<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:12:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:12:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 25 کے بجٹ نتائج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275761/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالیاتی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی اعداد و شمار حال ہی میں وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مالیاتی سرگرمیوں کے نتائج کو بعض اوقات ناکافی قرار دیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ ایف بی آر کی جانب سے وفاقی ٹیکس آمدنی میں نمایاں کمی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے لیے ان آمدنیوں کا متفقہ ہدف 12,970 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، جس کے لیے 40 فیصد کی بلند شرحِ نمو درکار تھی۔ تاہم، اصل ٹیکس وصولی 11,744 ارب روپے رہی، جو ہدف سے 1,226 ارب روپے کم ہے، یعنی ہدف سے 9.5 فیصد اور جی ڈی پی کے لحاظ سے 1.1 فیصد کی کمی۔ اس قدر بڑی کمی ماضی میں شاذ و نادر ہی دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس کارکردگی کا ایک نمایاں مثبت پہلو یہ ہے کہ مجموعی مالیاتی سرگرمیوں میں بجٹ خسارے کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا، وہ حاصل کر لیا گیا بلکہ اس سے بہتر نتیجہ سامنے آیا۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 2024-25 کے لیے بجٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کے 5.7 فیصد کے برابر تھا، جبکہ اصل خسارہ اس سے کم، یعنی جی ڈی پی کے 5.4 فیصد کے برابر رہا۔ اس کے علاوہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے ساتھ مقررہ ہدف سے زیادہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ خسارے میں کمی بھی خاصی نمایاں ہے۔ مالی سال 2023-24 میں یہ جی ڈی پی کے 6.8 فیصد کے برابر تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف ایک سال میں بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 1.4 فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ نتیجتاً، روپے کی قدر میں نسبتی استحکام کے ساتھ، مرکزی حکومت کا قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب مالی سال 2024-25 میں تقریباً 66 فیصد پر برقرار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی سوال یہ ہے کہ ایف بی آر کی آمدنی میں اتنی بڑی کمی کے باوجود بجٹ خسارے کا ہدف کس طرح حاصل کیا گیا؟ یہ ہدف صرف اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا تھا جب غیر ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوا ہو یا اخراجات میں کمی کی گئی ہو—اور درحقیقت، دونوں ہی شعبوں میں یہی نتائج سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ٹیکس آمدنی کا تناسب جی ڈی پی کے لحاظ سے اصل ہدف سے 0.3 فیصد زیادہ رہا۔ اسی طرح، مجموعی سرکاری اخراجات کا تناسب جی ڈی پی کے مقابلے میں 0.5 فیصد کم رہا۔ غیر ٹیکس آمدنی میں اضافے کی بڑی وجوہات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع اور پٹرولیم لیوی سے حاصل شدہ آمدنی کا بجٹ سے زیادہ ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑی کامیابی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کو بجٹ اندازے کے مقابلے میں محدود رکھنے میں رہی۔ مالی سال 2024-25 کے لیے سود کی ادائیگی کا تخمینہ 9,775 ارب روپے لگایا گیا تھا، جبکہ اصل خرچ 8,887 ارب روپے رہا، جس کا مطلب ہے 888 ارب روپے کی بڑی بچت۔ صرف یہی بچت ایف بی آر کی آمدنی میں کمی کا 72 فیصد حصہ پورا کرنے کے لیے کافی رہی۔ اس کی بنیادی وجہ شرحِ سود میں تیز کمی ہے، کیونکہ مالی سال کے دوران پالیسی ریٹ 22 فیصد سے گھٹ کر 11 فیصد تک آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، کمی کے باوجود ایف بی آر کی آمدنی میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کیونکہ ٹیکس برائے جی ڈی پی تناسب ایک سال میں 8.9 فیصد سے بڑھ کر 10.1 فیصد ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور خوش آئند پہلو یہ ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں کی آمدنی بالواسطہ ٹیکسوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔ انکم ٹیکس کی آمدنی میں تقریباً 28 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں (یعنی سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی وغیرہ) کی آمدنی میں اضافہ 24 فیصد کے لگ بھگ رہا ہے۔ نتیجتاً، وفاقی ٹیکس نظام بتدریج ایک ترقی پسند (پروگریسیو) سمت میں بڑھ رہا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ براہِ راست ٹیکس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وفاقی سطح پر ترقیاتی اخراجات میں شدید کمی کو بھی اجاگر کرنا ضروری ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ترقیاتی اخراجات کو صرف 768 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے، جو کہ جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد بنتا ہے۔ ایک دہائی قبل یہ تناسب 1.6 فیصد تھا اور اس سے پہلے یہ 2.5 فیصد سے بھی زیادہ رہا کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات کے تین کلیدی شعبے ہیں: آبی وسائل، شاہراہیں اور بجلی کی پیداوار و ترسیل۔ یہ شعبے مستقبل میں معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی انفرااسٹرکچر کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان شعبوں میں جاری منصوبوں کی لاگت کی ”تھرو-فارورڈ“ (یعنی مستقبل کی متوقع لاگت) مالی سال 2024-25 میں 3,163 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس سال ان منصوبوں پر اصل خرچ صرف 344 ارب روپے رہا۔ موجودہ رفتار سے اگر یہ منصوبے مکمل کیے جائیں تو ان کی تکمیل میں نو سال سے زائد کا وقت لگے گا۔ اس دوران منصوبوں کی لاگت میں نمایاں اضافہ (اسکیلےشن) بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبی وسائل کے منصوبوں پر خرچ اب بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے، خاص طور پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری اور پانی کے ممکنہ رخ موڑنے کے خطرے کے بعد۔ 2024-25 میں آبی وسائل کے جاری منصوبوں کی تھرو-فارورڈ لاگت 1,448 ارب روپے تھی، جبکہ اس شعبے کے لیے مختص رقم صرف 9 فیصد رہی۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ موجودہ مالی سال میں بھی اس شعبے کے لیے ترقیاتی فنڈنگ میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چاروں صوبوں کی جانب سے مجموعی طور پر بجٹ میں متعین کردہ کیش سرپلس (نقدی بچت) کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔ 2024-25 کے بجٹ تخمینوں میں کیش سرپلس کا ہدف 1,217 ارب روپے تھا، جبکہ اصل سرپلس صرف 921 ارب روپے رہا، یعنی 296 ارب روپے کی کمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہدف کے حاصل نہ ہونے کی بنیادی وجہ وفاقی محاصل کی منتقلی میں 650 ارب روپے سے زائد کی کمی اور صوبائی موجودہ و ترقیاتی اخراجات میں بالترتیب 26 فیصد اور 54 فیصد سے زائد کا بے قابو اضافہ ہے۔ یہ واضح ہے کہ صوبائی حکومتوں کو اپنے اخراجات پر بہتر کنٹرول اور نظم و ضبط کی ضرورت ہے تاکہ کیش سرپلس کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، انہیں وسائل پیدا کرنے کے لیے زیادہ جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی صوبائی حکومت کی کارکردگی کا مناسب پیمانہ کیش سرپلس (نقدی بچت) میں اضافہ کی شرح ہے۔ یہ شرح سب سے زیادہ سندھ میں 106 فیصد رہی، اس کے بعد خیبر پختونخوا میں 71 فیصد، پنجاب میں 64 فیصد، اور بلوچستان میں صرف 1 فیصد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اگر مالی سال 2024-25 کے بجٹ نتائج اور کارکردگی کی بنیاد پر 2025-26 کے امکانات کا جائزہ لیا جائے، تو سب سے اہم کام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے بجٹ خسارے میں مزید نمایاں کمی کو ہدف بنانا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.4 فیصد کے برابر کم کیا گیا۔ اب 2025-26 میں اسے مزید 1.5 فیصد کم کر کے 5.4 فیصد سے گھٹا کر 3.9 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک مشکل ہدف ثابت ہو سکتا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ایف بی آر کی آمدنی میں 20 فیصد سے زائد اضافہ درکار ہوگا، جبکہ متوقع ہے کہ اس سال برائے جی ڈی پی (نومینل جی ڈی پی) میں صرف 12 فیصد اضافہ ہوگا۔ مزید برآں، جولائی 2025 کے ابتدائی مہینے میں ہی ایف بی آر کی آمدنی میں کمی کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی متوقع ہے کہ مالی سال 2025-26 میں جاری اخراجات کی شرحِ نمو صرف 4 فیصد تک محدود رہے گی، جو 2024-25 کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ خاص طور پر، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا تخمینہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد کم لگایا گیا ہے۔ تاہم، 2025-26 میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اور اس سال کے لیے سود کی شرحوں کا منظرنامہ ابھی تک غیر واضح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2024-25 میں عوامی مالیات کے شعبے میں ہونے والی کامیابیوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے، ساتھ ہی کچھ خامیوں کو بھی اجاگر کرنا چاہیے۔ مالی سال 2025-26 بھی ایک چیلنجوں سے بھرپور سال ثابت ہونے جا رہا ہے۔ رواں سال کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں:ایف بی آر کی آمدنی میں مسلسل بلند شرح سے اضافہ اور جاری اخراجات میں اضافے کو موثر طریقے سے قابو میں رکھنا۔ بصورتِ دیگر بجٹ خسارے کا بہت کم ہدف، جو کہ جی ڈی پی کے صرف 3.9 فیصد کے برابر ہے، حاصل کرنا مشکل ہوگا اور یہ ہدف 2025-26 میں بھی آئی ایم ایف پروگرام کی توجہ کا مرکز بنا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالیاتی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی اعداد و شمار حال ہی میں وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>ان مالیاتی سرگرمیوں کے نتائج کو بعض اوقات ناکافی قرار دیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ ایف بی آر کی جانب سے وفاقی ٹیکس آمدنی میں نمایاں کمی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے لیے ان آمدنیوں کا متفقہ ہدف 12,970 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، جس کے لیے 40 فیصد کی بلند شرحِ نمو درکار تھی۔ تاہم، اصل ٹیکس وصولی 11,744 ارب روپے رہی، جو ہدف سے 1,226 ارب روپے کم ہے، یعنی ہدف سے 9.5 فیصد اور جی ڈی پی کے لحاظ سے 1.1 فیصد کی کمی۔ اس قدر بڑی کمی ماضی میں شاذ و نادر ہی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>تاہم اس کارکردگی کا ایک نمایاں مثبت پہلو یہ ہے کہ مجموعی مالیاتی سرگرمیوں میں بجٹ خسارے کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا، وہ حاصل کر لیا گیا بلکہ اس سے بہتر نتیجہ سامنے آیا۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 2024-25 کے لیے بجٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کے 5.7 فیصد کے برابر تھا، جبکہ اصل خسارہ اس سے کم، یعنی جی ڈی پی کے 5.4 فیصد کے برابر رہا۔ اس کے علاوہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے ساتھ مقررہ ہدف سے زیادہ رہا۔</p>
<p>بجٹ خسارے میں کمی بھی خاصی نمایاں ہے۔ مالی سال 2023-24 میں یہ جی ڈی پی کے 6.8 فیصد کے برابر تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف ایک سال میں بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 1.4 فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ نتیجتاً، روپے کی قدر میں نسبتی استحکام کے ساتھ، مرکزی حکومت کا قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب مالی سال 2024-25 میں تقریباً 66 فیصد پر برقرار رہا ہے۔</p>
