<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیوٹن سے سربراہ ملاقات جنگ بندی کے بغیر ختم، یوکرین کو معاہدہ کرنا چاہیے، ٹرمپ کا مشورہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275909/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے سربراہ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ یوکرین کو جنگ کے خاتمے کے لیے روس سے معاہدہ کر لینا چاہیے۔ یہ ملاقات جنگ بندی پر کسی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کے روز الاسکا میں تقریباً تین گھنٹے طویل بات چیت کے بعد ٹرمپ اور پیوٹن نے میڈیا کے سامنے مختصر گفتگو کی، جہاں انہوں نے بعض غیر واضح معاملات پر پیش رفت کا دعویٰ تو کیا لیکن کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، نہ ہی صحافیوں کے سوالات سنئے گئے۔ ہمیشہ باتونی مزاج رکھنے والے ٹرمپ نے اس بار صحافیوں کے مخاطب کرنے کے باوجود کوئی جواب نہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے پس منظر میں آویزاں ”امن کی جستجو“ کے بینر کے سامنے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم نے کچھ پیش رفت کی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا، تب تک معاہدہ نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ہفتے کے روز ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ یوکرین تعمیری تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ پیر کو واشنگٹن روانہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر صدر پیوٹن نے یوکرین سے متعلق روس کے دیرینہ موقف میں کسی تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بحران کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنا ضروری ہے اور ماسکو کے جائز تحفظات کو دور کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوکرین کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو یوکرین میں امن کے قیام کے لیے بات چیت پر آمادہ ہے اور جو مفاہمت حالیہ ملاقات میں ہوئی ہے، وہ اس مقصد کے حصول میں پیش رفت کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہم اس پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جو سمجھ بوجھ ہم تک پہنچی ہے، وہ ہمیں امن کے ہدف کے قریب لانے میں مدد دے گی اور یوکرین میں امن کی راہ کھولے گی،“ پیوٹن نے کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا:
”ہم توقع رکھتے ہیں کہ کییف اور یورپی دارالحکومت ان تمام باتوں کو تعمیری انداز میں لیں گے اور پیش رفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ نہ ہی کسی قسم کی اشتعال انگیزی یا خفیہ سازش کے ذریعے معاملات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دونوں رہنماؤں نے یوکرین میں جنگ بندی کے حوالے سے کسی واضح یا عملی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا، حالانکہ جنگ بندی کا حصول ٹرمپ کی جانب سے جمعے کی سربراہ ملاقات سے قبل ایک بڑا ہدف قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ جنگ، جو کہ یورپ میں گزشتہ 80 برسوں کی سب سے ہلاکت خیز جنگ قرار دی جا رہی ہے، اب تک دونوں جانب سے دس لاکھ سے زائد افراد کی ہلاکت یا زخمی ہونے کا سبب بن چکی ہے، جن میں زیادہ تر عام یوکرینی شہری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ انہوں نے پیوٹن کے ساتھ ممکنہ زمینی تبادلے اور یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتوں پر بات کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فاکس نیوز کے اینکر شان ہینیٹی سے گفتگو میں کہا کہ میرے خیال میں یہ وہ نکات ہیں جن پر ہم نے بات چیت کی، اور جن پر بڑی حد تک اتفاق ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ہم معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں… لیکن یوکرین کو اس پر رضامند ہونا ہوگا۔ شاید وہ انکار بھی کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیوٹن یہ مرحلہ جیت گیا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاکس نیوز کے میزبان شان ہینیٹی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال پر کہ وہ یوکرینی صدر زیلنسکی کو کیا مشورہ دیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختصر جواب دیا کہ معاہدہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ دیکھیے، روس ایک بڑی طاقت ہے، یوکرین ایسی طاقت نہیں۔ البتہ ان کے سپاہی بہت بہادر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے اس بیان کو کئی مبصرین نے اس تاثر کے طور پر لیا ہے کہ اس مرحلے پر روس کو برتری حاصل ہے، یا جیسا کہ بعض تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پیوٹن یہ مرحلہ جیت گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سربراہ ملاقات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے لیے ممکنہ ”زمین کے تبادلے“ کی باتوں نے کیف اور یورپی دارالحکومتوں میں خدشات کو جنم دیا تھا کہ کہیں ٹرمپ اور پیوٹن آپس میں کوئی معاہدہ طے کر کے یوکرین پر زبردستی نہ مسلط کر دیں، جس میں یوکرین کو سخت ناقابل قبول شرائط تسلیم کرنا پڑیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فی الحال ایسے خدشات حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے۔ مگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے لیے صرف امریکی صدر سے براہِ راست ملاقات ہی ایک سفارتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد مغربی رہنماؤں نے پیوٹن کا بائیکاٹ کر رکھا تھا، اور محض ایک ہفتہ قبل ٹرمپ کی جانب سے ان پر نئی پابندیاں لگانے کی دھمکی بھی سامنے آئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی و عالمی امور کے معروف ماہر اور سرد جنگ پر تحقیق کرنے والے سرگئی ریڈچینکو نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ  پیوٹن ایک پرعزم مخالف ہے، اور ہاں، اس مرحلے پر وہ بنیادی طور پر جیت گیا، کیونکہ اس نے کچھ دیے بغیر بہت کچھ حاصل کر لیا۔ البتہ، ٹرمپ نے یوکرین کو بیچا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ اب روسی صدر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان ایک براہِ راست ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ممکن ہے کہ وہ خود بھی شریک ہوں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ملاقات کب اور کہاں ہوگی یا اس کا انتظام کون کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پیوٹن نے اپنی گفتگو میں زیلنسکی سے کسی ممکنہ ملاقات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق پیوٹن کے خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ زیلنسکی کو شامل کرتے ہوئے کسی تین فریقی سربراہی ملاقات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز واشنگٹن پہنچنے کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے طویل ٹیلیفونک گفتگو کی، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیٹو کے کئی رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر نیٹو رکن ممالک کی جانب سے روس پر مزید دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارت ایدے نے اوسلو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں روس پر دباؤ برقرار رکھنا ہوگا ، بلکہ اُسے مزید بڑھانا چاہیے، تاکہ یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ یوکرین پر حملے کی قیمت روس کو ادا کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور نیٹو ملک چیک جمہوریہ کی وزیر دفاع یانا چرنوخووا نے بھی ٹرمپ پیوٹن ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  الاسکا میں ہونے والی ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات سے یوکرین جنگ کے خاتمے کی جانب کوئی خاص پیش رفت تو نہیں ہوئی، لیکن یہ ضرور واضح ہو گیا کہ پیوٹن امن نہیں چاہتا۔ وہ درحقیقت مغربی اتحاد کو کمزور کرنے اور اپنی پراپیگنڈا مہم کو وسعت دینے کے مواقع تلاش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگلی ملاقات ماسکو میں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس اور یوکرین نے سربراہ ملاقات کے باوجود جنگی کارروائیاں جاری رکھیں، جیسا کہ ہفتے کی رات ایک بار پھر دونوں جانب سے فضائی حملے کیے گئے، ایک معمول جو فروری 2022 میں روس کی مکمل حملے کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے بعد روزمرہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے 85 ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل یوکرین پر داغے، جن میں سے 61 کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ یوکرینی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں محاذِ جنگ پر 139 جھڑپیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر روسی وزارت دفاع کے مطابق روس نے یوکرین کے 29 ڈرون رات کے وقت مار گرائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا ہے کہ پیوٹن سے ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کے بعد انہوں نے چین پر روسی تیل خریدنے کے باعث مجوزہ ٹیرف روک دیے ہیں۔ تاہم انہوں نے بھارت کا ذکر نہیں کیا — جو روسی خام تیل کا ایک بڑا خریدار ہے — جس پر امریکہ پہلے ہی مجموعی طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر چکا ہے، جس میں روسی درآمدات پر 25 فیصد اضافی جرمانہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ آج جو پیش رفت ہوئی، اس کے بعد مجھے لگتا ہے کہ اب چین پر ٹیرف لگانے کے بارے میں نہیں سوچنا پڑے گا۔ شاید دو یا تین ہفتے بعد سوچنا پڑے، لیکن ابھی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹرمپ نے ماسکو پر پابندیوں کی دھمکی بھی دی تھی، لیکن وہ اس پر عمل درآمد نہیں کر سکے، حتیٰ کہ جب رواں ماہ کے آغاز میں پیوٹن نے ٹرمپ کی دی گئی جنگ بندی کی ڈیڈ لائن کو بھی نظر انداز کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سربراہ ملاقات جس کی عالمی سطح پر گہری نگرانی کی جا رہی تھی، ایک غیر متاثر کن انجام سے دوچار ہوئی، جو کہ اس کی شاندار ابتدا کے بالکل برعکس تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب پیوٹن الاسکا کے ایک ایئر فورس بیس پر پہنچے تو ان کے استقبال کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا تھا اور ٹرمپ نے گرمجوشی سے ان کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر امریکی فضائیہ کے طیارے فضاؤں میں پرواز کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیوٹن کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے یوکرین سے سیکڑوں بچوں کی جبری ملک بدری کے جنگی جرم کے الزام میں مطلوب قرار دیا ہوا ہے۔ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے، اور کریملن نے آئی سی سی کے وارنٹ کو ”کالعدم اور بے بنیاد“ قرار دیا ہے۔ امریکہ اور روس دونوں آئی سی سی کے رکن نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے جمعے کی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے پیوٹن سے کہا کہ آپ کا شکریہ، جلد ہی دوبارہ بات ہوگی، اور شاید جلد ہی دوبارہ ملاقات بھی۔ جس پر پیوٹن نے مسکراتے ہوئے انگریزی میں جواب دیا کہ اگلی ملاقات ماسکو میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا کہ شاید مجھے اس پر کچھ تنقید کا سامنا کرنا پڑے، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”ممکن ہے ایسا ہو جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کی ملاقات سے قبل یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ ملاقات ایک ”منصفانہ امن“ کی راہ ہموار کرے گی اور ایک سہ فریقی مذاکرات کا آغاز کرے گی جس میں وہ خود بھی شامل ہوں گے۔ تاہم انہوں نے ساتھ یہ بھی واضح کیا تھا کہ روس تاحال جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر لکھا ہے کہ یہ وقت ہے کہ جنگ کا خاتمہ کیا جائے، اور اس کے لیے ضروری اقدامات روس کو کرنے ہوں گے۔ ہم امریکہ پر انحصار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے سربراہ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ یوکرین کو جنگ کے خاتمے کے لیے روس سے معاہدہ کر لینا چاہیے۔ یہ ملاقات جنگ بندی پر کسی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>جمعہ کے روز الاسکا میں تقریباً تین گھنٹے طویل بات چیت کے بعد ٹرمپ اور پیوٹن نے میڈیا کے سامنے مختصر گفتگو کی، جہاں انہوں نے بعض غیر واضح معاملات پر پیش رفت کا دعویٰ تو کیا لیکن کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، نہ ہی صحافیوں کے سوالات سنئے گئے۔ ہمیشہ باتونی مزاج رکھنے والے ٹرمپ نے اس بار صحافیوں کے مخاطب کرنے کے باوجود کوئی جواب نہ دیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے پس منظر میں آویزاں ”امن کی جستجو“ کے بینر کے سامنے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم نے کچھ پیش رفت کی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا، تب تک معاہدہ نہیں ہوتا۔</p>
<p>دوسری جانب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ہفتے کے روز ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ یوکرین تعمیری تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ پیر کو واشنگٹن روانہ ہوں گے۔</p>
<p>ادھر صدر پیوٹن نے یوکرین سے متعلق روس کے دیرینہ موقف میں کسی تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بحران کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنا ضروری ہے اور ماسکو کے جائز تحفظات کو دور کرنا ہوگا۔</p>
<p>تاہم انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوکرین کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔</p>
<p>روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو یوکرین میں امن کے قیام کے لیے بات چیت پر آمادہ ہے اور جو مفاہمت حالیہ ملاقات میں ہوئی ہے، وہ اس مقصد کے حصول میں پیش رفت کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔</p>
<p>”ہم اس پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جو سمجھ بوجھ ہم تک پہنچی ہے، وہ ہمیں امن کے ہدف کے قریب لانے میں مدد دے گی اور یوکرین میں امن کی راہ کھولے گی،“ پیوٹن نے کہا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا:
