<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:47:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:47:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ کیلئے امریکی فضائی امداد کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا، ذرائع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275750/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ذرائع کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکی فوج نے غزہ میں فضائی راستے سے خوراک کے متعدد آپریشنز کیے، جن کے ذریعے تقریباً 1,220 ٹن امداد پہنچائی گئی۔ تاہم موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس آپشن پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا، حالانکہ وہ اسرائیل کی تقریباً دو سالہ فوجی مہم کے دوران غزہ میں بھوک کے بحران پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی ڈراپ 2.1 ملین فلسطینیوں کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے، اس لیے یہ عملی حل نہیں ہے۔ اردن، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ جیسے قریبی اتحادی غزہ میں امداد کے فضائی ڈراپ کر چکے ہیں، لیکن امریکہ اس عمل میں شامل نہیں ہوا اور نہ ہی دوسرے ممالک کو اس حوالے سے لاجسٹک مدد فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امدادی ادارے بھی فضائی ڈراپ کو علامتی اقدام قرار دیتے ہیں کیونکہ غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد پہنچانے کے لیے زمینی راستے کھلنا ضروری ہیں۔ بھاری پیکجز شہریوں کے لیے خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ صدر ٹرمپ فلسطینیوں کی مدد کے لیے ”تخلیقی حل“ چاہتے ہیں اور کسی بھی مؤثر اقدام کا خیرمقدم کیا جائے گا، بشرطیکہ امداد حماس کے ہاتھ نہ لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے جولائی کے آخر میں فضائی ڈراپ کی اجازت دی تھی، تاہم امدادی گروپوں اور اقوام متحدہ نے اس عمل کو ناکافی اور خطرناک قرار دیا۔ غزہ میں دو سالہ جنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 60 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ بھوک اور غذائی قلت سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائیڈن نے اپنے دور میں نہ صرف فضائی ڈراپ کا حکم دیا بلکہ غزہ کے ساحل پر ایک عارضی پُل بھی تعمیر کرایا، جو تقریباً 20 دن فعال رہا اور اس پر 230 ملین ڈالر لاگت آئی، مگر خراب موسم اور تقسیم کے مسائل نے اس منصوبے کی افادیت محدود کر دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ذرائع کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکی فوج نے غزہ میں فضائی راستے سے خوراک کے متعدد آپریشنز کیے، جن کے ذریعے تقریباً 1,220 ٹن امداد پہنچائی گئی۔ تاہم موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس آپشن پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا، حالانکہ وہ اسرائیل کی تقریباً دو سالہ فوجی مہم کے دوران غزہ میں بھوک کے بحران پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی ڈراپ 2.1 ملین فلسطینیوں کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے، اس لیے یہ عملی حل نہیں ہے۔ اردن، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ جیسے قریبی اتحادی غزہ میں امداد کے فضائی ڈراپ کر چکے ہیں، لیکن امریکہ اس عمل میں شامل نہیں ہوا اور نہ ہی دوسرے ممالک کو اس حوالے سے لاجسٹک مدد فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>امدادی ادارے بھی فضائی ڈراپ کو علامتی اقدام قرار دیتے ہیں کیونکہ غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد پہنچانے کے لیے زمینی راستے کھلنا ضروری ہیں۔ بھاری پیکجز شہریوں کے لیے خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔</p>
<p>وہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ صدر ٹرمپ فلسطینیوں کی مدد کے لیے ”تخلیقی حل“ چاہتے ہیں اور کسی بھی مؤثر اقدام کا خیرمقدم کیا جائے گا، بشرطیکہ امداد حماس کے ہاتھ نہ لگے۔</p>
<p>اسرائیل نے جولائی کے آخر میں فضائی ڈراپ کی اجازت دی تھی، تاہم امدادی گروپوں اور اقوام متحدہ نے اس عمل کو ناکافی اور خطرناک قرار دیا۔ غزہ میں دو سالہ جنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 60 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ بھوک اور غذائی قلت سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>بائیڈن نے اپنے دور میں نہ صرف فضائی ڈراپ کا حکم دیا بلکہ غزہ کے ساحل پر ایک عارضی پُل بھی تعمیر کرایا، جو تقریباً 20 دن فعال رہا اور اس پر 230 ملین ڈالر لاگت آئی، مگر خراب موسم اور تقسیم کے مسائل نے اس منصوبے کی افادیت محدود کر دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275750</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Aug 2025 12:08:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/121206258c4aa45.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/121206258c4aa45.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
