<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد، آٹو انڈسٹری کی حکومتی منصوبہ روکنے کی کوششیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275812/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری، خصوصاً جاپانی اسمبلرز، مبینہ طور پر حکومت کے اُس منصوبے کو روکنے کی آخری کوششیں کر رہی ہے جس کے تحت 5 سال پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دی جائے گی۔ یہ پالیسی یکم اکتوبر 2025 سے نافذ ہونے کا امکان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوریجنل ایکوئپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایمز) اور آٹو پارٹس وینڈرز کے نمائندوں نے حال ہی میں مجوزہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی پالیسی اور اس کے ملکی آٹو انڈسٹری پر ممکنہ اثرات پر تفصیلی بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی درآمدی ٹیرف پالیسی سے موجودہ او ای ایمز — خاص طور پر جاپانی کمپنیوں — پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے، جبکہ چینی کمپنیوں پر اس کا دباؤ کم ہوگا کیونکہ ان کی توجہ زیادہ تر الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹری ذرائع کے مطابق، حکومت کو بتایا گیا کہ پاکستان کی کل نئی کار مارکیٹ کا حجم سالانہ تقریباً 2 لاکھ یونٹس ہے، جبکہ موجودہ نظام کے تحت ہر سال تقریباً 40 ہزار استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف صنعتکار ندیم ملک نے خبردار کیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں مزید نرمی سے مقامی صنعت اپنے ہی مارکیٹ تک رسائی سے محروم ہو جائے گی۔ مارکیٹ کا حجم پہلے ہی کم ہے، نئی سرمایہ کاری اور لوکلائزیشن بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز  کے سینئر نائب صدر شہریار قادر نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ مقامی آٹو انڈسٹری نے  ڈبلیو پی29 کے 17 ضوابط اپنا لیے ہیں، لیکن یہ معیار صرف مقامی گاڑیوں پر لاگو ہیں، درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیوں پر کوئی کوالٹی چیک نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، یہ غیر منصفانہ مقابلے کا ماحول پیدا کرتا ہے، جس سے مقامی صنعت — جو پہلے ہی بڑے مسائل سے دوچار ہے — کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق مزید  ڈبلیو پی 29 ریگولیشنز کے نفاذ کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جو مقامی مینوفیکچررز کے اخراجات میں مزید اضافہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹری اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ کاربن ٹیکس اور اب معیار کے بلند تقاضے، پالیسی سمت کو اس طرف لے جا رہے ہیں کہ انٹرنل کمبشن انجن (آئی سی ای) گاڑیوں کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا دی جائیں تاکہ ای ویز کو معاشی طور پر قابلِ عمل دکھایا جا سکے، ورنہ پاکستان جیسے ملک میں ای ویز اس وقت اتنی مہنگی ہیں کہ ان کا کاروباری جواز نہیں بنتا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بڑی او ای ایم کے جنرل مینیجر اخلاق نے کہا کہ پاکستان میں خریداری کی صلاحیت محدود ہے، زیادہ تر صارفین کم آمدنی والے ہیں اور صرف ایک چھوٹا طبقہ مہنگی گاڑیاں خرید سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گر قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا دی گئیں تو زیادہ تر آبادی مقامی نئی گاڑیوں کی مارکیٹ سے باہر ہو جائے گی۔ یہ پالیسی پاکستان کو ایک تجارتی معیشت اور دنیا بھر کی استعمال شدہ گاڑیوں کا ڈمپنگ گراؤنڈ بنا دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  اورپاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز  کے اراکین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے گی جو استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر متوازن پالیسی تیار کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق، حکومت آٹو سیکٹر کی ترقی اور برآمدات کے لیے حکمت عملی بنا رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹریکٹرز اور موٹرسائیکلوں کے بعد اب پاکستان کاریں بھی برآمد کرے گا۔ آٹو انڈسٹری نئی انڈسٹریل پالیسی کا اہم حصہ ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے کہا کہ پاکستانی آٹو مارکیٹ میں صحت مند مقابلہ بڑھ رہا ہے اور آئندہ پانچ سال میں ٹیرف بتدریج کم کیے جائیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیاں ماحولیاتی اور معیار کے تقاضوں پر پوری اترنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ٹیرف میں کمی کے معاہدے نے آٹو ایکسپورٹس کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری، خصوصاً جاپانی اسمبلرز، مبینہ طور پر حکومت کے اُس منصوبے کو روکنے کی آخری کوششیں کر رہی ہے جس کے تحت 5 سال پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دی جائے گی۔ یہ پالیسی یکم اکتوبر 2025 سے نافذ ہونے کا امکان ہے۔</strong></p>
