<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرِخزانہ شرح سود میں کمی کے حوالے سے پرامید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275799/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِخزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) میں پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی اور مرکزِ حق کی تقریبات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس سال کے آخر میں ممکنہ پالیسی ریٹ میں کمی کے اشارے دیے اور سست ہوتی ہوئی مہنگائی اور مستحکم معاشی اشاروں کا حوالہ دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتا ہوں کہ پالیسی ریٹ اور مارکیٹ پر مبنی تبادلہ ریٹ مکمل طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان  اور مانیٹری پالیسی کمیٹی  کے دائرہ کار میں رہیں۔ اس کے باوجود بنیادی اور اوسط مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے میری ذاتی رائے ہے کہ پالیسی ریٹ کے حوالے سے مزید اقدامات کے لیے گنجائش موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ میں پُرامید ہوں کہ رواں کیلنڈر سال کے دوران ہم پالیسی ریٹ میں کمی کی سمت میں پیش رفت دیکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جو مارکیٹ کی توقعات کے برعکس تھا، کیونکہ مارکیٹ نے تقریباً 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اس وقت نوٹ کیا کہ جون 2025 میں مہنگائی سالانہ بنیاد پر 3.2 فیصد تک سست ہوئی جس کی بنیادی وجہ خوراک کی کم ہوتی ہوئی قیمتیں تھیں جبکہ بنیادی مہنگائی میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب کے دوران وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے حکومت کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس اینڈ پی اور فچ نے ہمیں پہلے ہی اپ گریڈ کر دیا ہے، اور  میں  پُرامید ہوں کہ جلد ہی تیسری ایجنسی موڈیز بھی ہمیں اپ گریڈ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے تجارتی ترقی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ہونے والا معاہدہ فائدہ اٹھانے کے لیے ایک شاندار موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا ماننا ہے کہ پاکستانی برآمد کنندگان امریکی مارکیٹ میں نمایاں مسابقتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ حکومت نے باہمی محصولات کی شرح 29 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ خطے میں سب سے کم محصول کی شرح ہے اور پاکستان کی امریکی برآمدات بڑھانے کے لیے ایک بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وفاقی وزیرِ خزانہ نے اپنی حکومت کی اقتصادی کارکردگی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں معیشت کا حجم اور کل آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، مالیاتی شعبے میں استحکام قائم ہے، مالیاتی خسارے اور مہنگائی میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے، موجودہ کھاتہ سرپلس میں ہے اور ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام ایک دوسرے کے لیے لازمی ہیں اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ہم نے اقتصادی محاذ پر مضبوط پیش رفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلے سال حکومت نے اپنے قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 1 کھرب روپے کی کمی کی تھی اور موجودہ مالی سال میں بھی حکومت اس کارکردگی کو دہرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو  میں تبدیلی کا عمل جاری ہے اور ٹیکسیشن کو علاقائی طور پر مسابقتی سطح تک لانا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِخزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) میں پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی اور مرکزِ حق کی تقریبات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس سال کے آخر میں ممکنہ پالیسی ریٹ میں کمی کے اشارے دیے اور سست ہوتی ہوئی مہنگائی اور مستحکم معاشی اشاروں کا حوالہ دیا۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتا ہوں کہ پالیسی ریٹ اور مارکیٹ پر مبنی تبادلہ ریٹ مکمل طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان  اور مانیٹری پالیسی کمیٹی  کے دائرہ کار میں رہیں۔ اس کے باوجود بنیادی اور اوسط مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے میری ذاتی رائے ہے کہ پالیسی ریٹ کے حوالے سے مزید اقدامات کے لیے گنجائش موجود ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ میں پُرامید ہوں کہ رواں کیلنڈر سال کے دوران ہم پالیسی ریٹ میں کمی کی سمت میں پیش رفت دیکھیں گے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جو مارکیٹ کی توقعات کے برعکس تھا، کیونکہ مارکیٹ نے تقریباً 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کی تھی۔</p>
<p>کمیٹی نے اس وقت نوٹ کیا کہ جون 2025 میں مہنگائی سالانہ بنیاد پر 3.2 فیصد تک سست ہوئی جس کی بنیادی وجہ خوراک کی کم ہوتی ہوئی قیمتیں تھیں جبکہ بنیادی مہنگائی میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>اپنے خطاب کے دوران وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے حکومت کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس اینڈ پی اور فچ نے ہمیں پہلے ہی اپ گریڈ کر دیا ہے، اور  میں  پُرامید ہوں کہ جلد ہی تیسری ایجنسی موڈیز بھی ہمیں اپ گریڈ کرے گی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے تجارتی ترقی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ہونے والا معاہدہ فائدہ اٹھانے کے لیے ایک شاندار موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>حکومت کا ماننا ہے کہ پاکستانی برآمد کنندگان امریکی مارکیٹ میں نمایاں مسابقتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ حکومت نے باہمی محصولات کی شرح 29 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ خطے میں سب سے کم محصول کی شرح ہے اور پاکستان کی امریکی برآمدات بڑھانے کے لیے ایک بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا وفاقی وزیرِ خزانہ نے اپنی حکومت کی اقتصادی کارکردگی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں معیشت کا حجم اور کل آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، مالیاتی شعبے میں استحکام قائم ہے، مالیاتی خسارے اور مہنگائی میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے، موجودہ کھاتہ سرپلس میں ہے اور ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام ایک دوسرے کے لیے لازمی ہیں اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ہم نے اقتصادی محاذ پر مضبوط پیش رفت کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلے سال حکومت نے اپنے قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 1 کھرب روپے کی کمی کی تھی اور موجودہ مالی سال میں بھی حکومت اس کارکردگی کو دہرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو  میں تبدیلی کا عمل جاری ہے اور ٹیکسیشن کو علاقائی طور پر مسابقتی سطح تک لانا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275799</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Aug 2025 13:24:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/131323542f0a1ed.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="668" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/131323542f0a1ed.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