<p>بنیادی سوال یہ ہے کہ ایف بی آر کی آمدنی میں اتنی بڑی کمی کے باوجود بجٹ خسارے کا ہدف کس طرح حاصل کیا گیا؟ یہ ہدف صرف اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا تھا جب غیر ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوا ہو یا اخراجات میں کمی کی گئی ہو—اور درحقیقت، دونوں ہی شعبوں میں یہی نتائج سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>غیر ٹیکس آمدنی کا تناسب جی ڈی پی کے لحاظ سے اصل ہدف سے 0.3 فیصد زیادہ رہا۔ اسی طرح، مجموعی سرکاری اخراجات کا تناسب جی ڈی پی کے مقابلے میں 0.5 فیصد کم رہا۔ غیر ٹیکس آمدنی میں اضافے کی بڑی وجوہات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع اور پٹرولیم لیوی سے حاصل شدہ آمدنی کا بجٹ سے زیادہ ہونا ہے۔</p>
<p>سب سے بڑی کامیابی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کو بجٹ اندازے کے مقابلے میں محدود رکھنے میں رہی۔ مالی سال 2024-25 کے لیے سود کی ادائیگی کا تخمینہ 9,775 ارب روپے لگایا گیا تھا، جبکہ اصل خرچ 8,887 ارب روپے رہا، جس کا مطلب ہے 888 ارب روپے کی بڑی بچت۔ صرف یہی بچت ایف بی آر کی آمدنی میں کمی کا 72 فیصد حصہ پورا کرنے کے لیے کافی رہی۔ اس کی بنیادی وجہ شرحِ سود میں تیز کمی ہے، کیونکہ مالی سال کے دوران پالیسی ریٹ 22 فیصد سے گھٹ کر 11 فیصد تک آ گیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ، کمی کے باوجود ایف بی آر کی آمدنی میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کیونکہ ٹیکس برائے جی ڈی پی تناسب ایک سال میں 8.9 فیصد سے بڑھ کر 10.1 فیصد ہو گیا ہے۔</p>
<p>ایک اور خوش آئند پہلو یہ ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں کی آمدنی بالواسطہ ٹیکسوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔ انکم ٹیکس کی آمدنی میں تقریباً 28 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں (یعنی سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی وغیرہ) کی آمدنی میں اضافہ 24 فیصد کے لگ بھگ رہا ہے۔ نتیجتاً، وفاقی ٹیکس نظام بتدریج ایک ترقی پسند (پروگریسیو) سمت میں بڑھ رہا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ براہِ راست ٹیکس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے۔</p>
<p>تاہم وفاقی سطح پر ترقیاتی اخراجات میں شدید کمی کو بھی اجاگر کرنا ضروری ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ترقیاتی اخراجات کو صرف 768 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے، جو کہ جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد بنتا ہے۔ ایک دہائی قبل یہ تناسب 1.6 فیصد تھا اور اس سے پہلے یہ 2.5 فیصد سے بھی زیادہ رہا کرتا تھا۔</p>
<p>وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات کے تین کلیدی شعبے ہیں: آبی وسائل، شاہراہیں اور بجلی کی پیداوار و ترسیل۔ یہ شعبے مستقبل میں معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی انفرااسٹرکچر کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔</p>
<p>ان شعبوں میں جاری منصوبوں کی لاگت کی ”تھرو-فارورڈ“ (یعنی مستقبل کی متوقع لاگت) مالی سال 2024-25 میں 3,163 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس سال ان منصوبوں پر اصل خرچ صرف 344 ارب روپے رہا۔ موجودہ رفتار سے اگر یہ منصوبے مکمل کیے جائیں تو ان کی تکمیل میں نو سال سے زائد کا وقت لگے گا۔ اس دوران منصوبوں کی لاگت میں نمایاں اضافہ (اسکیلےشن) بھی متوقع ہے۔</p>
