثر طریقے سے عملدرآمد کیا گیا، تو دو لاکھ روپے کی حد پاکستان کو کیش پر مبنی معیشت سے کیش لائٹ معیشت کی جانب منتقل کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے، جو کہ آئی ایم ایف کی اصلاحاتی شرائط کے مطابق ہے۔ تاہم، اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ آیا ریٹیلرز اور صارفین اس تبدیلی کو خوش اسلوبی سے قبول کرتے ہیں یا مزاحمت کا راستہ اپناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ریٹیل اور ای کامرس شعبے کی دستاویزی نگرانی سخت کر دی ہے اور نقد ادائیگی کی حد 2 لاکھ روپے مقرر کر دی ہے، جو روایتی مارکیٹوں کے ساتھ ساتھ آن لائن کیش آن ڈیلیوری (سی او ڈی) آرڈرز پر بھی لاگو ہو گی۔ یہ اقدام بظاہر تاجروں اور صارفین دونوں کو نقدی سے ہٹ کر ڈیجیٹل معیشت کی جانب راغب کرنے کی کوشش ہے۔</strong></p>
<p><strong>ڈیجیٹل ادائیگیوں پر اثرات</strong></p>
<p>نقد ادائیگیوں پر حد عائد کر کے، ایف بی آر ریٹیلرز اور صارفین کو بینک ٹرانسفر، ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈز، موبائل والٹس اور ’راست‘ جیسے ڈیجیٹل ذرائع اپنانے کی ترغیب دے رہا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان میں ای کامرس میں کیش آن ڈیلیوری (سی او ڈی) کا غلبہ، جو 80 فیصد سے زائد آرڈرز پر محیط ہے، ایک بڑی وجہ صارفین کا آن لائن ادائیگیوں پر عدم اعتماد ہے۔ نئی حد پلیٹ فارمز کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل چیک آؤٹ کے نظام پر صارفین کا اعتماد مضبوط بنانے کی سمت اقدامات کریں۔</p>
</blockquote>
<p>یہ اقدام ممکنہ طور پر مالیاتی شمولیت میں اضافے کا باعث بنے گا، کیونکہ چھوٹے کاروبار اور ای کامرس پلیٹ فارمز ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام اپنانا شروع کریں گے۔</p>
<p>وہ صارفین جو بلند مالیت کی خریداری میں کیش آن ڈیلیوری پر انحصار کرتے تھے، اب پری پیمنٹ یا ڈیجیٹل تصفیے کی جانب مائل ہو سکتے ہیں، جس سے نقدی پر انحصار میں کمی آئے گی۔</p>
<p><strong>ای کامرس پر اثرات</strong></p>
<p>کیش آن ڈیلیوری (سی او ڈی) سروس فراہم کرنے والی لاجسٹکس اور کورئیر کمپنیوں کو 2 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے آرڈرز کو مسترد کرنے یا تقسیم کرنے کے لیے اپنے سسٹمز میں تبدیلی لانا ہو گی، جو ممکنہ طور پر ان کے آپریشنل نظام کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔</p>
<p>پاکستان میں ای کامرس کے 80 فیصد سے زائد آرڈرز اب بھی سی او ڈی کے ذریعے مکمل کیے جاتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ صارفین کا آن لائن ادائیگیوں پر عدم اعتماد ہے۔ نقد ادائیگی پر حد کا اطلاق پلیٹ فارمز کو اس جانب مائل کر سکتا ہے کہ وہ ڈیجیٹل چیک آؤٹ سسٹمز پر صارفین کا اعتماد بحال کریں۔</p>
<p>کورئیر کمپنیوں کی جانب سے نقدی سنبھالنے میں کمی سے چوری، فراڈ اور رقم کے غلط استعمال جیسے مسائل میں بھی ممکنہ طور پر کمی آ سکتی ہے۔</p>
<p>یہ حالیہ اقدام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حمایت یافتہ اصلاحات سے ہم آہنگ ہے، جن کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا اور ٹیکس کی پابندی میں اضافہ کرنا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل ادائیگیاں لین دین کا ایسا ریکارڈ چھوڑتی ہیں جس کی نگرانی اور ٹیکس وصولی ممکن ہوتی ہے۔</p>
<p>اسی نوعیت کی پابندیاں دیگر ممالک میں بھی نافذ کی جا چکی ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر، بھارت نے 2017 میں روزانہ دو لاکھ بھارتی روپے سے زائد کی نقد ادائیگیوں پر پابندی عائد کی، جو ملک میں نوٹ بندی کے ساتھ متعارف ہوئی اور جس سے یو پی آئی جیسے ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارمز کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا۔</p>
<p>بنگلہ دیش نے بھی کارپوریٹ اخراجات میں نقد ادائیگیوں پر حد مقرر کی ہے تاکہ مالیاتی لین دین کا ڈیجیٹل ریکارڈ قائم ہو۔</p>
<p>پاکستان کا یہ اقدام ان علاقائی رجحانات کا عکس ہے، اگرچہ یہاں نقدی پر انحصار کے باعث اس کا نفاذ نسبتاً سست روی کا شکار ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اگر اس پالیسی پر موثر طریقے سے عملدرآمد کیا گیا، تو دو لاکھ روپے کی حد پاکستان کو کیش پر مبنی معیشت سے کیش لائٹ معیشت کی جانب منتقل کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے، جو کہ آئی ایم ایف کی اصلاحاتی شرائط کے مطابق ہے۔ تاہم، اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ آیا ریٹیلرز اور صارفین اس تبدیلی کو خوش اسلوبی سے قبول کرتے ہیں یا مزاحمت کا راستہ اپناتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275980</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Aug 2025 18:31:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فائزہ ویرانی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/18172627f32874d.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/18172627f32874d.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
