<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی برآمدکنندگان امریکی منڈی میں نمایاں مسابقتی برتری حاصل کرنے کیلئے تیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275770/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے برآمدکنندگان امریکی منڈی میں نمایاں مسابقتی برتری حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ حکومت نے باہمی ٹیرف میں کمی کے لیے کامیاب مذاکرات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں شرح 29 فیصد سے گھٹ کر 19 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ خطے میں سب سے کم ٹیرف شرح ہے اور امریکہ کو برآمدات میں اضافے کا ایک بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت امریکی  ٹیرف سے متعلق ایک اجلاس میں زیر بحث آئی، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل، سیکریٹری تجارت جواد پال، کامرس ڈویژن اور صنعت و پیداوار ڈویژن کے سینئر حکام کے علاوہ ملبوسات و ٹیکسٹائل، چاول، نمک، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، الیکٹرانکس، خوراک و زراعت، چمڑے اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد نمایاں برآمدکنندگان اور ایس ایم ایز نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی رہنماؤں نے ٹیرف میں کمی کو پاکستان کی حالیہ برسوں کی سب سے اسٹریٹجک تجارتی کامیابی قرار دیا، خاص طور پر خطے کے حریف ممالک کے مقابلے میں ٹیرف کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق برآمدکنندگان کی طرف سے ملنے والا فیڈ بیک آئندہ اقدامات کی رہنمائی کرے گا تاکہ اس پیشرفت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ انہوں نے اس کامیابی کے لیے وزیرِ خزانہ، سیکریٹری تجارت اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے جامع حکمت عملی تیار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاونِ خصوصی ہارون اختر نے پاکستان کی بہتر علاقائی پوزیشن کو اجاگر کرتے ہوئے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صنعتوں کو نئے تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں بھرپور مدد فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدکنندگان نے حکومت کی تجارتی سفارت کاری کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے پالیسی کے تسلسل، پیداواری لاگت میں کمی اور بنیادی خام مال تک رسائی کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ ابھرنے والے مواقع سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ تجارت نے حکومت کے برآمدات پر مبنی ترقیاتی ماڈل کے عزم کو دہراتے ہوئے قلیل مدتی ریلیف اقدامات اور طویل المدتی حکمت عملی دونوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی تمام سفارشات وزیرِاعظم کو ارسال کی جائیں گی۔ اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ امریکہ کی منڈی میں پاکستان کے برآمدی فٹ پرنٹ کو وسعت دے کر اس پیشرفت کو طویل المدتی قومی فائدے میں بدلا جائے گا تاکہ معاشی و سماجی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، پارلیمنٹ ہاؤس میں قائمہ کمیٹی برائے تجارت میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جام کمال نے کہا کہ انہوں نے امریکی ٹیرف میں کمی کے بعد برآمدکنندگان کے لیے مواقع پر بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ بلوچستان کے لیے بھی ایک اچھا موقع ہوگا کیونکہ صوبے میں قدرتی وسائل کے ذخائر موجود ہیں جو صوبے کی مالی حالت کو بہتر بنائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کے اعلان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیرِ تجارت نے کہا کہ پاکستان نے اس دہشت گرد تنظیم کی نشاندہی برسوں پہلے کر دی تھی اور اب دنیا پاکستان کے بلوچستان میں بھارت کے تخریبی کردار کے مؤقف کو تسلیم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سیاست دانوں سے صوبے کی صحیح نمائندگی میں غلطیاں ہوئی ہیں۔ بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے دہشت گردی کو بطور ذریعہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کی پسماندگی اور محرومی کا ازالہ دہشت گردی سے نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے وفاقی ادارے چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو سیاسی کردار دیا جائے۔ جام کمال نے کہا کہ ریاست بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار، معیشت اور کاروبار میں شراکت دار بنانا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے برآمدکنندگان امریکی منڈی میں نمایاں مسابقتی برتری حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ حکومت نے باہمی ٹیرف میں کمی کے لیے کامیاب مذاکرات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں شرح 29 فیصد سے گھٹ کر 19 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ خطے میں سب سے کم ٹیرف شرح ہے اور امریکہ کو برآمدات میں اضافے کا ایک بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت امریکی  ٹیرف سے متعلق ایک اجلاس میں زیر بحث آئی، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کی۔</p>
