<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 18:28:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 18:28:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی پینل کی کمپنیز ایکٹ 2017 میں بڑی ترامیم کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275728/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریگولیٹری اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کی ذیلی کمیٹی نے کمپنیز ایکٹ 2017 میں نمایاں ترامیم کی سفارش کی ہے تاکہ پاکستان کے کارپوریٹ نظام کو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجاویز پیر کے روز ایک اجلاس میں زیرِ بحث آئیں، جس کی صدارت وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے کی۔ اجلاس کے حوالے سے ایک سرکاری پریس ریلیز بھی جاری کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اسکاٹ جیکبز کے علاوہ بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (سی ای سی پی) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے نمائندے شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اجلاس میں ایس ای سی پی اور بی او آئی نے کمپنیز ایکٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مشترکہ طور پر سفارشات کا ایک پیکیج پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اراکین کی تعداد کی حد ختم کرنے، کارپوریٹ اسٹرکچر میں لچک اور غیر ضروری پابندیاں ختم کرنے کی تجاویز&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیلی کمیٹی کی پیش کردہ اہم تجاویز میں شامل ہیں: نجی اور عوامی کمپنیوں میں اراکین کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ تعداد کی حد ختم کرنا، کارپوریٹ اسٹرکچر میں زیادہ لچک متعارف کرانا اور ایسے قوانین و ضوابط کو ختم کرنا جو غیر ضروری پابندیاں پیدا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ متفقہ سفارشات کو بلا تاخیر مسودے کی شکل دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ضروری ریگولیشنز، طریقہ کار میں تاخیر، اور کاروبار میں آسانی کے خلاف رکاوٹیں ملک میں کاروباری اداروں کے لیے سنگین چیلنجز بن چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر نے مزید کہا کہ موجودہ قانون کی کئی دفعات فرسودہ ہو چکی ہیں اور یہ جدید کارپوریٹ ڈھانچوں میں جدت کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریگولیٹری اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کی ذیلی کمیٹی نے کمپنیز ایکٹ 2017 میں نمایاں ترامیم کی سفارش کی ہے تاکہ پاکستان کے کارپوریٹ نظام کو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔</strong></p>
<p>یہ تجاویز پیر کے روز ایک اجلاس میں زیرِ بحث آئیں، جس کی صدارت وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے کی۔ اجلاس کے حوالے سے ایک سرکاری پریس ریلیز بھی جاری کی گئی۔</p>
<p>اجلاس میں اسکاٹ جیکبز کے علاوہ بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (سی ای سی پی) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے نمائندے شریک ہوئے۔</p>
<p>حکام کے مطابق اجلاس میں ایس ای سی پی اور بی او آئی نے کمپنیز ایکٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مشترکہ طور پر سفارشات کا ایک پیکیج پیش کیا۔</p>
<p>اراکین کی تعداد کی حد ختم کرنے، کارپوریٹ اسٹرکچر میں لچک اور غیر ضروری پابندیاں ختم کرنے کی تجاویز</p>
<p>ذیلی کمیٹی کی پیش کردہ اہم تجاویز میں شامل ہیں: نجی اور عوامی کمپنیوں میں اراکین کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ تعداد کی حد ختم کرنا، کارپوریٹ اسٹرکچر میں زیادہ لچک متعارف کرانا اور ایسے قوانین و ضوابط کو ختم کرنا جو غیر ضروری پابندیاں پیدا کرتے ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ متفقہ سفارشات کو بلا تاخیر مسودے کی شکل دی جائے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ضروری ریگولیشنز، طریقہ کار میں تاخیر، اور کاروبار میں آسانی کے خلاف رکاوٹیں ملک میں کاروباری اداروں کے لیے سنگین چیلنجز بن چکی ہیں۔</p>
<p>ہارون اختر نے مزید کہا کہ موجودہ قانون کی کئی دفعات فرسودہ ہو چکی ہیں اور یہ جدید کارپوریٹ ڈھانچوں میں جدت کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275728</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Aug 2025 21:53:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/11214155f14bc08.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/11214155f14bc08.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
