<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور ہائیکورٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو نئے قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری سے روک دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275763/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) نے منگل کے روز قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ سینیٹر یوسف رضا گیلانی کو پارلیمنٹ کے ایوانوں میں نئے قائدینِ حزبِ اختلاف کی تقرری سے روک دیا ہے۔ یہ حکم اس وقت آیا جب چند روز قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے عمر ایوب اور شبلی فراز کو بالترتیب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدوں سے ڈی نوٹیفائی کیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ای سی پی کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئی ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی۔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اس پیش رفت کی تصدیق اپنے واٹس ایپ چینل پر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف مزید کارروائی سے بھی روک دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 5 اگست کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کئی ارکانِ اسمبلی، جن میں شبلی فراز، عمر ایوب، زرتاج گل اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا شامل ہیں، کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ یہ فیصلہ انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) فیصل آباد کی جانب سے 9 مئی کے فسادات سے متعلق مقدمات میں ان کی سزا کے بعد سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ چونکہ مذکورہ افراد کو اے ٹی سی نے مجرم قرار دیا ہے، لہٰذا وہ نااہل ہیں اور انہیں ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر ای سی پی کے مطابق، ان کی نشستیں خالی تصور کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں 8 اگست کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے عمر ایوب کو قائدِ حزبِ اختلاف کے منصب سے ہٹانے کی تصدیق کر دی اور اس عہدے کو باضابطہ طور پر خالی قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکرٹریٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی جلد نئے قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کے لیے نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سینیٹ میں بھی قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب خالی قرار دے دیا گیا، جب ای سی پی کی جانب سے نااہلی کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما شبلی فراز کو ان کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق شبلی فراز کی نااہلی 5 اگست سے موثر قرار پائی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی سینیٹ کی رکنیت ختم ہوئی بلکہ ایوانِ بالا میں قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب بھی ان سے واپس لے لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کئی سرکردہ رہنما اس وقت مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ 9 مئی 2023 کو ملک گیر پرتشدد مظاہروں میں ملوث تھے۔ یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے تھے جب پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کو ایک کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان 2023 سے جیل میں قید ہیں اور ان پر بدعنوانی، زمینوں پر قبضے اور ریاستی راز افشا کرنے جیسے الزامات کے تحت متعدد مقدمات چل رہے ہیں۔ ان کے خلاف 9 مئی کے فسادات سے متعلق بھی الگ سے مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا موقف ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت نے 9 مئی کے احتجاجی مظاہروں کو ہوا دی، جن میں مظاہرین نے راولپنڈی میں آرمی ہیڈکوارٹر اور لاہور میں جناح ہاؤس سمیت عسکری اور سرکاری تنصیبات پر حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سابق وزیرِاعظم عمران خان ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور موقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کے خلاف تمام مقدمات سیاسی انتقام کا شاخسانہ ہیں جن کا مقصد پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر ختم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) نے منگل کے روز قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ سینیٹر یوسف رضا گیلانی کو پارلیمنٹ کے ایوانوں میں نئے قائدینِ حزبِ اختلاف کی تقرری سے روک دیا ہے۔ یہ حکم اس وقت آیا جب چند روز قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے عمر ایوب اور شبلی فراز کو بالترتیب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدوں سے ڈی نوٹیفائی کیا تھا۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت ای سی پی کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئی ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی۔ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اس پیش رفت کی تصدیق اپنے واٹس ایپ چینل پر کی ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف مزید کارروائی سے بھی روک دیا ہے۔</p>
<p>الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 5 اگست کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کئی ارکانِ اسمبلی، جن میں شبلی فراز، عمر ایوب، زرتاج گل اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا شامل ہیں، کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ یہ فیصلہ انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) فیصل آباد کی جانب سے 9 مئی کے فسادات سے متعلق مقدمات میں ان کی سزا کے بعد سامنے آیا۔</p>
<p>الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ چونکہ مذکورہ افراد کو اے ٹی سی نے مجرم قرار دیا ہے، لہٰذا وہ نااہل ہیں اور انہیں ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر ای سی پی کے مطابق، ان کی نشستیں خالی تصور کی گئی ہیں۔</p>
<p>بعد ازاں 8 اگست کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے عمر ایوب کو قائدِ حزبِ اختلاف کے منصب سے ہٹانے کی تصدیق کر دی اور اس عہدے کو باضابطہ طور پر خالی قرار دے دیا۔</p>
<p>سیکرٹریٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی جلد نئے قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کے لیے نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔</p>
<p>ادھر سینیٹ میں بھی قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب خالی قرار دے دیا گیا، جب ای سی پی کی جانب سے نااہلی کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما شبلی فراز کو ان کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق شبلی فراز کی نااہلی 5 اگست سے موثر قرار پائی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی سینیٹ کی رکنیت ختم ہوئی بلکہ ایوانِ بالا میں قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب بھی ان سے واپس لے لیا گیا۔</p>
<p>پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کئی سرکردہ رہنما اس وقت مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ 9 مئی 2023 کو ملک گیر پرتشدد مظاہروں میں ملوث تھے۔ یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے تھے جب پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کو ایک کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔</p>
<p>عمران خان 2023 سے جیل میں قید ہیں اور ان پر بدعنوانی، زمینوں پر قبضے اور ریاستی راز افشا کرنے جیسے الزامات کے تحت متعدد مقدمات چل رہے ہیں۔ ان کے خلاف 9 مئی کے فسادات سے متعلق بھی الگ سے مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔</p>
<p>حکومت کا موقف ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت نے 9 مئی کے احتجاجی مظاہروں کو ہوا دی، جن میں مظاہرین نے راولپنڈی میں آرمی ہیڈکوارٹر اور لاہور میں جناح ہاؤس سمیت عسکری اور سرکاری تنصیبات پر حملے کیے۔</p>
<p>تاہم سابق وزیرِاعظم عمران خان ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور موقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کے خلاف تمام مقدمات سیاسی انتقام کا شاخسانہ ہیں جن کا مقصد پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر ختم کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275763</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Aug 2025 18:11:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/121801397115478.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/121801397115478.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
