<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی حملے سے کم از کم 40 افراد شہید ہوگئے، غزہ سول ڈیفنس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275929/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے ہفتہ کے روز بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 40 افراد شہید ہوئے ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ غزہ شہر میں نئی کارروائی سے قبل شہریوں کو وہاں سے نکالنے کا اعلان جلد متوقع ہے۔ یہ ہلاکتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے ایک ہفتہ قبل غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزارت دفاع کے ادارے کوگاٹ (COGAT) نے کہا ہے کہ اتوار سے فوج غزہ میں خیمے اور پناہ گاہوں کا سامان فراہم کرے گی تاکہ شہریوں کو جنگی علاقوں سے نکال کر جنوبی غزہ منتقل کیا جا سکے۔ تاہم حماس نے اس اعلان کو غزہ شہر پر قبضے کے لیے وحشیانہ منصوبے کا حصہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل کے مطابق غزہ شہر کے زیتون علاقے میں حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں جہاں تقریباً 50 ہزار افراد محصور ہیں اور ان کے پاس کھانے پینے سمیت بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہائشیوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں فضائی حملوں اور ٹینک گولہ باری میں اضافہ ہوا ہے۔ غسان کشکو نامی شخص نے کہا کہ ہمیں نیند  تک نصیب نہیں، دھماکے رکنے کا نام نہیں لیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق شہری نقصان کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور سول ڈیفنس کے فراہم کردہ اعداد و شمار مشکوک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر قحط پھیل سکتا ہے، جہاں اسرائیل نے انسانی ہمدردی کی امداد پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ سول ڈیفنس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 13 فلسطینی وہ بھی شامل ہیں جو شمال اور جنوب میں امدادی سامان کے مراکز کے قریب خوراک کے انتظار میں کھڑے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے میں 1,219 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائی میں اب تک 61 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے ہفتہ کے روز بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 40 افراد شہید ہوئے ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ غزہ شہر میں نئی کارروائی سے قبل شہریوں کو وہاں سے نکالنے کا اعلان جلد متوقع ہے۔ یہ ہلاکتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے ایک ہفتہ قبل غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔</strong></p>
<p>اسرائیلی وزارت دفاع کے ادارے کوگاٹ (COGAT) نے کہا ہے کہ اتوار سے فوج غزہ میں خیمے اور پناہ گاہوں کا سامان فراہم کرے گی تاکہ شہریوں کو جنگی علاقوں سے نکال کر جنوبی غزہ منتقل کیا جا سکے۔ تاہم حماس نے اس اعلان کو غزہ شہر پر قبضے کے لیے وحشیانہ منصوبے کا حصہ قرار دیا۔</p>
<p>سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل کے مطابق غزہ شہر کے زیتون علاقے میں حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں جہاں تقریباً 50 ہزار افراد محصور ہیں اور ان کے پاس کھانے پینے سمیت بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔</p>
<p>رہائشیوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں فضائی حملوں اور ٹینک گولہ باری میں اضافہ ہوا ہے۔ غسان کشکو نامی شخص نے کہا کہ ہمیں نیند  تک نصیب نہیں، دھماکے رکنے کا نام نہیں لیتے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق شہری نقصان کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور سول ڈیفنس کے فراہم کردہ اعداد و شمار مشکوک ہیں۔</p>
<p>یو این ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر قحط پھیل سکتا ہے، جہاں اسرائیل نے انسانی ہمدردی کی امداد پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ سول ڈیفنس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 13 فلسطینی وہ بھی شامل ہیں جو شمال اور جنوب میں امدادی سامان کے مراکز کے قریب خوراک کے انتظار میں کھڑے تھے۔</p>
<p>اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے میں 1,219 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائی میں اب تک 61 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275929</guid>
      <pubDate>Sun, 17 Aug 2025 12:25:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/171223283c667f3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/171223283c667f3.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