<p>اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل، سیکریٹری تجارت جواد پال، کامرس ڈویژن اور صنعت و پیداوار ڈویژن کے سینئر حکام کے علاوہ ملبوسات و ٹیکسٹائل، چاول، نمک، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، الیکٹرانکس، خوراک و زراعت، چمڑے اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد نمایاں برآمدکنندگان اور ایس ایم ایز نے شرکت کی۔</p>
<p>صنعتی رہنماؤں نے ٹیرف میں کمی کو پاکستان کی حالیہ برسوں کی سب سے اسٹریٹجک تجارتی کامیابی قرار دیا، خاص طور پر خطے کے حریف ممالک کے مقابلے میں ٹیرف کم ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق برآمدکنندگان کی طرف سے ملنے والا فیڈ بیک آئندہ اقدامات کی رہنمائی کرے گا تاکہ اس پیشرفت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ انہوں نے اس کامیابی کے لیے وزیرِ خزانہ، سیکریٹری تجارت اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے جامع حکمت عملی تیار کی۔</p>
<p>معاونِ خصوصی ہارون اختر نے پاکستان کی بہتر علاقائی پوزیشن کو اجاگر کرتے ہوئے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صنعتوں کو نئے تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں بھرپور مدد فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>برآمدکنندگان نے حکومت کی تجارتی سفارت کاری کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے پالیسی کے تسلسل، پیداواری لاگت میں کمی اور بنیادی خام مال تک رسائی کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ ابھرنے والے مواقع سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔</p>
<p>وزیرِ تجارت نے حکومت کے برآمدات پر مبنی ترقیاتی ماڈل کے عزم کو دہراتے ہوئے قلیل مدتی ریلیف اقدامات اور طویل المدتی حکمت عملی دونوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی تمام سفارشات وزیرِاعظم کو ارسال کی جائیں گی۔ اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ امریکہ کی منڈی میں پاکستان کے برآمدی فٹ پرنٹ کو وسعت دے کر اس پیشرفت کو طویل المدتی قومی فائدے میں بدلا جائے گا تاکہ معاشی و سماجی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>دریں اثنا، پارلیمنٹ ہاؤس میں قائمہ کمیٹی برائے تجارت میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جام کمال نے کہا کہ انہوں نے امریکی ٹیرف میں کمی کے بعد برآمدکنندگان کے لیے مواقع پر بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ بلوچستان کے لیے بھی ایک اچھا موقع ہوگا کیونکہ صوبے میں قدرتی وسائل کے ذخائر موجود ہیں جو صوبے کی مالی حالت کو بہتر بنائیں گے۔</p>
<p>بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کے اعلان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیرِ تجارت نے کہا کہ پاکستان نے اس دہشت گرد تنظیم کی نشاندہی برسوں پہلے کر دی تھی اور اب دنیا پاکستان کے بلوچستان میں بھارت کے تخریبی کردار کے مؤقف کو تسلیم کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سیاست دانوں سے صوبے کی صحیح نمائندگی میں غلطیاں ہوئی ہیں۔ بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے دہشت گردی کو بطور ذریعہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>بلوچستان کی پسماندگی اور محرومی کا ازالہ دہشت گردی سے نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے وفاقی ادارے چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو سیاسی کردار دیا جائے۔ جام کمال نے کہا کہ ریاست بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار، معیشت اور کاروبار میں شراکت دار بنانا چاہتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275770</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Aug 2025 08:42:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/130841112988196.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/130841112988196.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
