<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:16:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:16:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرِاعظم کی زیر صدارت اجلاس، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275978/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی جس میں خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں موسلا دھار بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ کے تمام اراکین ایک ماہ کی تنخواہ خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے عطیہ کریں گے۔ انہوں نے وفاقی اداروں کو ہدایت دی کہ وہ صوبے کے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کو تیز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم  نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وفاقی، صوبائی حکومت کی کوئی تقسیم نہیں، ہمیں متاثرین کی مدد و بحالی یقینی بنانا ہے، مصیبت زدہ پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد ہماری قومی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیاست کا وقت نہیں ہے، بلکہ خدمت کا وقت ہے اور عوام کے دکھ کو کم کرنے کا وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت متاثرہ علاقوں میں نہ صرف جاں بحق افراد کے اہل خانہ بلکہ زخمیوں اور دیگر متاثرہ افراد کو بھی وزیراعظم ریلیف پیکج کے تحت مالی معاونت فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کی تقسیم و بحالی کے آپریشن کی نگرانی وزیرِ امور کشمیر و گلگت بلتستان کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ متعلقہ وفاقی وزراء بجلی، پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی کی ذاتی نگرانی کریں گے جبکہ تمام متعلقہ وزراء کو لازمی ہے کہ وہ ذاتی طور پر خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہدایت دی کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی  تمام راستوں کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ مواصلات، نیشنل ہائی وے اتھارٹی  اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن  کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں اور پلوں کی مرمت کو یقینی بنائیں۔ وزیراعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق، وزیرِ مواصلات کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے بحالی کے اقدامات کی براہِ راست نگرانی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ توانائی کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں اور بجلی کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو فوری طور پر نقصانات کا حتمی تخمینہ پیش کرنے اور خیبر پختونخوا میں ریلیف آئٹمز کی تقسیم کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم نے کہا کہ جب تک آخری متاثرہ فرد کی مدد نہ ہوجائے اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی مکمل نہ ہو، وفاقی وزرا مقامی سطح پر موجود رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ضروری وسائل وزارتِ خزانہ سے فراہم کیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ صحت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ادویات اور طبی ٹیمیں بھیجے اور ہیلتھ کیمپ قائم کریں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی متاثرین کی مدد کے لیے سرگرم ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹنگ کے اختتام پر وزیرِاعظم اور شرکاء نے سیلاب کے شہدا کے لیے دعائیں کیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم کو این ڈی ایم اے اور وزیرِاعظم کی طرف سے ریلیف کاموں کے لیے مقرر کردہ اہلکاروں کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ کے مطابق اب تک 456 ریلیف کیمپ قائم کیے جا چکے ہیں اور 400 ریسکیو آپریشنز مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ آج بھی امدادی سامان لے جانے والے ٹرک روانہ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم نے ہدایت دی کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر امداد فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک کے محتاط اندازے کے مطابق 126 ملین روپے سے زائد کے سرکاری و نجی املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے کی جانب سے راشن، خیموں، ادویات، میڈیکل ٹیموں و دیگر اشیاء کی فراہمی پر رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے اشیاء کی تعداد میں مزید اضافہ کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ ستمبر کے دوسرے ہفتے تک مون سون جاری رہے گا، 6 بڑے سپیل گزر چکے جبکہ مزید 2 متوقع ہیں جن کے اثرات ستمبر کے آخری ہفتے تک رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزیر امور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے سوات، وزیرِ بجلی سردار اویس خان لغاری نے خیبرپختونخوا، معاون خصوصی مبارک زیب نے باجوڑ، چیئرمین این ایچ اے نے مالاکنڈ جبکہ سیکرٹری مواصلات نے گلگت سے صورتحال پر جائزہ پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیرِ آبی وسائل میاں محمد معین وٹو، ڈاکٹر مصدق ملک اور دیگر حکام نے وزیرِاعظم کی ہدایت کے مطابق امدادی سرگرمیوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا خواجہ آصف، احسن اقبال، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، انجینئر امیر مقام، سردار اویس خان لغاری، سردار محمد یوسف، میاں محمد معین وٹو، معاون خصوصی مبارک زیب، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، وزیرِ اعظم کے چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی جس میں خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں موسلا دھار بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔</strong></p>
