<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی معیشت اندرونی خطرات اور بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے ’بہتر پوزیشن‘ میں ہے، اسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275807/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام کی بحالی کے باعث پاکستان آج اس پوزیشن میں ہے کہ اندرونی خطرات اور بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت دو سال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہو چکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات اسٹیٹ بینک نے بدھ کے روز جاری کی گئی اپنی پہلی ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ (ایم پی آر) میں کہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور اس کے نتیجے میں کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ ( سی ڈی ایس) اسپریڈز میں کمی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/1321520960a9805.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی میں نمایاں کمی کے پیشِ نظر اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) جون 2024 سے مئی 2025 کے دوران اپنے اجلاسوں میں پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 1,100 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد تک لے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں جون اور جولائی 2025 کے اجلاسوں میں کمیٹی نے پالیسی ریٹ برقرار رکھا اس توقع کے ساتھ کہ مالی سال 2025-26 کے دوران مہنگائی کی شرح زیادہ تر 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں مانیٹری پالیسی رپورٹ (ایم پی آر) میں کہا گیا ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں مزید بہتری کی توقع ہے کیونکہ پالیسی ریٹ میں ماضی کی کٹوتیوں کے اثرات بتدریج ظاہر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/13215209e5d8036.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک توقع کرتا ہے کہ حقیقی پالیسی شرح مثبت رہے گی جو مہنگائی کو درمیانی مدت کے ہدف 5 سے 7 فیصد کے اندر مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے اور اگرچہ مزدوروں کی ترسیلات زر میں متوقع اضافہ جاری رہے گا، اس کے باوجود مالی سال 26 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ GDP کا 0 سے 1 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ مانیٹری پالیسی رپورٹ (ایم پی آر) کو ہر سال دو مرتبہ، جنوری اور جولائی میں ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس کے دو ہفتے بعد جاری کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رپورٹ میکرو اکنامک حالات اور مستقبل کے منظرنامے کا تفصیلی اور تجزیاتی جائزہ، خطرات کا تخمینہ، اور مانیٹری پالیسی کی تشکیل میں حالیہ غور و فکر فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سرکاری مالی امداد کا بروقت حصول اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری انٹر بینک فارن ایکسچینج خریداریوں کا تسلسل، اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں معاون ہوگا، جو دسمبر 2025 تک 15.5 ارب ڈالر اور جون 2026 تک تقریباً 17 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/13215209834793a.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے حالیہ میکرو اکنامک صورتحال میں بہتری کو تسلیم کیا ہے مگر ساتھ ہی ممکنہ اندرونی اور عالمی خطرات کا بھی ذکر کیا ہے جو میکرو اکنامک منظرنامے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
غیر مستحکم بین الاقوامی اجناس کی قیمتیں، عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال اور غیر متوقع طور پر مقامی ریگولیٹڈ توانائی کی قیمتوں میں تبدیلیاں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بینک نے ساختی اصلاحات پر زور دیا ہے تاکہ مانیٹری پالیسی کی کوششوں کو تقویت دی جا سکے اور مالی سال 26 میں پائیدار بنیادوں پر 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان بلند معاشی نمو حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے حالیہ اجلاسوں میں اقتصادی ترقی اور میکرو اکنامک صورتحال پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام کی بحالی کے باعث پاکستان آج اس پوزیشن میں ہے کہ اندرونی خطرات اور بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت دو سال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہو چکی ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات اسٹیٹ بینک نے بدھ کے روز جاری کی گئی اپنی پہلی ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ (ایم پی آر) میں کہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور اس کے نتیجے میں کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ ( سی ڈی ایس) اسپریڈز میں کمی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی امید ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/1321520960a9805.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>مہنگائی میں نمایاں کمی کے پیشِ نظر اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) جون 2024 سے مئی 2025 کے دوران اپنے اجلاسوں میں پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 1,100 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد تک لے آئی ہے۔</p>
<p>بعد ازاں جون اور جولائی 2025 کے اجلاسوں میں کمیٹی نے پالیسی ریٹ برقرار رکھا اس توقع کے ساتھ کہ مالی سال 2025-26 کے دوران مہنگائی کی شرح زیادہ تر 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہے گی۔</p>
<p>اس تناظر میں مانیٹری پالیسی رپورٹ (ایم پی آر) میں کہا گیا ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں مزید بہتری کی توقع ہے کیونکہ پالیسی ریٹ میں ماضی کی کٹوتیوں کے اثرات بتدریج ظاہر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/13215209e5d8036.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>بینک توقع کرتا ہے کہ حقیقی پالیسی شرح مثبت رہے گی جو مہنگائی کو درمیانی مدت کے ہدف 5 سے 7 فیصد کے اندر مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے اور اگرچہ مزدوروں کی ترسیلات زر میں متوقع اضافہ جاری رہے گا، اس کے باوجود مالی سال 26 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ GDP کا 0 سے 1 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ مانیٹری پالیسی رپورٹ (ایم پی آر) کو ہر سال دو مرتبہ، جنوری اور جولائی میں ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس کے دو ہفتے بعد جاری کرے گا۔</p>
<p>یہ رپورٹ میکرو اکنامک حالات اور مستقبل کے منظرنامے کا تفصیلی اور تجزیاتی جائزہ، خطرات کا تخمینہ، اور مانیٹری پالیسی کی تشکیل میں حالیہ غور و فکر فراہم کرے گی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سرکاری مالی امداد کا بروقت حصول اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری انٹر بینک فارن ایکسچینج خریداریوں کا تسلسل، اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں معاون ہوگا، جو دسمبر 2025 تک 15.5 ارب ڈالر اور جون 2026 تک تقریباً 17 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/13215209834793a.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>مرکزی بینک نے حالیہ میکرو اکنامک صورتحال میں بہتری کو تسلیم کیا ہے مگر ساتھ ہی ممکنہ اندرونی اور عالمی خطرات کا بھی ذکر کیا ہے جو میکرو اکنامک منظرنامے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
غیر مستحکم بین الاقوامی اجناس کی قیمتیں، عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال اور غیر متوقع طور پر مقامی ریگولیٹڈ توانائی کی قیمتوں میں تبدیلیاں۔</p>
<p>تاہم بینک نے ساختی اصلاحات پر زور دیا ہے تاکہ مانیٹری پالیسی کی کوششوں کو تقویت دی جا سکے اور مالی سال 26 میں پائیدار بنیادوں پر 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان بلند معاشی نمو حاصل کی جا سکے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے حالیہ اجلاسوں میں اقتصادی ترقی اور میکرو اکنامک صورتحال پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275807</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Aug 2025 22:38:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/13222200e680b0a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/13222200e680b0a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