<p>اوریجنل ایکوئپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایمز) اور آٹو پارٹس وینڈرز کے نمائندوں نے حال ہی میں مجوزہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی پالیسی اور اس کے ملکی آٹو انڈسٹری پر ممکنہ اثرات پر تفصیلی بات چیت کی۔</p>
<p>نئی درآمدی ٹیرف پالیسی سے موجودہ او ای ایمز — خاص طور پر جاپانی کمپنیوں — پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے، جبکہ چینی کمپنیوں پر اس کا دباؤ کم ہوگا کیونکہ ان کی توجہ زیادہ تر الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر ہے۔</p>
<p>انڈسٹری ذرائع کے مطابق، حکومت کو بتایا گیا کہ پاکستان کی کل نئی کار مارکیٹ کا حجم سالانہ تقریباً 2 لاکھ یونٹس ہے، جبکہ موجودہ نظام کے تحت ہر سال تقریباً 40 ہزار استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی جاتی ہیں۔</p>
<p>معروف صنعتکار ندیم ملک نے خبردار کیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں مزید نرمی سے مقامی صنعت اپنے ہی مارکیٹ تک رسائی سے محروم ہو جائے گی۔ مارکیٹ کا حجم پہلے ہی کم ہے، نئی سرمایہ کاری اور لوکلائزیشن بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔</p>
<p>پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز  کے سینئر نائب صدر شہریار قادر نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ مقامی آٹو انڈسٹری نے  ڈبلیو پی29 کے 17 ضوابط اپنا لیے ہیں، لیکن یہ معیار صرف مقامی گاڑیوں پر لاگو ہیں، درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیوں پر کوئی کوالٹی چیک نہیں ہوتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، یہ غیر منصفانہ مقابلے کا ماحول پیدا کرتا ہے، جس سے مقامی صنعت — جو پہلے ہی بڑے مسائل سے دوچار ہے — کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق مزید  ڈبلیو پی 29 ریگولیشنز کے نفاذ کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جو مقامی مینوفیکچررز کے اخراجات میں مزید اضافہ کرے گا۔</p>
<p>انڈسٹری اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ کاربن ٹیکس اور اب معیار کے بلند تقاضے، پالیسی سمت کو اس طرف لے جا رہے ہیں کہ انٹرنل کمبشن انجن (آئی سی ای) گاڑیوں کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا دی جائیں تاکہ ای ویز کو معاشی طور پر قابلِ عمل دکھایا جا سکے، ورنہ پاکستان جیسے ملک میں ای ویز اس وقت اتنی مہنگی ہیں کہ ان کا کاروباری جواز نہیں بنتا۔“</p>
<p>ایک بڑی او ای ایم کے جنرل مینیجر اخلاق نے کہا کہ پاکستان میں خریداری کی صلاحیت محدود ہے، زیادہ تر صارفین کم آمدنی والے ہیں اور صرف ایک چھوٹا طبقہ مہنگی گاڑیاں خرید سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گر قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا دی گئیں تو زیادہ تر آبادی مقامی نئی گاڑیوں کی مارکیٹ سے باہر ہو جائے گی۔ یہ پالیسی پاکستان کو ایک تجارتی معیشت اور دنیا بھر کی استعمال شدہ گاڑیوں کا ڈمپنگ گراؤنڈ بنا دے گی۔</p>
<p>وسیع مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  اورپاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز  کے اراکین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے گی جو استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر متوازن پالیسی تیار کرے گی۔</p>
<p>سرکاری بیان کے مطابق، حکومت آٹو سیکٹر کی ترقی اور برآمدات کے لیے حکمت عملی بنا رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹریکٹرز اور موٹرسائیکلوں کے بعد اب پاکستان کاریں بھی برآمد کرے گا۔ آٹو انڈسٹری نئی انڈسٹریل پالیسی کا اہم حصہ ہو گی۔</p>
<p>جام کمال نے کہا کہ پاکستانی آٹو مارکیٹ میں صحت مند مقابلہ بڑھ رہا ہے اور آئندہ پانچ سال میں ٹیرف بتدریج کم کیے جائیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیاں ماحولیاتی اور معیار کے تقاضوں پر پوری اترنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ٹیرف میں کمی کے معاہدے نے آٹو ایکسپورٹس کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275812</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Aug 2025 09:16:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/14091412d6d6d9d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="666" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/14091412d6d6d9d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
