<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ تباہی کے دہانے پر، واپسی ناممکن، یورپی یونین کے 1500 سے زائد اہلکاروں کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275769/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپی یونین کے 1,500 سے زائد سرکاری اہلکاروں نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لائن اور خارجہ امور کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس کے نام ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران تیزی سے اُس مقام کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں اور ”وقت ختم ہوتا جا رہا ہے“۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خط، جو یورپی یونین اسٹاف فار پیس کے پلیٹ فارم سے جاری کیا گیا، بزنس ریکارڈ کے پاس دستیاب ہے، اور اس میں یورپی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غزہ کا محاصرہ روکنے میں اپنی اخلاقی اور سیاسی ناکامی کا اعتراف اور فوری اقدامات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں تاریخی مثالیں اور شماریاتی ماڈلنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر فوری اور بڑے پیمانے پر امداد بحال نہ کی گئی تو غزہ میں آئندہ چند ہفتوں میں روزانہ 100 سے زائد افراد، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہو سکتی ہے، بھوک کے باعث موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی اہلکاروں نے لکھا ہے کہ قحط کبھی بھی سیدھی لکیر میں نہیں بڑھتا۔ ایک مخصوص حد پار کرنے کے بعد اموات کی شرح تیزی سے بڑھ سکتی ہے، جو روزانہ دگنی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے غزہ کے بحران کا موازنہ ہولودومور اور چینی قحط عظیم جیسے تاریخی سانحات سے کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کے 1500 سے زائد اہلکاروں نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لائن اور اعلیٰ خارجہ نمائندہ کایا کالاس کو شدید احتجاجی خط لکھا ہے، جس میں غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کو ”واپسی کے تباہ کن مقام“ سے قریب تر قرار دیتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں خوراک، بچوں کے لیے دودھ  اور طبی امداد کی ترسیل کو روک کر انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ اہلکاروں نے اس صورتحال کو یورپی یونین کے لیے ”اخلاقی اور اصولی اعتبار سے ایک کڑا امتحان“ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا گیا کہ اس کی ناقص حکمتِ عملی کے باعث مئی 2024 سے اب تک تقریباً ایک ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ بعض رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ امدادی مراکز کے قریب شہریوں پر اسرائیلی فوج اور جی ایچ ایف کے ٹھیکیداروں کی فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں فوری مطالبہ کیا گیا کہ غزہ کے تمام زمینی راستے فوری طور پر کھولے جائیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بحری جہازوں کو رسائی دی جائے، اسرائیلی رہنماؤں پر ہدفی پابندیاں عائد کی جائیں اوراسرائیل سے سفارتی تعلقات معطل کیے جائیں۔ یورپی یونین کے تعاون اور تحقیقاتی پروگرامز (این ڈی آئی سی آئی- سی ای اور ہوریزان یورپ) میں اسرائیلی اداروں کی شمولیت فوری بند کی جائے، غزہ کے سمندری گیس ذخائر کی مبینہ لوٹ مار کی تحقیقات کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات محض علامتی نہیں، بلکہ یہ یورپی یونین کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ عالمی قانون اور انسانی حقوق سے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یورپی یونین کے وہ اہلکار جو اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہیں، انہیں منصوبوں سے ہٹایا جا رہا ہے، تقریبات منسوخ کی جا رہی ہیں اور ان پر ”یہود دشمنی“ جیسے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک واقعے میں، ”نسل کشی کے خلاف آواز بلند کرو“ کے نعرے والے ٹی شرٹ پہننے والے 7 اہلکاروں کو یورپی کونسل کی کینٹین سے زبردستی نکالا گیا، جس دوران ایک اہلکار کا بازو مروڑا گیا اور ایک سے ویڈیو ڈیلیٹ کروا کر فون کا ٹریش فولڈر بھی خالی کرایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں مزید ان مظاہرین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے سلسلے کا ذکر کیا گیا جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، جن میں ملازمت کے معاہدوں کی تجدید نہ کرنا اور استعفے کے لیے دباؤ ڈالنا شامل ہے۔ اس میں ایک اندرونی فلسطین نواز سروے پر پابندی کے غیر واضح فیصلے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جسے 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں 1,514 ملازمین نے مکمل کیا تھا۔ اس کے علاوہ، خط میں 25 جون کو یورپی کمیشن کے ہیڈکوارٹر کے عملے کے داخلی دروازے پر اسرائیلی کرنل موشے ٹیٹرو کی موجودگی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن پر برسلز میں قائم ہند رجب فاؤنڈیشن کی جانب سے جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے اختتامی بیان میں ”یورپی عملہ برائے امن“ نے یورپی یونین کی نوبیل امن انعام یافتہ حیثیت کو یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین بالآخر انسانی حقوق کے احترام اور بین الاقوامی و انسانی قوانین کے نفاذ کی وکالت کر کے نوبیل امن انعام یافتہ ہونے کا وقار دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کے ترجمان سے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں لیا جا سکا۔ تاہم، بعض رپورٹس کے مطابق ترجمان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی رکن ممالک طے کرتے ہیں اور ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کی ترجمان اریانا پوڈیسٹا نے اسرائیل سے تعلقات منقطع نہ کرنے کے فیصلے پر اندرونی مخالفت کو سیاسی نوعیت کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عملے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں اور فرائض غیر جانبداری، وفاداری اور غیرسیاسی انداز میں انجام دیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپی یونین کے 1,500 سے زائد سرکاری اہلکاروں نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لائن اور خارجہ امور کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس کے نام ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران تیزی سے اُس مقام کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں اور ”وقت ختم ہوتا جا رہا ہے“۔</strong></p>
