<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کی نئی ٹیرف پالیسی: پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات کے لیے نئے مواقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275850/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی دواساز صنعت کو امریکہ کی منڈی میں اپنی برآمدات میں کئی گنا اضافے کا سنہری موقع میسر آ گیا ہے، کیونکہ حال ہی میں مختلف ممالک کے لیے نئے ٹیرف پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے، جس نے پاکستان کو پڑوسی معیشتوں کے مقابلے میں مسابقتی برتری فراہم کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کو اپنی مصنوعات برآمد کرنے کے لیے پاکستان پر 19 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، جب کہ بھارت کے لیے یہ شرح 25 سے 50 فیصد یا اس سے بھی مختلف اور چین کے لیے 50 فیصد تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیلتھ کیئر سیکٹر کے ماہر اور فنانشل ایڈوائزر شہزاد حیدر نے کہا کہ موجودہ سازگار ٹیرف ڈھانچہ پاکستان کی دواساز صنعت کے لیے امریکہ کی منڈی میں داخل ہونے اور قیمتی زرمبادلہ کمانے کا شاندار موقع ہے، تاہم اس کے لیے امریکہ کی ریگولیٹری اتھارٹیز سے منظوری حاصل کرنے کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بھارت اور چین امریکہ کی منڈی میں دواؤں کے بڑے سپلائر ہیں، اس لیے ان پر زیادہ ڈیوٹی لگنے سے دیگر ممالک، بشمول پاکستان، کے لیے آئندہ چند برسوں میں برآمدات بڑھانے کے بڑے مواقع پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں امریکی منڈی میں بھارتی دواساز مصنوعات کی برآمدات 8.5 ارب ڈالر سے زائد اور چینی مصنوعات کی برآمدات 2.5 ارب ڈالر سے زائد رہیں۔ مسابقتی برتری کے ساتھ ساتھ امریکہ اس وقت اپنی ہیلتھ کیئر انڈسٹری میں ادویات کی کمی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مخصوص دواؤں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزاد حیدر نے کہا کہ یہ درست وقت ہے کہ حکومت اور دواساز صنعت کے تمام فریق ایک روڈمیپ تیار کریں، مختلف مصنوعات کے ساتھ امریکی منڈی میں داخل ہوں اور خریداروں کی طلب کے مطابق اپنی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے امریکہ کے ساتھ مضبوط ہوتے سفارتی تعلقات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور امریکی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ کام کر کے امریکی ہیلتھ کیئر اور ویلنیس سیکٹر میں ادویات کی فراہمی کا خلا پُر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزاد حیدر کے مطابق پاکستانی مصنوعات امریکی منڈی کے معیار پر پوری اترنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ریگولیٹری سرٹیفکیشن ضروری ہے۔ البتہ، پیداواری صلاحیت کی کمی کے باعث پاکستانی کمپنیاں فی الحال محدود مقدار میں سپلائی کر سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکی منڈی کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کیے جائیں تو اس سے پاکستان کی دواساز صنعت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور اس شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امریکی منڈی کی طلب کے پیش نظر پاکستانی دواساز برآمد کنندگان اگلے دو سال میں ملک کی برآمدات کو دگنا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے معیارات پر سختی سے عمل کریں، جدید پیداواری سہولیات میں سرمایہ کاری کریں اور بین الاقوامی ریگولیٹری اداروں سے سرٹیفکیشن حاصل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید نے کہا کہ پاکستان امریکہ کو ہربل ادویات برآمد کر رہا ہے لیکن اس کی مقدار کئی گنا بڑھائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی متعدد دواساز مصنوعات، جو عالمی ڈرگ اتھارٹیز سے منظور شدہ ہیں، امریکی منڈی میں برآمد کی جا سکتی ہیں بشرطیکہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی منظوری حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہتر ہوتے سفارتی و تجارتی تعلقات آئندہ چند ماہ میں پاکستانی دواساز صنعت کو امریکی منڈی میں جگہ بنانے میں مدد دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق، مالی سال 2025 میں پاکستان سے ادویات کی مجموعی برآمدات 34 فیصد اضافے کے ساتھ 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو شرحِ نمو کے لحاظ سے 20 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ اضافہ شعبے کی ڈیریگولیشن اور جدت کے باعث ممکن ہوا۔ اس وقت پاکستان یورپ، امریکہ، وسطی ایشیا، افریقہ اور دیگر ممالک سمیت دنیا کے 70 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی دواساز صنعت کو امریکہ کی منڈی میں اپنی برآمدات میں کئی گنا اضافے کا سنہری موقع میسر آ گیا ہے، کیونکہ حال ہی میں مختلف ممالک کے لیے نئے ٹیرف پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے، جس نے پاکستان کو پڑوسی معیشتوں کے مقابلے میں مسابقتی برتری فراہم کر دی ہے۔</strong></p>