<p>اجلاس کے دوران وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ کے تمام اراکین ایک ماہ کی تنخواہ خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے عطیہ کریں گے۔ انہوں نے وفاقی اداروں کو ہدایت دی کہ وہ صوبے کے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کو تیز کریں۔</p>
<p>وزیراعظم  نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وفاقی، صوبائی حکومت کی کوئی تقسیم نہیں، ہمیں متاثرین کی مدد و بحالی یقینی بنانا ہے، مصیبت زدہ پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد ہماری قومی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیاست کا وقت نہیں ہے، بلکہ خدمت کا وقت ہے اور عوام کے دکھ کو کم کرنے کا وقت ہے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت متاثرہ علاقوں میں نہ صرف جاں بحق افراد کے اہل خانہ بلکہ زخمیوں اور دیگر متاثرہ افراد کو بھی وزیراعظم ریلیف پیکج کے تحت مالی معاونت فراہم کرے گی۔</p>
<p>وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کی تقسیم و بحالی کے آپریشن کی نگرانی وزیرِ امور کشمیر و گلگت بلتستان کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ متعلقہ وفاقی وزراء بجلی، پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی کی ذاتی نگرانی کریں گے جبکہ تمام متعلقہ وزراء کو لازمی ہے کہ وہ ذاتی طور پر خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں۔</p>
<p>انہوں نے ہدایت دی کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی  تمام راستوں کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کرے۔</p>
<p>وزارتِ مواصلات، نیشنل ہائی وے اتھارٹی  اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن  کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں اور پلوں کی مرمت کو یقینی بنائیں۔ وزیراعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق، وزیرِ مواصلات کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے بحالی کے اقدامات کی براہِ راست نگرانی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ توانائی کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں اور بجلی کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائیں۔</p>
<p>دریں اثنا وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو فوری طور پر نقصانات کا حتمی تخمینہ پیش کرنے اور خیبر پختونخوا میں ریلیف آئٹمز کی تقسیم کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔</p>
<p>وزیرِاعظم نے کہا کہ جب تک آخری متاثرہ فرد کی مدد نہ ہوجائے اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی مکمل نہ ہو، وفاقی وزرا مقامی سطح پر موجود رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ضروری وسائل وزارتِ خزانہ سے فراہم کیے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>وزارتِ صحت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ادویات اور طبی ٹیمیں بھیجے اور ہیلتھ کیمپ قائم کریں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی متاثرین کی مدد کے لیے سرگرم ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔</p>
<p>میٹنگ کے اختتام پر وزیرِاعظم اور شرکاء نے سیلاب کے شہدا کے لیے دعائیں کیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔</p>
<p>فورم کو این ڈی ایم اے اور وزیرِاعظم کی طرف سے ریلیف کاموں کے لیے مقرر کردہ اہلکاروں کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔</p>
<p>بریفنگ کے مطابق اب تک 456 ریلیف کیمپ قائم کیے جا چکے ہیں اور 400 ریسکیو آپریشنز مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ آج بھی امدادی سامان لے جانے والے ٹرک روانہ کیے گئے۔</p>
<p>وزیرِاعظم نے ہدایت دی کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر امداد فراہم کی جائے۔</p>
<p>اب تک کے محتاط اندازے کے مطابق 126 ملین روپے سے زائد کے سرکاری و نجی املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔</p>
<p>این ڈی ایم اے کی جانب سے راشن، خیموں، ادویات، میڈیکل ٹیموں و دیگر اشیاء کی فراہمی پر رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے اشیاء کی تعداد میں مزید اضافہ کی ہدایت کی۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ ستمبر کے دوسرے ہفتے تک مون سون جاری رہے گا، 6 بڑے سپیل گزر چکے جبکہ مزید 2 متوقع ہیں جن کے اثرات ستمبر کے آخری ہفتے تک رہیں گے۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزیر امور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے سوات، وزیرِ بجلی سردار اویس خان لغاری نے خیبرپختونخوا، معاون خصوصی مبارک زیب نے باجوڑ، چیئرمین این ایچ اے نے مالاکنڈ جبکہ سیکرٹری مواصلات نے گلگت سے صورتحال پر جائزہ پیش کیا۔</p>
<p>وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیرِ آبی وسائل میاں محمد معین وٹو، ڈاکٹر مصدق ملک اور دیگر حکام نے وزیرِاعظم کی ہدایت کے مطابق امدادی سرگرمیوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا خواجہ آصف، احسن اقبال، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، انجینئر امیر مقام، سردار اویس خان لغاری، سردار محمد یوسف، میاں محمد معین وٹو، معاون خصوصی مبارک زیب، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، وزیرِ اعظم کے چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275978</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Aug 2025 16:39:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/181634423561eea.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/181634423561eea.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
