<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقامی، غیرملکی زرمبادلہ اور سینئر اَن سیکیورڈ، موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگز سی اے اے ون تک بڑھا دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275803/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موڈیز ریٹنگز نے بدھ کے روز حکومتِ پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی جاری کنندہ اور سینئر غیر ضمانتی قرض کی ریٹنگ سی اے اے ٹو سے بڑھا کر سی اے اے ون کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ریٹنگ ایجنسی نے سینئر غیر ضمانتی ایم ٹی این پروگرام کی ریٹنگ بھی (پی)سی اے اے ٹو سے بڑھا کر ( پی)سی اے اے ون کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ اسی وقت، ہم نے حکومتِ پاکستان کے لیے آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز کے مطابق، سی اے اے ون تک اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی بیرونی مالی پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے، جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اصلاحات پر عملدرآمد میں پیش رفت سے سہارا پا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ریٹنگ ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، اگرچہ ملک بروقت سرکاری شراکت داروں کی مالی معاونت پر انحصار کرتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ اسی دوران، حکومت کا مالیاتی خسارہ بھی انتہائی کمزور سطح سے بہتر ہو رہا ہے، جسے ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ سے سہارا مل رہا ہے۔ قرض کی ادائیگی کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے، لیکن یہ اب بھی ریٹنگ والے ممالک میں سب سے کمزور ترین سطح پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے کہا کہ سی اے اے ون ریٹنگ میں ملک کی کمزور گورننس اور شدید سیاسی غیر یقینی صورتحال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، مستحکم آؤٹ لک پاکستان کے کریڈٹ پروفائل کے لیے متوازن خطرات کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے کہا کہ مثبت پہلو پر، قرض کی ادائیگی کے بوجھ اور بیرونی مالیاتی پوزیشن میں بہتری ہماری موجودہ توقعات سے زیادہ تیزی سے ہو سکتی ہے۔ منفی پہلو پر، اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر کے خطرات برقرار ہیں، جو بروقت سرکاری مالی معاونت کے حصول کے لیے ضروری ہیں، اور ایسی کسی بھی تاخیر سے پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن دوبارہ کمزور ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ایجنسی نے کہا کہ سی اے اے ٹو سے سی اے اے ون میں اپ گریڈ پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ کے بیکڈ فارن کرنسی سینئر ان سیکیورڈ ریٹنگز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ ہمارے خیال میں اس سے منسلک ادائیگی کی ذمہ داریاں براہِ راست حکومتِ پاکستان کی ذمہ داریاں ہیں۔ اسی کے ساتھ، ہم نے پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ کے آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم میں تبدیل کر دیا ہے، جو حکومتِ پاکستان کے مستحکم آؤٹ لک کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیرونی پوزیشن مستحکم ہو رہی ہے، اگرچہ صورتحال اب بھی نازک ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے نوٹ کیا کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان کی بیرونی پوزیشن میں مسلسل بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر عمل درآمد میں پیش رفت دو طرفہ اور کثیر الجہتی شراکت داروں سے فنانسنگ کو سہارا دے گی، جس کے نتیجے میں بتدریج مزید بہتری آئے گی۔ اس سے حکومت کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو گا، اگرچہ یہ اب بھی نازک سطح پر ہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹنگ ایجنسی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مالی سال 2025 (جو جون 2025 میں ختم ہوا) میں پاکستان نے اپنے تمام بیرونی قرضوں کی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کیں اور اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ اگلے چند برسوں تک پاکستان اپنے بیرونی قرضوں کی تمام ذمہ داریاں پوری طرح ادا کرے گا، بشرطیکہ اصلاحات پر عمل درآمد میں مسلسل پیش رفت ہو اور آئی ایم ایف کے جائزے بروقت مکمل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت تقریباً 1.4 ارب ڈالر کے 28 ماہ کے معاہدے اور مالی سال 2026 تا 2035 کے لیے ورلڈ بینک کے ساتھ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک، جس کے تحت 20 ارب ڈالر کی متوقع فنانسنگ دستیاب ہوگی، کے ذریعے فنانسنگ کے نئے ذرائع کھول لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے باوجود پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن نازک بنی ہوئی ہے۔ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی اس سطح سے کہیں کم ہیں جو بیرونی قرضوں کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے درکار ہیں، جو آئی ایم ایف پروگرام میں مسلسل پیش رفت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ فنانسنگ کے ذرائع مسلسل دستیاب رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ہم اندازہ لگاتے ہیں کہ پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت مالی سال 2026 میں تقریباً 24 تا 25 ارب ڈالر ہوگی، اور مالی سال 2027 میں بھی تقریباً اتنی ہی ضرورت پیش آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی پوزیشن میں بہتری کے باوجود قرض کی ادائیگی کی سکت اب بھی کمزور&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے کہا ہے کہ پاکستان کی مالی پوزیشن انتہائی کمزور سطح سے بہتر ہوئی ہے، جو ریونیو بڑھانے کے اقدامات میں پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔ بجٹ خسارے کم ہو رہے ہیں اور پرائمری سرپلس بڑھ رہا ہے۔ حکومت کی قرض کی ادائیگی کی صلاحیت بھی بہتر ہو رہی ہے، اگرچہ یہ اب بھی ہمارے ریٹنگ یافتہ خودمختار ممالک میں سب سے کمزور میں شمار ہوتی ہے۔
موڈیز نے اعتراف کیا کہ حکومت نے بہتر نفاذ اور نئے ٹیکس اقدامات کے امتزاج کے ذریعے اپنی ریونیو کلیکشن کو مضبوط کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق حکومتی ریونیو مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے تقریباً 16 فیصد تک پہنچ گیا جو مالی سال 2024 میں 12.6 فیصد تھا، جس کی بنیادی وجہ ٹیکس ریونیو میں بڑے اضافے کی تھی، جو جی ڈی پی کے تقریباً 2 فیصد پوائنٹس کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت کی نان ٹیکس آمدنی میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے ایک غیر معمولی یکبارگی ڈویڈنڈ کی وصولی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ حکومت ریونیو ایڈمنسٹریشن اور ٹیکس کمپلائنس کو بہتر بنانے کے اقدامات جاری رکھے گی، ساتھ ہی نئے ٹیکس اقدامات بھی متعارف کرائے گی… ہم اندازہ لگاتے ہیں کہ مالی سال 2026 میں ٹیکس ریونیو میں جی ڈی پی کے مزید 0.5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوگا۔ تاہم، اسٹیٹ بینک کے ڈویڈنڈ میں کمی کی وجہ سے مجموعی حکومتی ریونیو گھٹ کر جی ڈی پی کے تقریباً 15 تا 15.5 فیصد تک آنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، موڈیز کو توقع ہے کہ حکومتی اخراجات قابو میں رہیں گے، حالانکہ بجٹ میں دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر، ہم توقع کرتے ہیں کہ مالی سال 2026 میں مالی خسارہ مزید کم ہو کر جی ڈی پی کے 4.5 تا 5 فیصد تک آ جائے گا (مالی سال 2025 میں 5.4 فیصد رہا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے کہا کہ اسی وقت، ہم توقع کرتے ہیں کہ مالی سال 27-2026 میں حکومتی ریونیو کا تقریباً 40 تا 45 فیصد حصہ سود کی ادائیگی میں صرف ہوگا، جو مالی سال 2024 کے تقریباً 60 فیصد سے خاصی کمی ہے، لیکن عالمی پیمانے پر اب بھی بہت زیادہ ہے اور ایک اہم کریڈٹ رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریٹنگ کے خدشات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے خبردار کیا ہے کہ اصلاحات کے نفاذ یا ان کے نتائج میں کسی قسم کی سستی یا رکاوٹ کا خطرہ موجود ہے، جو سرکاری شراکت داروں کی جانب سے مالی معاونت میں تاخیر یا اس کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے ریاست کی بیرونی مالی پوزیشن میں ایک بار پھر نمایاں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے نشاندہی کی کہ ماضی کے کئی آئی ایم ایف پروگرام مکمل نہیں ہو سکے، جس کی ایک وجہ کمزور طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی کمزوری تھی، جسے پیچیدہ مقامی سیاسی حالات نے مزید مشکل بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مطابق، فروری 2024 کے انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی موجودہ حکومت کو یہ بڑا چیلنج درپیش ہے کہ وہ آمدنی بڑھانے کے اقدامات مسلسل نافذ کرے اور اس عمل میں سماجی بے چینی کو ہوا نہ دے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>موڈیز ریٹنگز نے بدھ کے روز حکومتِ پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی جاری کنندہ اور سینئر غیر ضمانتی قرض کی ریٹنگ سی اے اے ٹو سے بڑھا کر سی اے اے ون کر دی۔</strong></p>