<p>آبی وسائل کے منصوبوں پر خرچ اب بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے، خاص طور پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری اور پانی کے ممکنہ رخ موڑنے کے خطرے کے بعد۔ 2024-25 میں آبی وسائل کے جاری منصوبوں کی تھرو-فارورڈ لاگت 1,448 ارب روپے تھی، جبکہ اس شعبے کے لیے مختص رقم صرف 9 فیصد رہی۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ موجودہ مالی سال میں بھی اس شعبے کے لیے ترقیاتی فنڈنگ میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چاروں صوبوں کی جانب سے مجموعی طور پر بجٹ میں متعین کردہ کیش سرپلس (نقدی بچت) کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔ 2024-25 کے بجٹ تخمینوں میں کیش سرپلس کا ہدف 1,217 ارب روپے تھا، جبکہ اصل سرپلس صرف 921 ارب روپے رہا، یعنی 296 ارب روپے کی کمی۔</p>
<p>اس ہدف کے حاصل نہ ہونے کی بنیادی وجہ وفاقی محاصل کی منتقلی میں 650 ارب روپے سے زائد کی کمی اور صوبائی موجودہ و ترقیاتی اخراجات میں بالترتیب 26 فیصد اور 54 فیصد سے زائد کا بے قابو اضافہ ہے۔ یہ واضح ہے کہ صوبائی حکومتوں کو اپنے اخراجات پر بہتر کنٹرول اور نظم و ضبط کی ضرورت ہے تاکہ کیش سرپلس کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، انہیں وسائل پیدا کرنے کے لیے زیادہ جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔</p>
<p>کسی صوبائی حکومت کی کارکردگی کا مناسب پیمانہ کیش سرپلس (نقدی بچت) میں اضافہ کی شرح ہے۔ یہ شرح سب سے زیادہ سندھ میں 106 فیصد رہی، اس کے بعد خیبر پختونخوا میں 71 فیصد، پنجاب میں 64 فیصد، اور بلوچستان میں صرف 1 فیصد۔</p>
<p>اب اگر مالی سال 2024-25 کے بجٹ نتائج اور کارکردگی کی بنیاد پر 2025-26 کے امکانات کا جائزہ لیا جائے، تو سب سے اہم کام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے بجٹ خسارے میں مزید نمایاں کمی کو ہدف بنانا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.4 فیصد کے برابر کم کیا گیا۔ اب 2025-26 میں اسے مزید 1.5 فیصد کم کر کے 5.4 فیصد سے گھٹا کر 3.9 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ ایک مشکل ہدف ثابت ہو سکتا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ایف بی آر کی آمدنی میں 20 فیصد سے زائد اضافہ درکار ہوگا، جبکہ متوقع ہے کہ اس سال برائے جی ڈی پی (نومینل جی ڈی پی) میں صرف 12 فیصد اضافہ ہوگا۔ مزید برآں، جولائی 2025 کے ابتدائی مہینے میں ہی ایف بی آر کی آمدنی میں کمی کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔</p>
<p>یہ بھی متوقع ہے کہ مالی سال 2025-26 میں جاری اخراجات کی شرحِ نمو صرف 4 فیصد تک محدود رہے گی، جو 2024-25 کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ خاص طور پر، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا تخمینہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد کم لگایا گیا ہے۔ تاہم، 2025-26 میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اور اس سال کے لیے سود کی شرحوں کا منظرنامہ ابھی تک غیر واضح ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2024-25 میں عوامی مالیات کے شعبے میں ہونے والی کامیابیوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے، ساتھ ہی کچھ خامیوں کو بھی اجاگر کرنا چاہیے۔ مالی سال 2025-26 بھی ایک چیلنجوں سے بھرپور سال ثابت ہونے جا رہا ہے۔ رواں سال کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں:ایف بی آر کی آمدنی میں مسلسل بلند شرح سے اضافہ اور جاری اخراجات میں اضافے کو موثر طریقے سے قابو میں رکھنا۔ بصورتِ دیگر بجٹ خسارے کا بہت کم ہدف، جو کہ جی ڈی پی کے صرف 3.9 فیصد کے برابر ہے، حاصل کرنا مشکل ہوگا اور یہ ہدف 2025-26 میں بھی آئی ایم ایف پروگرام کی توجہ کا مرکز بنا رہے گا۔</p>
</blockquote>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275761</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Aug 2025 15:49:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/121519036f78474.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/121519036f78474.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
