<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان، آسیان روابط کو متعدد شعبوں میں فروغ دینے کی ضرورت ہے، ایف پی سی سی آئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275822/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر ایف پی سی سی آئی، صدر ای سی او-سی سی آئی اور نائب صدر سی اے سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان بڑے تجارتی عدم توازن پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اورآسیان ممالک کی دو طرفہ تجارت کا حجم 9.06 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے لیکن پاکستان کی برآمدات آسیان ممالک کو صرف 2.2 ارب ڈالر ہیں جبکہ درآمدات 6.8 ارب ڈالر کے حجم پر ہیں جن کا 90 فیصدحصہ ملائیشیا، تھائی لینڈ، ویتنام، فلپائن اور انڈونیشیا سے آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابل ذکر ہے کہ فیڈریشن ہاؤس کراچی میں آسیان ڈے کی اعلیٰ سطح تقریب منعقد کی گئی جس میں مختلف آسیان ممالک کے سفارتکار، صنعتکار،سرکاری افسران، برآمدکنندگان اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیشن کا خصو صی مقصد ٹرانسپورٹ، مواصلات اور بلیو اکانومی کے شعبہ جات میں تعاون بڑھانے کے علاوہ آسیان ممالک کے ساتھ عوامی اور کاروباری سطح پر روابط کو فروغ دینا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ آسیان ممالک نے عالمی مارکیٹ میں مینوفیکچرنگ اور سروسز میں قابل ذکر ترقی کرلی ہے اور ایف پی سی سی آئی پاکستانی صنعتی و تاجر برادری کے لیے آسیان کے ساتھ بہتر تجارتی مواقع تلاش کرنے اور مشترکہ حکمتِ عملی بنانے کا پلیٹ فارم فراہم کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشین قونصل جنرل ہرمن ہردیناتا احمد  جو کہ تقریب کے گیسٹ آف آنر بھی تھے نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور آسیان کے درمیان اقتصادی سفارتکاری اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ خوش آئند ہے اور انہوں نے ایف پی سی سی آئی کے کردار کو اس سلسلے میں خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ،تھائی لینڈ، ویتنام اور فلپائن کے قونصل جنرلز اور سفارتکاروں نے پاکستان کی اعلیٰ ترین ٹریڈ باڈی ایف پی سی سی آئی کے تجارتی وفود کو خصوصی طور پر دعوت دی ہے تاکہ وہ ان کے متعلقہ ممالک میں ہونے والی اہم تجارتی سرگرمیوں، تقریبات اور نمائشوں میں شرکت کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر، ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ آسیان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات انتہائی وسیع ہیں جن میں ٹیکسٹائل، زراعت، خوراک، سی فوڈ، آئی ٹی، ادویات، متبادل توانائی، الیکٹرانکس اور مصالحہ جات شامل ہیں۔ انہوں نے ملائیشیا کے ساتھ ایف ٹی اے اور انڈونیشیا کے ساتھ پی ٹی اے کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں تھائی لینڈ کے ساتھ ایف ٹی اے پر جاری مذاکرات اور ویتنام کے ساتھ پی ٹی اے پر جاری مذاکرات کی اہمیت بھی اجاگر کی ۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدرو سندھ ریجن کے چیئر مین، عبدالمہیمن خان نے کہا کہ پاکستان اور آسیان کے تعلقات کثیرالجہتی اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت، وافر افرادی قوت اور سرمایہ کاری میں آسانی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے باعث پاکستان آسیان کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مقام بن چکا ہی؛ جہاں وہ انڈسٹری لگا کر مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور مغربی چین کی مارکیٹوں کو ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر ایف پی سی سی آئی، صدر ای سی او-سی سی آئی اور نائب صدر سی اے سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان بڑے تجارتی عدم توازن پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اورآسیان ممالک کی دو طرفہ تجارت کا حجم 9.06 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے لیکن پاکستان کی برآمدات آسیان ممالک کو صرف 2.2 ارب ڈالر ہیں جبکہ درآمدات 6.8 ارب ڈالر کے حجم پر ہیں جن کا 90 فیصدحصہ ملائیشیا، تھائی لینڈ، ویتنام، فلپائن اور انڈونیشیا سے آتا ہے۔</p>
<p>یہ بات قابل ذکر ہے کہ فیڈریشن ہاؤس کراچی میں آسیان ڈے کی اعلیٰ سطح تقریب منعقد کی گئی جس میں مختلف آسیان ممالک کے سفارتکار، صنعتکار،سرکاری افسران، برآمدکنندگان اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی۔</p>
<p>سیشن کا خصو صی مقصد ٹرانسپورٹ، مواصلات اور بلیو اکانومی کے شعبہ جات میں تعاون بڑھانے کے علاوہ آسیان ممالک کے ساتھ عوامی اور کاروباری سطح پر روابط کو فروغ دینا تھا۔</p>
<p>صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ آسیان ممالک نے عالمی مارکیٹ میں مینوفیکچرنگ اور سروسز میں قابل ذکر ترقی کرلی ہے اور ایف پی سی سی آئی پاکستانی صنعتی و تاجر برادری کے لیے آسیان کے ساتھ بہتر تجارتی مواقع تلاش کرنے اور مشترکہ حکمتِ عملی بنانے کا پلیٹ فارم فراہم کررہی ہے۔</p>
<p>ملائیشین قونصل جنرل ہرمن ہردیناتا احمد  جو کہ تقریب کے گیسٹ آف آنر بھی تھے نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور آسیان کے درمیان اقتصادی سفارتکاری اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ خوش آئند ہے اور انہوں نے ایف پی سی سی آئی کے کردار کو اس سلسلے میں خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا۔</p>
<p>اس موقع پر ،تھائی لینڈ، ویتنام اور فلپائن کے قونصل جنرلز اور سفارتکاروں نے پاکستان کی اعلیٰ ترین ٹریڈ باڈی ایف پی سی سی آئی کے تجارتی وفود کو خصوصی طور پر دعوت دی ہے تاکہ وہ ان کے متعلقہ ممالک میں ہونے والی اہم تجارتی سرگرمیوں، تقریبات اور نمائشوں میں شرکت کریں۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر، ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ آسیان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات انتہائی وسیع ہیں جن میں ٹیکسٹائل، زراعت، خوراک، سی فوڈ، آئی ٹی، ادویات، متبادل توانائی، الیکٹرانکس اور مصالحہ جات شامل ہیں۔ انہوں نے ملائیشیا کے ساتھ ایف ٹی اے اور انڈونیشیا کے ساتھ پی ٹی اے کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>مزید برآں تھائی لینڈ کے ساتھ ایف ٹی اے پر جاری مذاکرات اور ویتنام کے ساتھ پی ٹی اے پر جاری مذاکرات کی اہمیت بھی اجاگر کی ۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدرو سندھ ریجن کے چیئر مین، عبدالمہیمن خان نے کہا کہ پاکستان اور آسیان کے تعلقات کثیرالجہتی اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت، وافر افرادی قوت اور سرمایہ کاری میں آسانی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے باعث پاکستان آسیان کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مقام بن چکا ہی؛ جہاں وہ انڈسٹری لگا کر مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور مغربی چین کی مارکیٹوں کو ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275822</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Aug 2025 10:45:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/14103825a5fda8f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/14103825a5fda8f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