”ہم توقع رکھتے ہیں کہ کییف اور یورپی دارالحکومت ان تمام باتوں کو تعمیری انداز میں لیں گے اور پیش رفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ نہ ہی کسی قسم کی اشتعال انگیزی یا خفیہ سازش کے ذریعے معاملات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے۔“</p>
<p>تاہم دونوں رہنماؤں نے یوکرین میں جنگ بندی کے حوالے سے کسی واضح یا عملی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا، حالانکہ جنگ بندی کا حصول ٹرمپ کی جانب سے جمعے کی سربراہ ملاقات سے قبل ایک بڑا ہدف قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ جنگ، جو کہ یورپ میں گزشتہ 80 برسوں کی سب سے ہلاکت خیز جنگ قرار دی جا رہی ہے، اب تک دونوں جانب سے دس لاکھ سے زائد افراد کی ہلاکت یا زخمی ہونے کا سبب بن چکی ہے، جن میں زیادہ تر عام یوکرینی شہری شامل ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ انہوں نے پیوٹن کے ساتھ ممکنہ زمینی تبادلے اور یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتوں پر بات کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے فاکس نیوز کے اینکر شان ہینیٹی سے گفتگو میں کہا کہ میرے خیال میں یہ وہ نکات ہیں جن پر ہم نے بات چیت کی، اور جن پر بڑی حد تک اتفاق ہو چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ہم معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں… لیکن یوکرین کو اس پر رضامند ہونا ہوگا۔ شاید وہ انکار بھی کر دیں۔</p>
<p><strong>پیوٹن یہ مرحلہ جیت گیا</strong></p>
<p>فاکس نیوز کے میزبان شان ہینیٹی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال پر کہ وہ یوکرینی صدر زیلنسکی کو کیا مشورہ دیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختصر جواب دیا کہ معاہدہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ دیکھیے، روس ایک بڑی طاقت ہے، یوکرین ایسی طاقت نہیں۔ البتہ ان کے سپاہی بہت بہادر ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کے اس بیان کو کئی مبصرین نے اس تاثر کے طور پر لیا ہے کہ اس مرحلے پر روس کو برتری حاصل ہے، یا جیسا کہ بعض تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پیوٹن یہ مرحلہ جیت گیا ہے۔</p>
<p>سربراہ ملاقات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے لیے ممکنہ ”زمین کے تبادلے“ کی باتوں نے کیف اور یورپی دارالحکومتوں میں خدشات کو جنم دیا تھا کہ کہیں ٹرمپ اور پیوٹن آپس میں کوئی معاہدہ طے کر کے یوکرین پر زبردستی نہ مسلط کر دیں، جس میں یوکرین کو سخت ناقابل قبول شرائط تسلیم کرنا پڑیں۔</p>
<p>تاہم فی الحال ایسے خدشات حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے۔ مگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے لیے صرف امریکی صدر سے براہِ راست ملاقات ہی ایک سفارتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد مغربی رہنماؤں نے پیوٹن کا بائیکاٹ کر رکھا تھا، اور محض ایک ہفتہ قبل ٹرمپ کی جانب سے ان پر نئی پابندیاں لگانے کی دھمکی بھی سامنے آئی تھی۔</p>
<p>تاریخی و عالمی امور کے معروف ماہر اور سرد جنگ پر تحقیق کرنے والے سرگئی ریڈچینکو نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ  پیوٹن ایک پرعزم مخالف ہے، اور ہاں، اس مرحلے پر وہ بنیادی طور پر جیت گیا، کیونکہ اس نے کچھ دیے بغیر بہت کچھ حاصل کر لیا۔ البتہ، ٹرمپ نے یوکرین کو بیچا نہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ اب روسی صدر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان ایک براہِ راست ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ممکن ہے کہ وہ خود بھی شریک ہوں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ملاقات کب اور کہاں ہوگی یا اس کا انتظام کون کر رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پیوٹن نے اپنی گفتگو میں زیلنسکی سے کسی ممکنہ ملاقات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق پیوٹن کے خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ زیلنسکی کو شامل کرتے ہوئے کسی تین فریقی سربراہی ملاقات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔</p>
<p>ہفتے کے روز واشنگٹن پہنچنے کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے طویل ٹیلیفونک گفتگو کی، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیٹو کے کئی رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا ہے۔</p>
<p>ادھر نیٹو رکن ممالک کی جانب سے روس پر مزید دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارت ایدے نے اوسلو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں روس پر دباؤ برقرار رکھنا ہوگا ، بلکہ اُسے مزید بڑھانا چاہیے، تاکہ یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ یوکرین پر حملے کی قیمت روس کو ادا کرنی ہوگی۔</p>