<p>عالمی ریٹنگ ایجنسی نے سینئر غیر ضمانتی ایم ٹی این پروگرام کی ریٹنگ بھی (پی)سی اے اے ٹو سے بڑھا کر ( پی)سی اے اے ون کر دی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ اسی وقت، ہم نے حکومتِ پاکستان کے لیے آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم کر دیا ہے۔</p>
<p>موڈیز کے مطابق، سی اے اے ون تک اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی بیرونی مالی پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے، جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اصلاحات پر عملدرآمد میں پیش رفت سے سہارا پا رہی ہے۔</p>
<p>عالمی ریٹنگ ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، اگرچہ ملک بروقت سرکاری شراکت داروں کی مالی معاونت پر انحصار کرتا رہے گا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ اسی دوران، حکومت کا مالیاتی خسارہ بھی انتہائی کمزور سطح سے بہتر ہو رہا ہے، جسے ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ سے سہارا مل رہا ہے۔ قرض کی ادائیگی کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے، لیکن یہ اب بھی ریٹنگ والے ممالک میں سب سے کمزور ترین سطح پر ہے۔</p>
<p>موڈیز نے کہا کہ سی اے اے ون ریٹنگ میں ملک کی کمزور گورننس اور شدید سیاسی غیر یقینی صورتحال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق، مستحکم آؤٹ لک پاکستان کے کریڈٹ پروفائل کے لیے متوازن خطرات کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>موڈیز نے کہا کہ مثبت پہلو پر، قرض کی ادائیگی کے بوجھ اور بیرونی مالیاتی پوزیشن میں بہتری ہماری موجودہ توقعات سے زیادہ تیزی سے ہو سکتی ہے۔ منفی پہلو پر، اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر کے خطرات برقرار ہیں، جو بروقت سرکاری مالی معاونت کے حصول کے لیے ضروری ہیں، اور ایسی کسی بھی تاخیر سے پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن دوبارہ کمزور ہو سکتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، ایجنسی نے کہا کہ سی اے اے ٹو سے سی اے اے ون میں اپ گریڈ پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ کے بیکڈ فارن کرنسی سینئر ان سیکیورڈ ریٹنگز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔</p>
<p>کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ ہمارے خیال میں اس سے منسلک ادائیگی کی ذمہ داریاں براہِ راست حکومتِ پاکستان کی ذمہ داریاں ہیں۔ اسی کے ساتھ، ہم نے پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ کے آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم میں تبدیل کر دیا ہے، جو حکومتِ پاکستان کے مستحکم آؤٹ لک کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p><strong>بیرونی پوزیشن مستحکم ہو رہی ہے، اگرچہ صورتحال اب بھی نازک ہے</strong></p>
<p>موڈیز نے نوٹ کیا کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان کی بیرونی پوزیشن میں مسلسل بہتری آئی ہے۔</p>
<p>ایجنسی نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر عمل درآمد میں پیش رفت دو طرفہ اور کثیر الجہتی شراکت داروں سے فنانسنگ کو سہارا دے گی، جس کے نتیجے میں بتدریج مزید بہتری آئے گی۔ اس سے حکومت کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو گا، اگرچہ یہ اب بھی نازک سطح پر ہی ہے۔</p>
<p>ریٹنگ ایجنسی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مالی سال 2025 (جو جون 2025 میں ختم ہوا) میں پاکستان نے اپنے تمام بیرونی قرضوں کی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کیں اور اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بھی کیا۔</p>
<p>موڈیز نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ اگلے چند برسوں تک پاکستان اپنے بیرونی قرضوں کی تمام ذمہ داریاں پوری طرح ادا کرے گا، بشرطیکہ اصلاحات پر عمل درآمد میں مسلسل پیش رفت ہو اور آئی ایم ایف کے جائزے بروقت مکمل ہوں۔</p>