<p>امریکہ کو اپنی مصنوعات برآمد کرنے کے لیے پاکستان پر 19 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، جب کہ بھارت کے لیے یہ شرح 25 سے 50 فیصد یا اس سے بھی مختلف اور چین کے لیے 50 فیصد تک ہے۔</p>
<p>ہیلتھ کیئر سیکٹر کے ماہر اور فنانشل ایڈوائزر شہزاد حیدر نے کہا کہ موجودہ سازگار ٹیرف ڈھانچہ پاکستان کی دواساز صنعت کے لیے امریکہ کی منڈی میں داخل ہونے اور قیمتی زرمبادلہ کمانے کا شاندار موقع ہے، تاہم اس کے لیے امریکہ کی ریگولیٹری اتھارٹیز سے منظوری حاصل کرنے کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بھارت اور چین امریکہ کی منڈی میں دواؤں کے بڑے سپلائر ہیں، اس لیے ان پر زیادہ ڈیوٹی لگنے سے دیگر ممالک، بشمول پاکستان، کے لیے آئندہ چند برسوں میں برآمدات بڑھانے کے بڑے مواقع پیدا ہوں گے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں امریکی منڈی میں بھارتی دواساز مصنوعات کی برآمدات 8.5 ارب ڈالر سے زائد اور چینی مصنوعات کی برآمدات 2.5 ارب ڈالر سے زائد رہیں۔ مسابقتی برتری کے ساتھ ساتھ امریکہ اس وقت اپنی ہیلتھ کیئر انڈسٹری میں ادویات کی کمی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مخصوص دواؤں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔</p>
<p>شہزاد حیدر نے کہا کہ یہ درست وقت ہے کہ حکومت اور دواساز صنعت کے تمام فریق ایک روڈمیپ تیار کریں، مختلف مصنوعات کے ساتھ امریکی منڈی میں داخل ہوں اور خریداروں کی طلب کے مطابق اپنی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے امریکہ کے ساتھ مضبوط ہوتے سفارتی تعلقات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور امریکی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ کام کر کے امریکی ہیلتھ کیئر اور ویلنیس سیکٹر میں ادویات کی فراہمی کا خلا پُر کر سکتا ہے۔</p>
<p>شہزاد حیدر کے مطابق پاکستانی مصنوعات امریکی منڈی کے معیار پر پوری اترنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ریگولیٹری سرٹیفکیشن ضروری ہے۔ البتہ، پیداواری صلاحیت کی کمی کے باعث پاکستانی کمپنیاں فی الحال محدود مقدار میں سپلائی کر سکیں گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکی منڈی کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کیے جائیں تو اس سے پاکستان کی دواساز صنعت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور اس شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ امریکی منڈی کی طلب کے پیش نظر پاکستانی دواساز برآمد کنندگان اگلے دو سال میں ملک کی برآمدات کو دگنا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے معیارات پر سختی سے عمل کریں، جدید پیداواری سہولیات میں سرمایہ کاری کریں اور بین الاقوامی ریگولیٹری اداروں سے سرٹیفکیشن حاصل کریں۔</p>
<p>پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید نے کہا کہ پاکستان امریکہ کو ہربل ادویات برآمد کر رہا ہے لیکن اس کی مقدار کئی گنا بڑھائی جا سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی متعدد دواساز مصنوعات، جو عالمی ڈرگ اتھارٹیز سے منظور شدہ ہیں، امریکی منڈی میں برآمد کی جا سکتی ہیں بشرطیکہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی منظوری حاصل ہو۔</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہتر ہوتے سفارتی و تجارتی تعلقات آئندہ چند ماہ میں پاکستانی دواساز صنعت کو امریکی منڈی میں جگہ بنانے میں مدد دیں گے۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق، مالی سال 2025 میں پاکستان سے ادویات کی مجموعی برآمدات 34 فیصد اضافے کے ساتھ 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو شرحِ نمو کے لحاظ سے 20 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ اضافہ شعبے کی ڈیریگولیشن اور جدت کے باعث ممکن ہوا۔ اس وقت پاکستان یورپ، امریکہ، وسطی ایشیا، افریقہ اور دیگر ممالک سمیت دنیا کے 70 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275850</guid>
      <pubDate>Fri, 15 Aug 2025 10:07:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/15100550e902268.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/15100550e902268.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