<p>ایک اور نیٹو ملک چیک جمہوریہ کی وزیر دفاع یانا چرنوخووا نے بھی ٹرمپ پیوٹن ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  الاسکا میں ہونے والی ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات سے یوکرین جنگ کے خاتمے کی جانب کوئی خاص پیش رفت تو نہیں ہوئی، لیکن یہ ضرور واضح ہو گیا کہ پیوٹن امن نہیں چاہتا۔ وہ درحقیقت مغربی اتحاد کو کمزور کرنے اور اپنی پراپیگنڈا مہم کو وسعت دینے کے مواقع تلاش کر رہا ہے۔</p>
<p><strong>اگلی ملاقات ماسکو میں</strong></p>
<p>روس اور یوکرین نے سربراہ ملاقات کے باوجود جنگی کارروائیاں جاری رکھیں، جیسا کہ ہفتے کی رات ایک بار پھر دونوں جانب سے فضائی حملے کیے گئے، ایک معمول جو فروری 2022 میں روس کی مکمل حملے کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے بعد روزمرہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p>یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے 85 ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل یوکرین پر داغے، جن میں سے 61 کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ یوکرینی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں محاذِ جنگ پر 139 جھڑپیں ہوئیں۔</p>
<p>ادھر روسی وزارت دفاع کے مطابق روس نے یوکرین کے 29 ڈرون رات کے وقت مار گرائے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا ہے کہ پیوٹن سے ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کے بعد انہوں نے چین پر روسی تیل خریدنے کے باعث مجوزہ ٹیرف روک دیے ہیں۔ تاہم انہوں نے بھارت کا ذکر نہیں کیا — جو روسی خام تیل کا ایک بڑا خریدار ہے — جس پر امریکہ پہلے ہی مجموعی طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر چکا ہے، جس میں روسی درآمدات پر 25 فیصد اضافی جرمانہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ آج جو پیش رفت ہوئی، اس کے بعد مجھے لگتا ہے کہ اب چین پر ٹیرف لگانے کے بارے میں نہیں سوچنا پڑے گا۔ شاید دو یا تین ہفتے بعد سوچنا پڑے، لیکن ابھی نہیں۔</p>
<p>اگرچہ ٹرمپ نے ماسکو پر پابندیوں کی دھمکی بھی دی تھی، لیکن وہ اس پر عمل درآمد نہیں کر سکے، حتیٰ کہ جب رواں ماہ کے آغاز میں پیوٹن نے ٹرمپ کی دی گئی جنگ بندی کی ڈیڈ لائن کو بھی نظر انداز کر دیا۔</p>
<p>یہ سربراہ ملاقات جس کی عالمی سطح پر گہری نگرانی کی جا رہی تھی، ایک غیر متاثر کن انجام سے دوچار ہوئی، جو کہ اس کی شاندار ابتدا کے بالکل برعکس تھا۔</p>
<p>جب پیوٹن الاسکا کے ایک ایئر فورس بیس پر پہنچے تو ان کے استقبال کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا تھا اور ٹرمپ نے گرمجوشی سے ان کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر امریکی فضائیہ کے طیارے فضاؤں میں پرواز کر رہے تھے۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیوٹن کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے یوکرین سے سیکڑوں بچوں کی جبری ملک بدری کے جنگی جرم کے الزام میں مطلوب قرار دیا ہوا ہے۔ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے، اور کریملن نے آئی سی سی کے وارنٹ کو ”کالعدم اور بے بنیاد“ قرار دیا ہے۔ امریکہ اور روس دونوں آئی سی سی کے رکن نہیں ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے جمعے کی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے پیوٹن سے کہا کہ آپ کا شکریہ، جلد ہی دوبارہ بات ہوگی، اور شاید جلد ہی دوبارہ ملاقات بھی۔ جس پر پیوٹن نے مسکراتے ہوئے انگریزی میں جواب دیا کہ اگلی ملاقات ماسکو میں۔</p>
<p>ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا کہ شاید مجھے اس پر کچھ تنقید کا سامنا کرنا پڑے، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”ممکن ہے ایسا ہو جائے۔“</p>
<p>جمعے کی ملاقات سے قبل یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ ملاقات ایک ”منصفانہ امن“ کی راہ ہموار کرے گی اور ایک سہ فریقی مذاکرات کا آغاز کرے گی جس میں وہ خود بھی شامل ہوں گے۔ تاہم انہوں نے ساتھ یہ بھی واضح کیا تھا کہ روس تاحال جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر لکھا ہے کہ یہ وقت ہے کہ جنگ کا خاتمہ کیا جائے، اور اس کے لیے ضروری اقدامات روس کو کرنے ہوں گے۔ ہم امریکہ پر انحصار کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275909</guid>
      <pubDate>Sat, 16 Aug 2025 19:15:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/1618445570d41e0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/1618445570d41e0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