<p>یہ خط، جو یورپی یونین اسٹاف فار پیس کے پلیٹ فارم سے جاری کیا گیا، بزنس ریکارڈ کے پاس دستیاب ہے، اور اس میں یورپی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غزہ کا محاصرہ روکنے میں اپنی اخلاقی اور سیاسی ناکامی کا اعتراف اور فوری اقدامات کریں۔</p>
<p>خط میں تاریخی مثالیں اور شماریاتی ماڈلنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر فوری اور بڑے پیمانے پر امداد بحال نہ کی گئی تو غزہ میں آئندہ چند ہفتوں میں روزانہ 100 سے زائد افراد، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہو سکتی ہے، بھوک کے باعث موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>یورپی اہلکاروں نے لکھا ہے کہ قحط کبھی بھی سیدھی لکیر میں نہیں بڑھتا۔ ایک مخصوص حد پار کرنے کے بعد اموات کی شرح تیزی سے بڑھ سکتی ہے، جو روزانہ دگنی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے غزہ کے بحران کا موازنہ ہولودومور اور چینی قحط عظیم جیسے تاریخی سانحات سے کیا ہے۔</p>
<p>یورپی یونین کے 1500 سے زائد اہلکاروں نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لائن اور اعلیٰ خارجہ نمائندہ کایا کالاس کو شدید احتجاجی خط لکھا ہے، جس میں غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کو ”واپسی کے تباہ کن مقام“ سے قریب تر قرار دیتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>خط میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں خوراک، بچوں کے لیے دودھ  اور طبی امداد کی ترسیل کو روک کر انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ اہلکاروں نے اس صورتحال کو یورپی یونین کے لیے ”اخلاقی اور اصولی اعتبار سے ایک کڑا امتحان“ قرار دیا ہے۔</p>
<p>خط میں غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا گیا کہ اس کی ناقص حکمتِ عملی کے باعث مئی 2024 سے اب تک تقریباً ایک ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ بعض رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ امدادی مراکز کے قریب شہریوں پر اسرائیلی فوج اور جی ایچ ایف کے ٹھیکیداروں کی فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔</p>
<p>خط میں فوری مطالبہ کیا گیا کہ غزہ کے تمام زمینی راستے فوری طور پر کھولے جائیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بحری جہازوں کو رسائی دی جائے، اسرائیلی رہنماؤں پر ہدفی پابندیاں عائد کی جائیں اوراسرائیل سے سفارتی تعلقات معطل کیے جائیں۔ یورپی یونین کے تعاون اور تحقیقاتی پروگرامز (این ڈی آئی سی آئی- سی ای اور ہوریزان یورپ) میں اسرائیلی اداروں کی شمولیت فوری بند کی جائے، غزہ کے سمندری گیس ذخائر کی مبینہ لوٹ مار کی تحقیقات کی جائیں۔</p>
<p>خط میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات محض علامتی نہیں، بلکہ یہ یورپی یونین کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ عالمی قانون اور انسانی حقوق سے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کر سکے۔</p>
<p>خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یورپی یونین کے وہ اہلکار جو اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہیں، انہیں منصوبوں سے ہٹایا جا رہا ہے، تقریبات منسوخ کی جا رہی ہیں اور ان پر ”یہود دشمنی“ جیسے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ایک واقعے میں، ”نسل کشی کے خلاف آواز بلند کرو“ کے نعرے والے ٹی شرٹ پہننے والے 7 اہلکاروں کو یورپی کونسل کی کینٹین سے زبردستی نکالا گیا، جس دوران ایک اہلکار کا بازو مروڑا گیا اور ایک سے ویڈیو ڈیلیٹ کروا کر فون کا ٹریش فولڈر بھی خالی کرایا گیا۔</p>
<p>خط میں مزید ان مظاہرین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے سلسلے کا ذکر کیا گیا جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، جن میں ملازمت کے معاہدوں کی تجدید نہ کرنا اور استعفے کے لیے دباؤ ڈالنا شامل ہے۔ اس میں ایک اندرونی فلسطین نواز سروے پر پابندی کے غیر واضح فیصلے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جسے 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں 1,514 ملازمین نے مکمل کیا تھا۔ اس کے علاوہ، خط میں 25 جون کو یورپی کمیشن کے ہیڈکوارٹر کے عملے کے داخلی دروازے پر اسرائیلی کرنل موشے ٹیٹرو کی موجودگی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن پر برسلز میں قائم ہند رجب فاؤنڈیشن کی جانب سے جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔</p>
<p>اپنے اختتامی بیان میں ”یورپی عملہ برائے امن“ نے یورپی یونین کی نوبیل امن انعام یافتہ حیثیت کو یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین بالآخر انسانی حقوق کے احترام اور بین الاقوامی و انسانی قوانین کے نفاذ کی وکالت کر کے نوبیل امن انعام یافتہ ہونے کا وقار دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔</p>
<p>یورپی یونین کے ترجمان سے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں لیا جا سکا۔ تاہم، بعض رپورٹس کے مطابق ترجمان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی رکن ممالک طے کرتے ہیں اور ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p>یورپی یونین کی ترجمان اریانا پوڈیسٹا نے اسرائیل سے تعلقات منقطع نہ کرنے کے فیصلے پر اندرونی مخالفت کو سیاسی نوعیت کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عملے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں اور فرائض غیر جانبداری، وفاداری اور غیرسیاسی انداز میں انجام دیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275769</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Aug 2025 22:52:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/1222234087c0fc7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/1222234087c0fc7.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