<p>امریکی ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت تقریباً 1.4 ارب ڈالر کے 28 ماہ کے معاہدے اور مالی سال 2026 تا 2035 کے لیے ورلڈ بینک کے ساتھ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک، جس کے تحت 20 ارب ڈالر کی متوقع فنانسنگ دستیاب ہوگی، کے ذریعے فنانسنگ کے نئے ذرائع کھول لیے ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے باوجود پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن نازک بنی ہوئی ہے۔ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی اس سطح سے کہیں کم ہیں جو بیرونی قرضوں کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے درکار ہیں، جو آئی ایم ایف پروگرام میں مسلسل پیش رفت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ فنانسنگ کے ذرائع مسلسل دستیاب رہیں۔</p>
<p>بیان کے مطابق ہم اندازہ لگاتے ہیں کہ پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت مالی سال 2026 میں تقریباً 24 تا 25 ارب ڈالر ہوگی، اور مالی سال 2027 میں بھی تقریباً اتنی ہی ضرورت پیش آئے گی۔</p>
<p><strong>مالی پوزیشن میں بہتری کے باوجود قرض کی ادائیگی کی سکت اب بھی کمزور</strong></p>
<p>موڈیز نے کہا ہے کہ پاکستان کی مالی پوزیشن انتہائی کمزور سطح سے بہتر ہوئی ہے، جو ریونیو بڑھانے کے اقدامات میں پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔ بجٹ خسارے کم ہو رہے ہیں اور پرائمری سرپلس بڑھ رہا ہے۔ حکومت کی قرض کی ادائیگی کی صلاحیت بھی بہتر ہو رہی ہے، اگرچہ یہ اب بھی ہمارے ریٹنگ یافتہ خودمختار ممالک میں سب سے کمزور میں شمار ہوتی ہے۔
موڈیز نے اعتراف کیا کہ حکومت نے بہتر نفاذ اور نئے ٹیکس اقدامات کے امتزاج کے ذریعے اپنی ریونیو کلیکشن کو مضبوط کیا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق حکومتی ریونیو مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے تقریباً 16 فیصد تک پہنچ گیا جو مالی سال 2024 میں 12.6 فیصد تھا، جس کی بنیادی وجہ ٹیکس ریونیو میں بڑے اضافے کی تھی، جو جی ڈی پی کے تقریباً 2 فیصد پوائنٹس کے برابر ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت کی نان ٹیکس آمدنی میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے ایک غیر معمولی یکبارگی ڈویڈنڈ کی وصولی ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ حکومت ریونیو ایڈمنسٹریشن اور ٹیکس کمپلائنس کو بہتر بنانے کے اقدامات جاری رکھے گی، ساتھ ہی نئے ٹیکس اقدامات بھی متعارف کرائے گی… ہم اندازہ لگاتے ہیں کہ مالی سال 2026 میں ٹیکس ریونیو میں جی ڈی پی کے مزید 0.5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوگا۔ تاہم، اسٹیٹ بینک کے ڈویڈنڈ میں کمی کی وجہ سے مجموعی حکومتی ریونیو گھٹ کر جی ڈی پی کے تقریباً 15 تا 15.5 فیصد تک آنے کا امکان ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، موڈیز کو توقع ہے کہ حکومتی اخراجات قابو میں رہیں گے، حالانکہ بجٹ میں دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر، ہم توقع کرتے ہیں کہ مالی سال 2026 میں مالی خسارہ مزید کم ہو کر جی ڈی پی کے 4.5 تا 5 فیصد تک آ جائے گا (مالی سال 2025 میں 5.4 فیصد رہا)۔</p>
<p>موڈیز نے کہا کہ اسی وقت، ہم توقع کرتے ہیں کہ مالی سال 27-2026 میں حکومتی ریونیو کا تقریباً 40 تا 45 فیصد حصہ سود کی ادائیگی میں صرف ہوگا، جو مالی سال 2024 کے تقریباً 60 فیصد سے خاصی کمی ہے، لیکن عالمی پیمانے پر اب بھی بہت زیادہ ہے اور ایک اہم کریڈٹ رکاوٹ ہے۔</p>
<p><strong>ریٹنگ کے خدشات</strong></p>
<p>موڈیز نے خبردار کیا ہے کہ اصلاحات کے نفاذ یا ان کے نتائج میں کسی قسم کی سستی یا رکاوٹ کا خطرہ موجود ہے، جو سرکاری شراکت داروں کی جانب سے مالی معاونت میں تاخیر یا اس کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے ریاست کی بیرونی مالی پوزیشن میں ایک بار پھر نمایاں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>موڈیز نے نشاندہی کی کہ ماضی کے کئی آئی ایم ایف پروگرام مکمل نہیں ہو سکے، جس کی ایک وجہ کمزور طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی کمزوری تھی، جسے پیچیدہ مقامی سیاسی حالات نے مزید مشکل بنا دیا۔</p>
<p>اس کے مطابق، فروری 2024 کے انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی موجودہ حکومت کو یہ بڑا چیلنج درپیش ہے کہ وہ آمدنی بڑھانے کے اقدامات مسلسل نافذ کرے اور اس عمل میں سماجی بے چینی کو ہوا نہ دے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275803</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Aug 2025 09:00:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/140900403e679b3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/140900403e679b3.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
