<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لبنانی صدر کا ایرانی سیکورٹی چیف کو ہر قسم کی مداخلت مسترد کرنے کا پیغام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275827/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لبنان کے صدر جوزف عون نے بدھ کے روز  دورہ کرنے والے ایرانی سیکورٹی چیف علی لاریجانی سے ملاقات میں ملک کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے پر ایرانی بیانات کو غیر تعمیری قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی حکومت نے حال ہی میں فوج کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کی تیاری کا حکم دیا تھا، جس کی ایران نے مخالفت کی ہے۔ بیروت پہنچنے پر علی لاریجانی نے اعلان کیا کہ ایران حزب اللہ کی حمایت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر جوزف عون نے کہا کہ ہم اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کو مسترد کرتے ہیں… کسی کے لیے غیر ملکی حمایت کے بل بوتے پر اسلحہ رکھنا یا استعمال کرنا ممنوع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزب اللہ نے ایک سال تک جاری رہنے والی اسرائیل کے ساتھ لڑائی میں شدید جانی و مالی نقصان اٹھایا، جو نومبر 2024 میں جنگ بندی پر ختم ہوئی۔ اس دوران شام کے صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے سے حزب اللہ اپنے اہم اسلحہ سپلائی راستے سے محروم ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی حمایت یافتہ نئی لبنانی حکومت حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو مزید محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ایران کا محورِ مزاحمت خطے میں اسرائیل مخالف مسلح گروہوں کا جال ہے، جس میں حماس اور یمن کے حوثی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لبنان کے صدر جوزف عون نے بدھ کے روز  دورہ کرنے والے ایرانی سیکورٹی چیف علی لاریجانی سے ملاقات میں ملک کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے پر ایرانی بیانات کو غیر تعمیری قرار دیا۔</strong></p>
<p>لبنانی حکومت نے حال ہی میں فوج کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کی تیاری کا حکم دیا تھا، جس کی ایران نے مخالفت کی ہے۔ بیروت پہنچنے پر علی لاریجانی نے اعلان کیا کہ ایران حزب اللہ کی حمایت جاری رکھے گا۔</p>
<p>صدر جوزف عون نے کہا کہ ہم اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کو مسترد کرتے ہیں… کسی کے لیے غیر ملکی حمایت کے بل بوتے پر اسلحہ رکھنا یا استعمال کرنا ممنوع ہے۔</p>
<p>حزب اللہ نے ایک سال تک جاری رہنے والی اسرائیل کے ساتھ لڑائی میں شدید جانی و مالی نقصان اٹھایا، جو نومبر 2024 میں جنگ بندی پر ختم ہوئی۔ اس دوران شام کے صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے سے حزب اللہ اپنے اہم اسلحہ سپلائی راستے سے محروم ہوگئی۔</p>
<p>امریکہ کی حمایت یافتہ نئی لبنانی حکومت حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو مزید محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ایران کا محورِ مزاحمت خطے میں اسرائیل مخالف مسلح گروہوں کا جال ہے، جس میں حماس اور یمن کے حوثی شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275827</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Aug 2025 11:07:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/141105479e33564.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/141105479e33564.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
